مشکلات کا شکار عام آدمی پارٹی مخالفین کے لیے اب بھی چیلینج

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption کیجریوال نے پارٹی سے باہر کے بزنس مین اور ایک چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ کو ایوان بالا کے لیے نامزد کیا جس پر پارٹی کے اندر خاصی ناراضگی ہے ۔

اروند کیجریوال کی عام آدمی پارٹی ایک بار پھر مشکلوں میں گھر گئی ہے ۔انڈیا کے الیکشن کمیشن نے دلی اسمبلی میں عام آدمی پارٹی کے بیس ارکان کو نا اہل قرار دینے کی سفارش کی ہے ۔ ان ارکان پر الزام ہے کہ انہیں غیر آئینی طورپر پارلیمانی سکریٹری مقرر کیا گیا ۔ آئین کی رو سے ارکان پارلیمان اور اسمبلی ایسے کسی عہدے پر فائز نہیں ہو سکتے جس سے انہیں کسی طرح کا مالی فائدہ ہوتا ہو۔ الیکشن کمیشن کی سفارش کے بعد ان بیس ارکان کو صدر مملکت کسی بھی وقت نااہل قرار دے سکتے ہیں ۔عام آدمی پارٹی اس فیصلے کے خلاف عدالت جائے گی لیکن اس صورتحال میں کسی تبدیلی کے کوئی آثار نہیں ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption اگر انتخابات ہوئے تو یہ کانگریس اور بی جے پی کے لیے دلی میں اپنی کھوئی ہوئی جگہ حاصل کرنے کا ایک بہترین موقع ہو گا ۔

ان ارکان اسمبلی کو نا اہل قرار دیے جانے کے ساتھ ہی دلی میں ضمنی انتخاب جیسی صورت پیدا ہو جا ئے گی۔ نا اہلی کے چھ مہینے کے اندر ان ارکان کی جگہ پر کرنے کے لیے انتخابات کرانے ہونگے۔ نااہلی کے باوجود عام آدمی پارٹی کی حکومت پر کوئی اثر نہیں پڑے گا ۔ پارٹی کو ستر رکنی اسمبلی میں 67 سیٹیں ملی تھیں اور بیس ارکان کے چلے جانے کے باوجود اسے اسمبلی میں بھاری اکثریت حاصل رہے گی ۔ فی الحال اروند کیجریوال کی حکومت کو کوئی خطرہ نہیں ہے ۔ لیکن بی جے پی اور کانگریس دونوں جماعتیں اخلاقی بنیادوں پر کیجریوال سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔

یہ صورتحال ایک ایسے وقت میں پیدا ہوئی ہے جب ‏عام آدمی پارٹی اندورنی انتشار سے گزر رہی ہے ۔ پارٹی کے کم از کم سات ارکان وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال کی قیادت کے خلاف بغاوت پر آمادہ ہیں۔ پارٹی پر کئی طرف سے نکتہ چینیاں ہو رہی ہیں ۔ کیجریوال نے اس مہینے کے اوائل میں ایوان بالا کے لیے پارٹی کے کارکنوں اور رہنماؤں کی بجائے پارٹی سے باہر کے بزنس مین اور ایک چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ کو نامزد کیا ہے ۔ ان کے اس فیصلے پر پارٹی کے اندر خاصی ناراضگی ہے ۔

عام آدمی پارٹی ایک عوامی تحریک سے وجود میں آئی تھی اور اس کا مقصد عوام کو ایک صاف ستھراایماندار سیاسی متبادل فراہم کرنا تھا۔ آپ پارٹی بی جے پی کو شکست دیتے ہوئے دلی میں اقتدار میں آئی اور یہ بی جے پی کے لیے ایک بڑا چیلنج بن گئی۔ ایک وقت ایسا آ یا جب بی جے پی نظریاتی طور پر عام آدمی پارٹی سے خطرہ محسوس کرنے لگی تھی ۔ اس نے دلی کی منتخب حکومت کو ایک لیفٹننٹ گورنر کے ذریعے مفلوج کر دیا اور کیجریوال کے ہر حکومتی فیصلے میں رخنے ڈالنے لگی ۔ دلی حکومت کسی بھی فیصلے کے لیے اب بی جے پی کی حکومت کے مقرر کردہ لفٹیننٹ گورنر کی منظوری کی محتاج ہے۔

دہلی کے بلدیاتی انتخابات میں عام آدمی پارٹی کی شکست

۔’کیجریوال اور کانگریس کا بہت کچھ داؤ پر‘

بی جے پی نے اپنے حامی ٹی وی چینلوں کے ذریعے کیجریوال اور ‏عام آدمی پارٹی کی ساکھ کو خراب کرنے کےلیے ایک لمبی اور شدید مہم چلائی۔ اس مہم کا عام آدمی پارٹی کی مقبولیت پر یقینا اثر پڑا ہے۔ اب ایک بار پھر دلی میں بیس سیٹوں پر انتخابات ہونگے۔ اگر ایسا ہوا تو یہ کانگریس اور بی جے پی کے لیے دلی میں اپنی کھوئی ہوئی جگہ حاصل کرنے کا ایک بہترین موقع ہو گا۔

‏عام آدمی پارٹی کے لیے یہ صورتحال بہت ہی موزوں ہے ۔ اگر وہ بیس سیٹوں پر اکثریت نہ بھی حاصل کر سکی تو بھی اس کی حکومت پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ لیکن اس شکست سے اسے سبق ضرور ملے گا اور اسے اپنی غلطیاں سدھارنے کا ایک موقع مل سکے گا ۔ لیکن اگر وہ ایک بار پھر اکثریت کے ساتھ ان سیٹوں پر کامیاب ہوئی تو یہ بی جے پی اور کانگریس کے لیے بہت بڑا دھچکا ہو گا۔ یہ جیت ‏عام آدمی پارٹی اور بالخصوص اروند کیجریوال کو نیا جوش اورجذبہ دے سکتی ہے۔ یہ صورتحال بی جے پی کے لیے خاصی پریشان کن ثات ہو گی ۔ ‏عام آدمی پارٹی کو اس کا اندازہ ہے اور اس نے انتخابات کی تیاریاں شروع کر دی ہیں ۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں