'خادم' بھی جیل میں!

لالو پرساد تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption لالو پرساد فیصلہ آنے سے پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) انھیں بدنام کرنا چاہتی ہے

انڈیا میں پولیس کو خوش کرنا بھی آسان کام نہیں، جو جیل نہیں جانا چاہتے انھیں پولیس بخشتی نہیں، اور جو ہنسی خوشی جانا چاہتے ہیں انھیں شک کی نگاہ سے دیکھتی ہے!

بہار کے سابق وزیر اعلی لالو پرساد یادو کو بدنام زمانہ 'چارہ گھپلے' میں جیل بھیجا گیا ہے۔ انھیں بدعنوانی کے کئی الزامات کا سامنا ہے اور ان میں سے دو مقدمات میں انھیں سزا سنائی جا چکی ہے۔

چارہ گھپلے میں الزام یہ ہے کہ سیاستدانوں اور سرکاری افسران نے سنہ 1990 کے عشرے میں ساز باز کرکے سرکاری خزانے سے اربوں روپے نکالے تھے، بظاہر مقصد تھا مویشیوں کے لیے چارہ خریدنا، بس کبھی چارہ خریدا نہیں گیا۔

بس اتنی سی بات تھی۔ لالو یادو ان الزامات کو مسترد کرتے ہیں، اور ظاہر ہے کہ جیل جانے سے بچتے رہے ہیں، لیکن پولیس اور عدالتیں کہاں مانتی ہیں اور آخر کار انھیں سلاخوں کے پیچھے پہنچا ہی دیا گیا۔

لیکن لالو پرساد یادو کے دو 'مداحوں' کی کہانی اس کے بالکل برعکس ہے۔ وہ خود اپنی مرضی سے جیل گئے ہیں، نہ پولیس کو لمبی تفتیش کرنا پڑی، نہ گرفتاری کے لیے چھاپے مارنے پڑے اور نہ عدالت سے گرفتاری کا وارنٹ مانگنا پڑا۔

تصویر کے کاپی رائٹ NEERAJ SINHA
Image caption بہار کے سابق وزیر اعلی جگن ناتھ مشرا کو اس مقدمے میں بری کردیا گیا

پھر بھی پولیس خوش نہیں ہے اور اس پورے واقعے کی تفتیش کی جا رہی ہے۔ مشرقی ریاست جھار کھنڈ سے آنے والی خبروں کے مطابق پولیس کا خیال ہے کہ یہ لوگ مسٹر یادو کی 'خدمت' کرنے کے لیے ایک فرضی مقدمے میں رانچی کی اسی جیل میں پہنچ گئے ہیں جہاں وہ قید ہیں۔

ان میں سے ایک مدن یادو کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ دو گو شالا چلاتے ہیں، ان کے پاس عالیشان مکان ہے اور بڑی گاڑی بھی۔ لیکن ان پر ایک شخص سے دس ہزار روپے چھیننے کا الزام ہے۔ جیل جانے والا دوسرا شخص لکشمن ان کا دوست بتایا گیا ہے جس نے اس 'جرم' میں ان کی مدد کی تھی۔ لیکن بعض رپورٹوں کے مطابق لکشمن ماضی میں مسٹر یادو کے باورچی کے طور پر بھی خدمات انجام دے چکے ہیں۔

لالو پرساد یادو کی پارٹی کا کہنا ہے کہ گرفتار ہونے والے دونوں شخص پارٹی کے رکن ضرور ہیں لیکن اس سے زیادہ کچھ نہیں اور سابق وزیر اعلی نے کبھی کسی کو جیل جانے کے لیے نہیں کہا تھا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ان کے خلاف مقدمہ اسی دن قائم کیا گیا جس دن لالو پرساد یادو کو سزا ہوئی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ NIRAJ SINHA/BBC
Image caption لالو یادو اپنے اہل خانہ اور پارٹی اراکین کے ساتھ

اب ظاہر ہے کہ پولیس یہ ثابت کرنے کی کوشش کرے گی کہ مقدمہ جھوٹا ہے، اور مقدمہ قائم کرانے والا اور گرفتار ہونے والے کہیں گے کہ نہیں، انھوں نے پیسے چھینے تھے اور انھیں سزا ملنی چاہیے!

لالو یادو کو سزا سنانے والے جج نے اپنے فیصلے میں تجویز بھی پیش کی تھی کہ تمام مجرموں کو ہزاری باغ کی کھلی جیل میں سزا کاٹنے دی جائے کیونکہ وہاں کی آب و ہوا بھی اچھی ہے اور جیل میں ایک ڈیئری بھی چلائی جاتی ہے جس میں یہ لوگ کام کرسکتے ہیں کیونکہ انھیں مویشیوں کے بارے میں کافی مہارت حاصل ہے۔

جرم ثابت ہونے کے بعد مسٹر یادو اور دیگر افراد نے عدالت سے درخواست کی تھی کہ ان کی عمر اور صحت کے مد نظر انھیں زیادہ سخت سزا نہ دی جائے۔

اگر واقعی انھیں ہزاری باغ جیل بھیج دیا جاتا ہے، تو انھیں انجام کار انھی مویشیوں کی خدمت کرنے کا موقع ملے گا جن کا چارہ بیچ میں ہی غائب کردینے کا ان پر الزام تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption جیل میں اطلاعات کے مطابق گوشالہ بھی ہے

اور پھر مدن اور لکشمن کا کیا ہوگا؟ اگر وہ واقعی سازش کر کے جیل گئے ہیں تو یہ ضرور سوچ رہے ہوں گے کہ فرضی مقدمہ قائم کرانے پر سزا زیادہ ہے یا کسی سے دس ہزار روپے چھیننے پر، دونوں میں سے ایک کی سزا تو انھیں بھگتنی ہی پڑے گی!

اگر یہ دونوں واقعی 'بھائی چارے' میں جیل گئے ہیں تو انھیں جلدی ہی احساس ہو جائے گا کہ جیل جانا جتنا آسان ہے، باہر آنا اتنا ہی مشکل، مقصد چاہے کسی کی خدمت کرنا ہی کیوں نہ ہو!

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں