انڈیا میں آٹھ ماہ کی بچی کے ساتھ ریپ پر ہنگامہ

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption انڈیا مںیجنسی حملوں کے خلاف مظاہرے بڑھ رہے ہیں لیکن جرائم میں کوئی کمی نہیں آئی

انڈیا کے دار الحکومت دہلی میں ایک آٹھ ماہ کی بچی کو جنسی تشدد کے بعد نازک حالت میں ہسپتال لایا گیا ہے جس کے بعد اس خبر پر انڈیا میں کافی ہنگامہ کھڑا ہو گیا ہے۔

اس بچی کو اتوار کے روز ہسپتال لایا گیا تاہم پیر کو یہ خبر میڈیا میں سامنے آئی۔

پولیس نے میڈیا کو بتایا کہ ایک 28 سالہ شخص کو اس ریپ کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے جو ایک دیہاڑی دار مزدور ہے۔

دہلی میں وویمن کمیشن کی سربراہ سواتی مالیوال جنہوں نے پیر کو ہسپتال جا کر بچی کو دیکھا انھوں نے بتایا کہ ’اس کے زخم بہت خوفناک ہیں۔‘

انھوں نے بتایا کہ بچی کا تین گھنٹے تک آپریشن ہوا۔

انھوں نے ٹویٹ کیا کہ بچی انتہائی نگہداشت میں ہے اور اسے اندرونی اعضا پر خوفناک زخم آئے ہیں۔‘

اسی بارے میں

انڈیا: دس سالہ بچی کا ریپ، بچی کے ماموں مجرم قرار

انڈیا میں ریپ کے بڑھتے واقعات

Image caption بچی انتہائی نگہداشت میں ہے اور اسے اندرونی اعضا پر خوفناک زخم آئے ہیں

انھوں نے ایک دوسری ٹویٹ میں اپنے غم کا اظہار کیا۔

’کیا کِیا جائے؟ دہلی آج کیسے سو سکتا ہے جب آٹھ ماہ کی بچی کا دارالحکومت میں ظالمانہ ریپ کیا گیا؟ کیا ہم اتنے بے حس ہو چکے ہیں یا ہم نے اسے اپنی تقدیر کے طور پر قبول کر لیا ہے؟‘

انھوں نے براہِ راست وزیرِ اعظم نریندر مودی سے اپیل کی کہ وہ ملک میں لڑکیوں کو بچانے کے لیے سخت قوانین اور مزید پولیس کا انتظام کریں۔

سنہ 2012 میں ایک طالبہ کے ساتھ گینگ ریپ کے بعد انڈیا میں جنسی تشدد کے حوالے پکڑ سحت ہو گئی ہے۔

اس واقعے کے بعد کئی دن تک ہونے والے مظاہروں کے بعد حکومت نے انسدادِ ریپ کے قوانین متعارف کروائے جن میں سزائے موت بھی شامل ہے۔

تاہم ملک میں اب بھی بچوں اور عورتوں کے خلاف سنگین جنسی حملے جاری ہیں۔

اسی بارے میں