قطری شاہی خاندان کے فرد ’جبراً ابو ظہبی میں قید‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption شیخ عبداللہ نے متنبہ کیا ہے کہ اگر ان کو کچھ ہوا تو متحدہ عرب امارات کے ولی عہد محمد بن زیاد النہیان ذمہ دار ہوں گے۔

قطر کے شاہی خاندان کے ایک رکن کا کہنا ہے کہ انہیں ان کی مرضی کے بغیر متحدہ عرب امارات میں رکھا گیا ہے۔

ویڈیو پیغام میں شیخ عبداللہ بن علی الثانی کا کہنا ہے کہ پہلے تو وہ متحدہ عرب امارات کے مہمان تھے لیکن اب انہیں حراست میں رکھا ہوا ہے۔

ویڈیو پیغام میں شیخ عبداللہ نے متنبہ کیا ہے کہ اگر انہیں کچھ ہوا تو ابو ظہبی کے ولی عہد محمد بن زیاد النہیان ذمہ دار ہوں گے۔

انھوں نے پیغام میں مزید کہا ’متحدہ عرب امارات مجھے کچھ ہونے کی صورت میں قطر پر الزام لگائیں گے لیکن قطر کا اس میں کوئی ہاتھ نہیں ہو گا۔‘

مزید پڑھیے

قطر خلیجی ممالک کو کھٹکتا کیوں ہے؟

قطر کے ساتھ کشیدگی کی چار وجوہات

یاد رہے کہ گذشتہ سال جون میں سعودی عرب اور مصر سمیت چھ عرب ممالک نے قطر پر خطے کو غیر مستحکم کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے اس سے سفارتی تعلقات منقطع کرنے کا اعلان کیا تھا۔

واضح رہے کہ شیخ عبداللہ سعودی عرب اور قطر کے درمیان کشیدگی میں ایک اہم کردار کے طور پر ابھرے تھے۔

شیخ محمد کا تعلق قطر کے بانی کی اولاد میں سے ہیں لیکن گذشتہ کئی دہائیوں سے ان کے خاندان کو سائیڈ لائن کیا ہوا ہے۔

انھوں نے سفارتی طور پر اس وقت کامیابی حاصل کی جب سعودی عرب نے قطر کے ساتھ سرحد بند کر دی اور انھوں نے اس سرحد کو کھلوانے میں اہم کردار ادا کیا تاکہ قطری افراد کو حج کے لیے جانے میں مشکل نہ ہو۔

ان کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ وہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے کہنے پر کام کر رہے ہیں۔ اور اس قسم کی افواہیں گردش کر رہی تھیں کہ وہ قطر کے نئے امیر ہو سکتے ہیں۔

تاہم متحدہ عرب امارات کے شیخ عبداللہ کی جانب سے لگائے جانے والے الزام کی سختی سے تردید کی ہے۔

متحدہ عرب امارات کے حکام کا کہنا ہے کہ شیخ عبداللہ آزاد ہیں اور وہ جب چاہیں جا سکتے ہیں۔

نامہ نگار سباسچیئن اشر کا کہنا ہے کہ خلیج میں بڑا دلچسپ وقت ہے۔ گذشتہ نومبر میں لبنان کے وزیر اعظم سعد حریری نے سعودی عرب میں میں مستعفی ہونے کا اعلان کیا تھا۔ اس استعفے کی وجہ سے سوالات نے جنم لیا کہ کیا ان کو اپنی مرضی کے خلاف سعودی عرب میں رکھا گیا تھا۔

اس واقعے کے کچھ عرصے بعد مصر کے سابق وزیر اعظم احمد شفیق نے ایک ویڈیو پوسٹ کی تھی جس میں انھوں نے کہا تھا کہ وہ متحدہ عرب امارات میں ہیں اور ان کو ملک چھوڑنے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔

کچھ دنوں بعد ہی ان کو مصر جانے کی اجازت دے دی گئی اور انھوں نے مصر پہنچ کر اعلان کیا کہ وہ آئندہ آنے والے انتخابات میں حصہ نہیں لے رہے۔

اسی بارے میں