کیوں بھئی،انڈین مسلمان پاکستانی ہیں کیا؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption انڈیا میں جب سے بی جے پی کی حکومت آئی ہے، عام تاثر یہ ہے کہ مسلمانوں میں عدم تحفظ کا احساس بڑھا ہے

انڈیا کی شمالی ریاست اتر پردیش میں ایک سینیئر سرکاری افسر نے پوچھا ہے کہ کیا ہندوستانی مسلمان پاکستانی ہیں جو (ہندو) قوم پرست تنظیموں کے کارکن ان کے محلوں میں جاکر پاکستان مخالف نعرے بلند کرتے ہیں؟

بریلی کے ضلع میجسٹریٹ راگھویندر وکرم سنگھ نے اپنے فیس بک پیج پر لکھا ہے کہ ’عجب رواج بن گیا ہے، مسلم محلوں میں زبردستی جلوس لے جاؤ اور پاکستان مردہ باد کے نعرے لگاؤ۔ کیوں بھئی؟ وہ پاکستانی ہیں کیا؟‘

راگھو یندر سنگھ نے یہ بات ریاست کے کاس گنج شہر میں مذہبی تشدد کے پس منظر میں کہی ہے۔

اس بارے میں مزید پڑھیے

’پولیس نے مجھے پاکستانی کہہ کر تشدد کا نشانہ بنایا‘

’موسیقی پر تنازع‘، مسلمان نوجوان کو مار ڈالا

انڈیا: مسلمان کرکٹر کے آنسو پر قوم پرستی کی بحث

انڈیا میں چھ سال کے ’شدت پسند‘ بچے

کاس گنج میں 26 جنوری کو یومِ جمہوریہ کے موقع پر ہندو قوم پرست قومی پرچم لے کر ایک موٹر سائیکل ریلی نکال رہے تھے اور مسلمانوں کے ایک محلے سے گزرتے وقت ان کی مقامی لوگوں سے لڑائی ہوئی جس میں ایک ہندو نوجوان ہلاک ہو گیا جبکہ دونوں طرف سے متعدد افراد زخمی ہوئے۔

ضلع کے میجسٹریٹ نے ایک اخبار سے بات کرتے ہوئے کہا کہ’قوم پرستی کے نام پر جو ہو رہا ہے اس سے انہیں بہت تکلیف پہنچی ہے۔‘

ایک اور پوسٹ میں انھوں نے کہا کہ’چین کے خلاف کوئی نعرے بلند کیوں نہیں کرتا حالانکہ وہ تو زیادہ بڑا دشمن ہے۔ ترنگا لے کر چین مردہ باد کیوں نہیں؟‘

کسی حاضر سروس افسر کے لیے اس طرح کی بات کہنا کافی غیرمعمولی ہے کیونکہ اتر پردیس میں بی جے پی کی حکومت ہے اور ان کے بیان کو ڈسپلن کے ئلاف ورزی کے زمرے میں تصور کیا جاسکتا ہے۔

اتوار کو ریٹائرڈ سینئر سرکاری افسران نے وزیراعظم نریندر مودی کے نام ایک کھلا خط لکھ کر کہا تھا کہ ملک میں اقلیتوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اس خط پر دستخط کرنے والوں میں سابق سیکریٹری صحت کیشو دیسی راجو، سابق سیکریٹری اطلاعات و نشریات بھاسکر گھوش، سابق چیف انفارمیشن کمشر وجاہت حبیب اللہ سمیت 67 سابق بیوروکریٹ شامل ہیں۔

انھہوں نے لکھا ہے کہ تشدد کے بدستور جاری واقعات اور قانون کا نفاذ کرنے والی ایجنسیوں کے ڈھیلے رویے پر وہ بہت فکر مند ہیں۔ انھوں نے کہا ہے کہ اقلیتوں کے ساتھ زیادتیوں سے، جس میں انھوں نے مسلمانوں کو کرائے پر مکان نہ دینے اور انہیں منظم انداز میں مکان نہ بیچنے کے واقعات کا بھی ذکر کیا ہے، پہلے سے زہر آلود ماحول اور خراب ہو گا اور مسلمانوں میں ناراضگی بڑھے گی۔

انڈیا میں مسلمان تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

اپنے خط میں انھوں نے گذشتہ برس ملک کے مختلف حصوں میں پیش آنے والے قتل کے ان پانچ واقعات کا بھی ذکر کیا ہے جن میں مسلمان مارے گئے تھے۔

ان کے بقول انھوں نے جو مسائل اٹھائے ہیں ان پر وہ وزیراعظم سے فوراً وضاحت چاہتے ہیں اور یہ کہ تشدد کے ان واقعات میں ملوث لوگوں کے خلاف فوراً کارروائی کی جانی چاہیے۔

گذشتہ برس جون میں بھی ریٹائرڈ افسر شاہی نے ایک کھلے خط میں ملک میں بڑھتی ہوئی عدم رواداری سے لاحق خطرات پر توجہ مرکوز کرائی تھی۔

انڈیا میں مسلمانوں کے بارے میں مزید پڑھیے

انڈیا میں مسلمان ہندوؤں سے زیادہ کیسے ہوں؟

انڈیا: مسلمان طالب علم پر ’داڑھی نہ رکھنے کا دباؤ‘

مسلمان اب کسی کا ووٹ بینک نہیں

انڈیا میں جب سے بی جے پی کی حکومت آئی ہے، عام تاثر یہ ہے کہ عدم رواداری بڑھی ہے اور اس کے ساتھ ہی مسلمانوں میں عدم تحفظ کا احساس بھی۔

ملک میں گائے کے تحفظ کے نام پر مسلمانوں کے خلاف تشدد کے متعدد واقعات کے بعد سپریم کورٹ نے ریاستوں کو حکم دیا تھا کہ ’گئو رکشکوں‘ یا گائے کے خود ساختہ محافظین کی سرگرمیوں کو قابو کریں اور اسی کیس میں پیر کو عدالت نے اترپردیش، ہریانہ اور راجستھان کی حکومتوں کو توہین عدالت کا نوٹس بھی جاری کیا ہے۔

گئو رکشکوں کی سرگرمیوں کے خلاف وزیراعظم بھی کئی مرتبہ سخت زبان کا استعمال کر چکے ہیں لیکن حالات میں کوئی خاص بہتری نہیں آئی ہے۔

اسی بارے میں