کابل: فوجی اڈے پر حملے میں 11 اہلکار ہلاک

kabul academy تصویر کے کاپی رائٹ SHAH MARAI

افغان وزارتِ دفاع کے مطابق دارالحکومت کابل میں واقع ایک فوجی اڈے پر حملے میں 11 افغان سکیورٹی اہلکار اور چار حملہ آور ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ حکام نے ایک حملہ آور کی گرفتاری کا دعویٰ کیا ہے۔

افغانستان کی ملٹری اکیڈمی کے قریب ہی واقع اس فوجی اڈے سے پیر کی صبح دھماکوں اور شدید فائرنگ کی آوازیں سنی گئیں۔

وزارت دفاع کے ترجمان جنرل دولت وزیری نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ اس حملے میں 16 فوجی زخمی بھی ہوئے ہیں۔

کابل میں ایمبولینس بم کے دھماکے میں 95 افراد ہلاک

کابل میں فوجی بس پر خودکش حملہ، 15 کیڈٹس ہلاک

کابل: مسجد میں بم حملہ، 20 افراد ہلاک

ان کے مطابق پانچ میں سے دو حملہ آوروں نے خود کو دھماکہ خیز مواد سے اڑا لیا جبکہ دو کو سکیورٹی فورسز نے ہلاک اور ایک کو گرفتار کیا۔

ان کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں کے قبضے سے چار اے کے 47 بندوقیں، ایک خودکش جیکٹ اور ایک راکٹ لانچر بھی برآمد ہوا۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

شدت پسند گروہ کی نیوز ایجنسی اعماق کے مطابق یہ حملہ شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ نے کیا ہے۔

بی بی سی کے کابل میں موجود نامہ نگار محفوظ زبیدی نے بتایا کہ حملہ مقامی وقت کے مطابق صبح پانچ بجے ہوا۔

گذشتہ دو ہفتوں کے درمیان کابل کے ہوٹل اور پھر ایمبولینس میں دھماکے کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ دو روز قبل ایمبولینس کے ذریعے کیے جانے والے حملے میں 90 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے تھے۔

افغان ٹی وی طلوع نیوز نے صدارتی ترجمان کے حوالے سے کہا ہے کہ کوئی بھی حملہ آور اکیڈمی کے پہلے دروازے سے آگے نہیں بڑھ سکا اور اس حملے کے بعد سکیورٹی فورسز نے علاقے کو سیل کر دیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

دولت اسلامیہ نے گذشتہ ہفتے بین الاقوامی ادارے سیو دی چلڈرن پر حملہ کرنے کی ذمہ داری قبول کی تھی جبکہ ایمبولینس پر حملے کی ذمہ داری طالبان نے قبول کی ہے۔

اس سے قبل یہ اطلاعات تھیں کہ حملے کا نشانہ مارشل فہیم نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی ہے۔

طالبان اور دولتِ اسلامیہ اب اپنی توانائیاں کابل میں حملے کرنے میں صرف کر رہی ہیں۔

سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام ملک میں سکیورٹی افواج کی طرف سے پیش قدمی کے جواب میں کیا گیا ہے۔

حکام کے مطابق امریکہ کی جانب سے کی جانے والے فضائی کارروائیوں نے طالبان کو صوبے ہلمند کے کچھ حصوں سے پیچھے دھکیلنے میں مدد دی۔

حکام کے مطابق ایسا اس لیے بھی ہو سکتا ہے کہ شدت پسندوں نے دارالحکومت پر زیادہ بہتر طریقے سے حملہ کرنے کا فیصلہ کیا ہو جس کا مقصد حکومت کے اعتماد کو کم کرنے اور دیہی علاقوں پر قبضہ کرنے کی بجائے بین الاقوامی توجہ کو اپنی جانب مبذول کروانا ہو۔

افغان انٹیلیجنس کے سربراہ نے اتوار کو کہا تھا کہ انھیں یقین ہے کہ ملک میں ہونے والے حملوں میں تیزی امریکہ کی جانب سے پاکستان پر دباؤ بڑھانے کا ردِ عمل ہے۔

خیال رہے کہ اور امریکہ اور افغانستان پاکستان پر شدت پسندوں کا محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرنے کا الزام عائد کرتے ہیں جس کی پاکستان تردید کرتا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں