’ایمبولینس دادا‘ کو نریندر مودی نے سیلفی لینا سکھایا

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption نریندر مودی اپنی سیلفی لینے کے لیے مشہور ہیں

انڈیا کی ریاست مغربی بنگال کے ضلع جلپائی گڑی کے دوردراز علاقے میں چائے باغان میں کام کرنے والے کریم الحق کو لوگ ’ایمبولینس دادا‘ یا ’ایمبولینس مین‘ کے طور پر جانتے ہیں۔

ایمبولینس دادا کریم الحق کو گذشتہ برس اعلیٰ شہری اعزاز پدم شری سے نوازا گیا تھا۔ گذشتہ دنوں اس اعزاز کو لینے وہ نئی دہلی میں واقع راشٹرپتی بھون آئے جہاں ان کی خوشی اس وقت دوگنی ہوگئی جب ملک کے وزیر اعظم نریندر مودی نے انھیں سیلفی لینا سکھایا۔

یہ بھی پڑھیے

مودی کا قوم سے خطاب اور سوشل میڈیا

'چُھٹّا دے دے رے مودی'

سوشل میڈیا انڈین نیم فوجی دستوں کا نیا ہتھیار

کریم الحق نے بی بی سی کو بتایا کہ ’میں گزشتہ چند مہینوں سے سمارٹ فون کا استمعال کررہا ہوں لیکن مجھے ابھی تک سیلفی لینی نہیں آئی۔ مجھے سیلفی لینے میں دقت ہورہی تھی تب ہی وزیر اعظم نریندر مودی میرے پاس آئے اور انھوں نے کہا ’سیلفی ایسے لی جاتی ہے۔‘

کہنے کو وہ چائے کے باغان میں کام کرتے ہیں لیکن مقامی لوگ انہیں کسی دیوتا سے کم نہیں سمجھتے ہیں۔ کریم الحق علاقے کے مریضوں کو بغیر کسی مالی فائدے کے اپنی موٹر سائیکل پر بٹھا کر ہسپتال پہنچانے کا کام کرتے ہیں۔

ان کے فلاحی کام کی شناخت کرتے ہوئے حکومت نے گذشتہ برس انھیں اعلیٰ شہری اعزاز پدم شری سے نوازا تھا۔

نریندر مودی اور کریم الحق تصویر کے کاپی رائٹ Karimul Haque
Image caption کریم الحق وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ

مدد کا جزبہ

گذشتہ 14 برس سے کریم الحق دھولاباری چائے باغان اور اس کے آس پاس کے تقریباً 20 دیہات کے لوگوں کو اپنی موٹر سائیکل پر بٹھا کر صحیح وقت پر ہسپتال پہنچانے کا کام رہے ہیں۔ ابھی تک وہ کئی سو جانیں بچا چکے ہیں۔

بعض اوقعات کریم الحق کو کچی اور ٹوٹی پھوٹی سڑکوں پر سے گزر جانا پڑتا ہے جہاں صرف ان کا جزبہ اور ہمت کام آتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

’رہائش انڈیا میں ملاقات برلن میں‘

مودی نے رازداری کیسے برتی؟

کئی برس قبل جب کریم الحق کی والدہ بیمار ہوئیں تو وہ لوگوں کے پاس مدد کے لیے پہنچے کہ کوئی انھیں اسپتال پہنچا دے لیکن صحیح وقت پر مدد نہ ملنے کی وجہ سے ان کی والدہ کی موت ہوگئی۔ اس کے بعد کریم الحق نے یہ فیصلہ کیا کہ وہ غریب مریضوں کی مدد کریں گے چاہے اس کے لیے انھیں کتنی بھی محنت کرنی پڑے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption راشٹرپتی بھون

سیلفی کا سبق اور خوشی

سب سے پہلے 14 سال پہلے ایسا ہوا کہ ان کے ساتھ کام کرنا ایک شخص بیمار پڑ گیا۔ انھوں نے اپنے ساتھی کو موٹر سائیکل پر بٹھا کر خود کو ان سے باندھ لیا اور صحیح وقت پر جلپائے گڑی کے ضلع اسپتال پہچادیا۔

اس کے بعد کریم الحق کے پاس لوگ اسی طرح کی مدد کے لیے آنے لگے۔ کریم الحق لوگوں کی مدد کرتے رہے اور دھیرے دھیرے ’ایمبولینس دادا‘ کے طور پر مقبول ہوگئے۔

چائے باغان میں کام کرنے کے لیے انھیں چار ہزار روپے ماہانہ تنخواہ ملتی ہے لیکن مریضوں کو ہسپتال پہنچانے کے لیے انھوں نے کبھی کسی سے کوئی رقم نہیں ہے۔ وہ لوگوں کو ابتدائی فوری طبی امداد دینے کا بھی کام کرتے ہیں۔

کریم الحق اپنے علاقے میں تو پہلے سے ہی مشہور ہیں لیکن اب وزیر اعظم کے ساتھ سیلفی لینے کے بعد قومی سطح پر بھی کافی مقبولیت حاصل کرچکے ہیں۔

کریم الحق کا کہنا ہے کہ وہ بہت خوش ہیں کہ انھیں وزیر اعظم نے سیلفی لینی سکھائی۔ نریندر مودی کے علاوہ انھوں نے کانگریس کے رہنما راہل گاندھی کے ساتھ بھی سیلفی لی ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں