انڈیا: راہل گاندھی کی ایک ہزار ڈالر کی جیکٹ

تو راہل گاندھی کے پاس ایک ہزار ڈالر کی جیکٹ ہے! یہ انکشاف حکمراں بی جے پی نے ایک ٹوئیٹ میں کیا ہے۔ پارٹی کو اس پر خوش ہونا چاہیے لیکن لگتا ہے کہ وہ خوش نہیں ہے۔

بی جے پی کی میگھالیہ یونٹ نے راہل گاندھی کی ایک تصویر ٹویٹ کی ہے جس میں انھوں نے کالے رنگ کی ایک جیکٹ پہن رکھی ہے۔ ساتھ ہی انٹرنیٹ سے ایک سکرین شاٹ بھی ہے جس میں بظاہر ویسی ہی جیکٹ 995 ڈالر میں بک رہی ہے۔

ٹویٹ میں ’سوٹ بوٹ کی سرکار‘ کا بھی ذکر ہے۔ راہل گاندھی کے لیے یہ بی جے پی کا جواب ہے جنھوں نے وزیراعظم کو اس ’دس لاکھ‘ کے سوٹ پر تنقید کا نشانہ بنایا تھا جس پر ان کا نام باریک سنہرے تار سے ہزاروں مرتبہ کڑھا ہوا تھا۔

مزید پڑھیے

’مودی کا سوٹ نرگسیت کی انتہا‘

مودی کی پگڑی کیا پیغام دے رہی تھی؟

پھٹا پوسٹر، نکلا ہیرو!

یہ تو ہے بیک گراؤنڈ، لیکن سوال یہ ہے کہ بی جے پی ناراض کیوں ہے؟ اسے تو خوش ہونا چاہیے کہ وزیر اعظم کا سب کو ساتھ لے کر چلنے کا وعدہ پورا ہو رہا ہے اور جیکٹ دس لاکھ کی تو نہیں 65-70 ہزار کی ہی سہی، لیکن راہل گاندھی بھی اب اچھے کپڑے پہن پا رہے ہیں۔

وہ باہر کے ملکوں میں جائیں گے تو لوگ کہیں گے دیکھو انڈیا کتنی ترقی کر رہا ہے، وہاں صرف وزیر اعظم ہی نہیں حزب اختلاف کے رہنما بھی مہنگے کپڑے پہنتے ہیں!

اس کے بعد اب بس عوام کا نمبر ہے۔

اس ٹویٹ کے جواب میں کانگریس کی ایک لیڈر رینوکا چودہری نے کہا ہے کہ وہ وزیر اعظم نریندر مودی کے لیے بھی ایسی ہی جیکٹ لاسکتی ہیں لیکن ان کے پاس مسٹر مودی کا ناپ نہیں ہے، بس اتنا معلوم ہے کہ ان کا سینا 56 انچ کا ہے۔

رینوکا چودہری کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ وہ راہل گاندھی جیسی جیکٹ 700 روپے میں لاسکتی ہیں۔ شاید ان کا کہنے کا مطلب یہ ہے کہ دلی کے بہت سے بازاروں میں بڑے برینڈز کی نقل بکا کرتی ہیں، وہ بھی اتنی اچھی کہ اصل اور نقل میں فرق کرنا مشکل ہو جائے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption رینوکا چودہری کا یہ دعویٰ ہے کہ وہ راہل گاندھی جیسی جیکٹ 700 روپے میں لاسکتی ہیں۔

لیکن کیا واقعی راہل گاندھی سروجنی نگر یا پالیکا بازار جیسی کسی مارکیٹ میں گئے ہوں گے اور دکاندار سے کہا ہوگا کہ بھائی بربری کی جیکٹ کی کوئی بڑھیا سی کاپی دکھاؤ! میگھالیہ جانا ہے، وہاں الیکشن ہونے والے ہیں اور انتخابی مہم مجھے ہی سنبھالنی ہے۔۔۔ سردی میں ہڈیاں بھی ٹھنڈی ہو رہی ہیں، اصلی جیکٹ مہنگی بہت ہے اس لیے کاپی ہی خرید لیتے ہیں، کچھ ہی دنوں کی بات ہے دن تو پہلے ہی کافی گرم ہونے لگے ہیں!

ٹوئٹر پر بہت سے لوگ راہل گاندھی اور بی جے پی دونوں کا مذاق بنا رہے ہیں۔ کچھ کا کہنا ہے کہ پھٹے ہوئے کرتے سے ایک ہزار ڈالر کی جیکٹ تک، راہل نے بہت ترقی کی ہے، اور کسی اور کے آئے ہوں یا نہیں، ان کے اچھے دن تو آہی گئے۔ اس کے جواب میں کسی نے لکھا ہے کہ ’آج کی تازہ خبر، راہل گاندھی کی 70 ہزار کی جیکٹ اور روتے بلکتے بھکت۔‘

بہرحال، یہ تو راہل ہی بتائیں گے کہ یہ جیکٹ انھوں نے کہاں سے خریدی تھی اور کتنے میں۔ اور یہ بھی ایک دو دن میں ہی معلوم ہوگا کہ وہ اسے دوبارہ پہنیں گے یا نہیں۔

اگر نہیں پہنتے تو یہ فیصلہ کرنا بہت آسان ہوجائے گا کہ راہل گاندھی بڑے لیڈر ہیں یا نریندر مودی۔

نریندر مودی کا ’دس لاکھ‘ کا سوٹ نیلامی کے ذریعے بیچا گیا تھا اور اسے ہیروں کے ایک بیوپاری نے چار کروڑ 31 لاکھ روپے میں خریدا تھا۔ بس راہل کو بھی اپنی جیکٹ نیلام کرانا ہوگی اور دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا۔

جو جیتا وہی سکندر۔ لیکن اور بھی غم ہیں زمانے میں محبت کے سوا اور دونوں کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ وزیراعظم کے عہدے کا فیصلہ 2019 میں الیکشن سے ہی ہوگا، آکشن سے نہیں!

اسی بارے میں