انڈیا کے لیے کشمیر میں ترنگا لہرانا آج بھی مشکل کیوں؟

سری نگر تصویر کے کاپی رائٹ EPA

انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کی انتظامیہ نے کئی دہائیوں کے بعد یومِ جمہوریہ کی سب سے بڑی تقریب پہلی مرتبہ روایتی مقام بخشی سٹیڈیم کی بجائے سخت سکیورٹی حصار والے امر سنگھ کلب گراؤنڈ میں منعقد کی۔

وزیرِ اعلیٰ محبوبہ مفتی نے تو جموں کے مولانا آزاد سٹیڈیم میں ترنگا لہرایا، تاہم کشمیر میں پولیس کے سربراہ منیر خان کے مطابق اِن تقریبات کا انعقاد ایک چیلنج تھا۔

پولیس سربراہ نے ایک دن قبل ہی ایک الرٹ جاری کیا تھا جس کے مطابق مہاراشٹرا کے پونا شہر کی 18 سالہ سادیہ انوار شیخ نامی ’خود کش حملہ آور‘ کشمیر میں کوئی حملہ کرنے والی ہیں۔

اس بارے میں مزید پڑھیے

یومِ جمہوریہ پر دہشت گردی کا خدشہ، سکیورٹی سخت

اوباما کھلے آسمان کے نیچے بیٹھیں گے؟

اس الرٹ کے بعد پورے سرینگر کو ایک دن قبل ہی سیل کر دیا گیا اور امرسنگھ کلب گراؤنڈ کے گرد تین کلو میٹر کے دائرے کی ناکہ بندی کر دی گئی۔ تاہم پولیس نے جمعے کو یوم جمہوریہ کی تقریبات کے بارے میں بتایا کہ ’سب کچھ امن و امان کے ساتھ ہوا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption الرٹ کے بعد پورے سرینگر کو ایک دن قبل ہی سیل کر دیا گیا

پولیس کے مطابق جمعرات کو ایک غیر کشمیری خاتون کو گرفتار کیا گیا تھا۔ انسپکٹر جنرل منیر خان کا کہنا ہے کہ اس بات کی تحقیق کی جا رہی ہے کہ یہ خاتون ’خود کش حملہ آور‘ ہے یا نہیں۔

کشمیر میں یوم جمہوریہ کی تقریبات سے ایک ہفتہ قبل سیکورٹی کے سخت ترین انتظامات کیے گئے تھے۔ کشمیر میں جمعرات سے فون رابطے، انٹرنیٹ اور شاہراہوں سے گزرنے پر پابندی تھی۔

علیحدگی پسندوں کی کال پر جمعے کو یوم سیاہ منایا گیا اور ہڑتال کی گئی۔ علیحدگی پسند رہنماؤں، سید علی شاہ گیلانی، میر واعظ عمر فاروق اور یاسین ملک کو پہلے ہی گھروں یا جیلوں میں نظر بند کر دیا گیا تھا۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ اس قدر سخت سکیورٹی انتظامات اور یوم جمہوریہ کی تقریبات میں عوام کی عدم شمولیت سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ 70 سال بعد بھی انڈیا کے لیے کشمیر میں ترنگا لہرانا مشکل ہے۔

دریں اثنا حکومت نے سکول اور کالج حکام کو ہدایت دی تھی کہ وہ طلبا کی ان تقریبات میں شرکت کو یقینی بنائیں۔ تاہم گذشتہ روز ایک ویڈیو وائرل ہو گئی جس میں بعض نقاب پوش نوجوانوں کے سامنے پلواما کے ایک سکول کے پرنسپل طلبا سے اپیل کر رہے تھے کہ وہ ان تقریبات میں شرکت نہ کریں۔

کشمیر میں مسلح شورش سے قبل بھی انڈیا کے یوم آزادی یا یوم جمہوریہ کے موقع پر کشیدگی ہوتی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

پولیس کے ایک ریٹائرڈ افسر نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ’سنہ 1990 سے قبل جب بخشی سٹیڈیم میں یومِ جمہوریہ کی تقریب منعقد ہوتی تھیں تو سکول طلبا کے علاوہ عام لوگ بھی وہاں موجود ہوتے تھے لیکن تقریب ختم ہوتے ہی لوگ احتجاج کرتے اور ہند مخالف مظاہرے کرتے تھے، جس کی وجہ سے ہمارے لیے امن و امان کو قابو کرنا مشکل ہو جاتا تھا۔‘

کالم نویس ریاض ملک کا کہنا ہے کہ فوج اور طاقت کے زور پر ترنگا لہرانا کوئی بڑی بات نہیں ہے۔

’کشمیر میں انڈیا کی فتح تب ہو گی جب لوگ خود ایسی تقریبات میں دل سے شرکت کریں گے اور حکام کو اس طرح کی پابندیاں، جن کی مثال نہیں ملتی، عائد نہیں کرنا پڑیں گی۔‘

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں