انڈیا: ٹرین کی سامنے سیلفی لیتے ہوئے ٹرین سے ٹکر

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
ایک جم میں بطور ٹرینر کام کرنے والے ٹی سیوا کو اس ویڈیو میں ایک ساتھی اور ٹرین کے ڈرائیور کی تنبیہ کو نظر انداز کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے

انڈیا کے شہر حیدرآباد میں ایک شخص کی خود بنائی ہوئی وہ ویڈیو انٹرنیٹ پر ہزاروں بار دیکھی جا چکی ہے جس میں انھیں ایک ریل گاڑی سے ٹکراتے دیکھا جا سکتا ہے۔

ایک جِم میں بطور ٹرینر کام کرنے والے ٹی سیوا کو اس ویڈیو میں ایک ساتھی اور ٹرین کے ڈرائیور کی تنبیہ کو نظر انداز کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

یہ ویڈیو 21 جنوری کو بورابندہ ریل وے سٹیشن کے قریب بنائی گئی۔

مزید پڑھیے

جان لیوا سیلفیوں کے خلاف ریاستی مہم

سیلفی لیتے ہوئے ٹرین کی زد میں آکر دو نوجوان ہلاک

جنوبی سینٹرل ریلوے پولیس کا کہنا ہے کہ ٹی سیوا اس حادثے میں بچ تو گئے ہیں تاہم انھیں سر پر شدید چوٹیں آئیں ہیں۔

21 سیکنڈ کی یہ ویڈیو بدھ کو فیس بک پر شیئر کی گئی۔ اس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ٹی سیوا ٹرین کے سامنے کھڑے ہیں اور ویڈیو میں سنا جا سکتا ہے کہ ان کو کوئی قریب کھڑا تنبیہ کر رہا ہے کہ آپ ٹرین کے بہت قریب ہیں۔ ٹی سیوا جواب میں کہتے ہیں، ’ایک منٹ!‘

لمحوں بعد ٹرین انھیں آ لگتی ہے اور فون زمین پر گر جاتا ہے۔

تیزی سے آتی ٹرین کے سامنے کھڑے ہو کر ویڈیو بنانا انڈیا میں ایک نیا ’ٹرینڈ‘ ہے۔

مگر اس خطرناک رجحان نے متعدد بار جانیں بھی لے لی ہیں۔ اکتوبر 2017 میں کرناٹک میں تین نوجوان ایک ٹرین سے کچلے گئے تھے اور دلی میں دو نوجوان ٹرین کے سامنے سیلفی لیتے ہوئے مارے گئے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ ASIF SAUD
Image caption کرناٹک میں ایک شخص اس مقام کی نشاندہی کر رہا ہے جہاں سیلفی لیتے ہوئے تین طالب علم ایک ٹرین کے نیچے آگئے تھے

ماہرین کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا کے جنون میں نوجوان سیلفی لینے کے لیے انتہائی شدید خطرے مول لے لیتے ہیں۔

دنیا بھر میں سیلفی لینے کے دوران ہلاکتوں کی سب سے زیادہ تعدا انڈیا میں ہے۔ مارچ 2014 سے ستمبر 2016 کے دوران دنیا بھر میں محققین نے سیلفی کی وجہ سے 127 ہلاکتوں کی نشاندہی کی جن میں سے 76 ہلاکتیں انڈیا میں ہوئیں۔

انڈیا میں سیلفی کی وجہ سے ہلاکتوں کے واقعات میں سب سے زیادہ ہلاکتیں ٹرین حادثات میں ہوئیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ انڈیا میں ٹرین ٹریک کے قریب کھڑے ہو کر تصاویر کھچوانے کو ’لافانی دوستی‘ کی علامت سمجھا جاتا ہے۔

ادھر وزیرِ ریل پیوش گویال نے ٹوئٹر پر ایک پیغام میں لوگوں کو تنبیہ کی ہے کہ ایک تصویر کے لیے جان داؤ پر نہ لگائیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں