سری لنکا: خاتون کو شراب خریدنے کے حق، نوٹیفکیشن واپس

شراب تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption عالمی ادارۂ صحت کے ایک سروے کے مطابق سری لنکا میں تقریباً 80 فیصد خواتین نے کبھی شراب نہیں پی ہے

سری لنکا کے صدر نے قانونی طور پر شراب خریدنے کے لیے خواتین کو مردوں کے مساوی حقوق دیے جانے کی ایک کوشش کو مسترد کر دیا ہے۔

صدر میتھری پال سری سینا نے ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے حکومت کو یہ حکم دیا ہے کہ وہ اس اصلاح کو واپس لے لے جس کے تحت خواتین بھی بغیر پرمٹ کے بارز میں کام کر سکتی ہیں۔

انھوں نے کہا کہ انھیں ایسی کسی پیش قدمی کے بارے میں اخبار سے اطلاع ملی تھی۔

حکومت نے بدھ کو اعلان کیا تھا کہ وہ سنہ 1955 کے ایک قانون میں ترمیم کر رہی ہے کیونکہ یہ خواتین کے مساوی حقوق کے مخالف ہے۔

یہ بھی پڑھیے

٭ کم عمری کی شادیوں کی متاثرہ مسلمان لڑکیاں

٭ خواتین مے نوشی میں مردوں کے برابر

٭ 'خواتین کے لیے فٹ رہنے کے انوکھے مشورے'

ناقدین نے صدر کو صنفی مساوات کو سنجیدگی سے نہ لینے کے لیے تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

سری لنکا کے ایک بلاگر نے لکھا: 'یہ صرف صنفی تعصب پر مبنی فرسودہ قانون کی بات نہیں بلکہ یہ پرانے صنفی تعصبات والے نظام کی بات ہے جس میں یہ کنٹرول کا ایک اور حربہ ہے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption صدر سری سینا گذشتہ تین سال سے ملک کے صدر ہیں اور وہ شراب مخالف مہم کے لیے جانے جاتے ہیں

ہر چند کے پرانے قانون پر سختی سے عمل نہیں ہوتا تھا تاہم سری لنکا کی خواتین نے اس تبدیلی کا خیر مقدم کیا تھا کیونکہ اس کے تحت 60 سال میں پہلی بار 18 سال سے زیادہ عمر کی خواتین قانونی طور پر شراب خرید سکتی تھیں۔

خیال رہے کہ بودھ مذہب کی اکثریت والے ملک میں بودھ بھکشوؤں نے اس کے متعلق پابندی کے ہٹائے جانے کی یہ کہتے ہوئے تنقید کی تھی کہ یہ اقدام سری لنکا کی خاندانی ثقافت کو برباد کر دے گا اور زیادہ خواتین کو شراب نوشی کی لت لگ جائے گی۔

صدر سری سینا نے کہا کہ انھوں نے حکومت کے اقدام کی تنقید سنی ہے اور حکومت کو یہ حکم دیا ہے کہ وہ پابندی ہٹانے کے اپنے نوٹیفیکیشن کو واپس لے۔

بہت سے لوگوں کے لیے ان کا یہ اعلان باعث حیرت نہیں تھا کیونکہ وہ شراب نوشی کے خلاف مہم چلانے کے لیے جانے جاتے ہیں اور انھوں نے ماضی میں سری لنکا کی خواتین کے شراب پینے پر متنبہ کرتے ہوئے کہا اس میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے اصلاح کا اچانک مسترد کیا جانا بتاتا ہے کہ حکومت میں اختلاف رائے ہے۔

اسی بارے میں