کیا انڈیا میں بچے مسلمان ہونے کی سزا بھگت رے ہیں؟

مسلمان سکولی بچے تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

ایسے سکول اور کھیل کے میدان بچوں کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں جہاں انھیں باقی بچوں سے الگ تھلگ کر دیا جاتا ہے اور پریشان کیا جاتا ہے۔

سکولوں میں ہراساں کیے جانے کے بیشتر معاملات میں بچے اکثر دکھاوے، رنگت، کھانے پینے کی عادات، خواتین کے لیے تنگ نظری، ہوموفوبیا اور نسل پرستی کے ذریعے اپنے ساتھ پڑھنے والے بچوں کو تکلیف پہنچاتے ہیں۔

انڈیا میں شائع ہونے والی ایک نئی کتاب ‘مدرنگ اے مسلم‘ کے مطابق انڈیا اور پوری دنیا میں بڑھنے والے اسلاموفوبیا کی وجہ سے سکولوں میں بچوں کو ان کے مذہب کی وجہ سے زیادتی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

’تقسیم کے زخم کی چبھن 70 برس بعد بھی کم نہ ہو سکی‘

مسلمان بھی ہجومی تشدد میں کسی سے کم نہیں

’فضائیہ کے مسلمان ملازم داڑھی نہیں رکھ سکتے‘

مصنفہ نازیہ ارم اس کتاب کو لکھنے کے لیے ملک کے بارہ شہروں میں گئیں جہاں وہ 145 خاندانوں سے ملیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے دہلی کے 25 بڑے سکولوں میں پڑھنے والے 100بچوں سے بات کی۔

یہ بھی پڑھیے

انڈیا: مسلمان طالب علم پر ’داڑھی نہ رکھنے کا دباؤ‘

مسلمان کشمیری پنڈت کون ہیں؟

’سیاسی طور پر ہندو ہندو نہیں رہیں گے اور مسلمان مسلمان‘

تصویر کے کاپی رائٹ NOAH SEELAM/AFP/Getty Images

‘یہ مذاق نہیں بلکہ ہراساں کیا جانا ہے‘

نازیہ ارم نے بی بی سی کو بتایا کہ ‘اپنی ریسرچ کے دوران میں حیران رہ گئی۔ میں نے یہ نہیں سوچا تھا کہ ان بڑے بڑے سکولوں میں ایسا ہو رہا ہوگا۔‘

وہ سوال کرتی ہیں کہ ‘جب پانچ اور چھ برس کے بچے کہتے ہیں کہ انہیں پاکستانی یا شدت پسند کہا جا رہا ہے تو آپ کیا جواب دیں گے؟ آپ سکولوں سے کیا شکایت کریں گے؟‘

وہ بتاتی ہیں کہ ‘ان میں سے بہت ساری باتیں مذاق میں کہی جاتی ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ اس مذاق سے کسی کو کوئی نقصان نہیں ہو رہا ہے، لیکن ایسا نہیں ہے۔ یہ ہراساں کیا جانا اور استحصال ہے۔‘

ارم نے اپنی کتاب کے لیے جن بچوں سے بات کی انھوں نے بتایا کہ ان سے کون کون سے سوالات کیے جاتے ہیں۔

•کیا تم مسلمان ہو؟ میں مسلمانوں سے نفرت کرتا ہوں۔

• کیا تمہارے پاپا گھر پر بم بناتے ہیں؟

•کیا تمہارے پاپا طالبان ہیں؟

•کیا تم پاکستانی ہو؟

•کیا تم شدت پسند ہو؟

•اسے غصہ مت دلاؤ وہ تمہیں بم سے اڑا دے گا۔

اس کتاب کے بازار میں آنے کے بعد سے سکولوں میں مبینہ طور پر موجود مذہبی بنیاد پر تعصب کے بارے میں انڈیا میں بحث جاری ہے۔ گذشتہ ہفتے انڈیا میں MotheringAMuslim # ٹوئٹڑ پر ٹرینڈ کر رہا تھا۔ اس ہیش ٹیگ کے ساتھ لوگ اپنے تجربات سوشل میڈیا پر لکھ رہے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Nazia Erum

غلط تصویر پیش کی جا رہی ہے

انڈیا کی 1.3ارب آبادی میں سے 80 فیصد آبادی ہندو اور 14.2 فیصد آبادی مسلمان ہے۔ ویسے تو انڈیا میں دونوں مذاہب کے افراد امن کے ساتھ رہتے آئے ہیں لیکن 1947میں جب ایک ملک دو حصوں انڈیا اور پاکستان میں تقسیم ہوا تب سے مذہب کے بنیاد پر اختلافات اندر ہی اندر ابل رہے ہیں۔

تقسیم کے دوران بہت خون خرابا ہوا اور پانچ سے دس لاکھ کے درمیان ہلاکتیں ہوئیں۔

ارم کہتی ہیں کہ مسلم مخالف رویہ تو 1990 کی دہائی میں بابری مسجد کو مسمار کیے جانے کے بعد سے ہی محسوس کیا جا سکتا ہے لیکن حال میں اس رویے میں اضافہ ہوا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

انڈین مسلمان قانون کا پاس رکھیں: جناح

'مسلمان گائے کا گوشت ترک کرکے پہل کریں'

مسلمان اب کسی کا ووٹ بینک نہیں

انھوں نے بتایا کہ سنہ 2014 میں جب وہ پہلی مرتبہ ماں بنیں تب سے اس بارے میں زیادہ محتاط ہو گئی ہیں۔ ارم کہتی ہیں کہ وہ بیٹی کا نام مائرہ رکھنے سے بھی گھبرا رہی تھیں۔

اس دور میں انڈیا میں بی جے پی ملک کو مذہب کی بنیاد پر تقسیم کی مہم چلا رہی تھی۔ ان کے مطابق وزیراعظم نریندر مودی کو حکومت میں آنے کے بعد اس سے فائدہ بھی ہوا۔

اس وقت ہندو قوم پرست احساسات کو بڑھاوا مل رہا تھا اور کچھ ٹی وی چینل مسلمانوں کا امیج خراب کر کے پیش کر رہے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Nazia Erum

دنیا بھر میں ماحول میں تبدیلی

ارم کہتی ہیں کہ ‘سنہ 2014 سے ایک مسلمان کے طور پر میری پہچان آگے ہو گئی اور میری دوسری کوئی بھی اور پہچان پیچھے رہ گئی۔ پوری مسلمان برادری میں ایک خوف صاف محسوس کیا جا سکتا تھا۔ اس کے بعد سے دراڑ اور بڑھتی چلی گئی۔ ٹی وی پر لوگوں کو تقسیم کرنے والے بیانات اور بحثوں نے تعصب کو بڑھاوا دیا جو والدین کے ساتھ اب بچوں تک بھی پہنچ گیا ہے۔‘

ارم کہتی ہیں کہ ‘کھیل کے میدان، کلاس اور سکول بس تک میں مسلمان بچوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ اسے دوسرے بچوں سے الگ تھلگ کر دیا جاتا ہے۔ اسے پاکستانی، آئی ایس، بغدادی اور شدت پسند کہہ کر بلایا جاتا ہے۔‘

اپنی کتاب میں انھوں نے کچھ بچوں کی زبان سے بتائی گئی باتیں لکھی ہیں۔

•ایک پانچ سال کی بچی اس بات سے خوفزدہ ہے کہ مسلمان آ رہے ہیں اور وہ اسے مار ڈالیں گے۔ اسے یہ نہیں معلوم کہ وہ خود ایک مسلمان ہے۔

•ایک دس سال کے بچے کو اس وقت بہت شرمندگی محسوس ہوئی اور غصہ آیا جب یورپ میں شدت پسند حملے کے بعد سکول میں ایک بچے نے اس سے پوچھا کہ یہ تم نے کیا کیا۔

•ایک 17 سال کے لڑکے کو سکول میں شدت پسند کہا گیا۔ جب اس کی ماں نے ایسا کہنے والے بچے کی ماں سے رابطہ کیا تو اس کی ماں نے جواب میں کہا کہ تمہارے بیٹے نے میرے بیٹے کو موٹا کہا تھا۔

مذہب کی بنیاد پر پریشان کیے جانے کے معاملے صرف انڈیا تک محدود نہیں ہیں۔ ایسا پوری دنیا میں ہو رہا ہے۔

امریکہ میں اسے ‘ٹرمپ افیکٹ‘ کہا جاتا ہے۔ ان کے یہاں ایسی رپورٹز آئی تھیں کہ امریکی صدارتی انتخابات کے دوران بچوں میں خوف اور فکر میں اضافہ ہوا تھا۔ اس کے علاوہ کلاسوں میں نسلی بنیاد پر دباؤ بھی بڑھ گیا تھا۔

تو کیا انڈیا کے سکولوں میں بچوں کو پریشان کیے جانے کے واقعات میں اضافے کو ‘مودی افیکٹ‘ کہا جا سکتا ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

مذہب کی بنیاد پر تعصب

ارم کہتی ہیں کہ ‘سبھی سیاست دان ایک جیسی زبان استعمال کرتے ہیں۔ ایسا کرنے والوں میں اسلامی پارٹیاں بھی شامل ہیں۔‘

وہ کہتی ہیں کہ سکولوں نے یہ ماننے سے انکار کر دیا ہے کہ ان کے یہاں مذہب کی بنیاد پر بچوں کو پریشان کیا گیا ہے۔

اس کی یہ وجہ ہو سکتی ہے کہ زیادہ تر معالات میں شکایت نہیں کی جاتی ہے۔ بچے خود نہیں چاہتے ہیں کہ ان کے ساتھی انہیں چغل خور کے طور پر دیکھیں۔ بہت سے والدین اسے ایک عام بات سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں۔

لیکن فکر کی بات یہ ہے کہ مسلمان والدین اپنے بچوں سے کہنے لگے ہیں کہ ہمیشہ اچھی تہذیب کا مظاہرہ کریں، کسی کے ساتھ بحث نہ کریں، بم اور بندوقوں والی گیمز میں اچھا نہ کھیلیں، ہوائی اڈے پر چٹکلے مت سنائیں اور گھر سے باہر نکلتے وقت ایسی پوشاک مت پہنیں جس سے ان کی شناخت آسان ہو۔

ارم کہتی ہیں کہ ’والدین اور سکولوں کو مذہب کی بنیاد پر ہراساں کیے جانے کا مقابلہ کرنے کی ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے۔ پہلے قدم کے طور پر تسلیم کیا جانا چاہیے کہ یہ ایک مسئلہ ہے۔ اور پھر اس بارے میں بات کی جانی چاہیے۔ ایک دوسرے کو الزام دینے سے کچھ نہیں ہوگا۔‘

ارم کا خیال ہے کہ ‘اگر اس مسئلے کو حل نہ کیا گیا تو یہ مسئلہ صرف اخباروں اور خبروں تک محدود نہیں رہے گا۔ کیوں کہ نفرت سب کچھ نگل جاتی ہے۔ اس کا اثر ظلم کرنے والے اور ظلم برداشت کرنے والے دونوں پر پڑتا ہے۔‘

اسی بارے میں