ہم طالبان کے خلاف پاکستانی کارروائی کا انتظار کر رہے ہیں: اشرف غنی

اشرف غنی تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

افغانستان کے صدر اشرف غنی نے پاکستان سے طالبان کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ چاہے سو برس گزر جائیں افغان عوام اپنا بدلہ ضرور لیں گے۔

نماز جمعہ کے بعد قوم سے ٹیلی وژن پر خطاب کرتے ہوئے افغان صدر نے کہا کہ کابل کے لیے ایک نیا سکیورٹی منصوبہ اتوار کو پیش کیا جا رہا ہے۔

صدر اشرف غنی کا مزید کہنا تھا ’افغان عوام امن اور مزید عملی اقدامات (پاکستان سے) چاہتے ہیں۔‘

اسی بارے میں

افغانستان اور پاکستان میں دولتِ اسلامیہ کتنی طاقتور ہے؟

’خراب تعلقات کے ذمہ دار پاکستان اور افغانستان دونوں ہیں‘

پاکستان کا افغانستان سے ’ڈو مور‘ کا مطالبہ

ان کا یہ بیان افغان اہلکاروں کی جانب سے اس دعوے کے بعد آیا ہے جس میں انھوں نے کہا کہ پاکستان کو ایسے ناقابلِ تردید ثبوت فراہم کیے گئے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ افغانستان میں ہونے والے حالیہ حملوں کی منصوبہ بندی پاکستان میں کی گئی۔

افغانستان صدر نے پاکستان سے مطالبہ کیا کہ وہ طالبان کے خلاف کارروائی کرے۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسیوں کے مطابق افغان صدر اشرف نے اپنے خطاب میں پاکستان کو طالبان کا گڑھ قرار دیتے ہوئے کہا کہ’ہم انتظار کر رہے ہیں کہ پاکستان کوئی اقدام اٹھائے۔‘

افغان اور امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ان حملوں میں طالبان سے منسلک گروہ حقانی نیٹ ورک ملوث ہے۔

صدر اشرف غنی کا مزید کہنا تھا کہ ’یہ حملہ ہمارے مردوں، عورتوں یا بچوں پر نہیں بلکہ پوری افغان قوم پر ہوا ہے اور اس کا جواب بھی قومی سطح پر ہونا چاہیے۔‘

افغانستان کے دارالحکومت کابل میں گذشتہ ماہ ہونے والے دو بڑے حملوں میں درجنوں افراد مارے گئے۔

افغان صدر نے بتایا کے ان حملوں کے الزام میں 11 افراد کو حراست میں بھی لیا گیا ہے اور ان کی مدد کرنے والے نیٹ ورک کی تفصیلات بھی پاکستان کو دے دی گئی ہیں۔

کابل میں پاکستانی سفارتخانے کا کہنا تھا کہ اسلام آباد میں ان شواہد کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

پاک افغان رہنماؤں کا دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کے نظام پر اتفاق

’85 شدت پسندوں،32 مراکز کی تفصیلات پاکستان کے حوالے‘

طالبان کی حوالگی کے بیان پر افغان سفیر کی حیرت

یہ حملے ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب خطے میں حالات پہلے سے ہی کشیدہ ہیں اور امریکہ نے یہ کہتے ہوئے پاکستان کی سکیورٹی امداد بھی روک دی ہے کہ وہ دہشت گرد گروہوں سے لڑنے کے لیے کافی اقدامات نہیں کر رہا۔

افغانستان اس سے پہلے بھی پاکستان پر طالبان کی مدد کرنے اور انہیں پناہ دینے کا الزام عائد کرتا رہا ہے جس کی پاکستان نے ہر بار تردید کی ہے۔

پاکستان کا موقف ہے شدت پسندوں کے حملوں میں خود اس کے بھی ہزاروں شہری اس دہشت گردی کا نشانہ بن چکے ہیں۔

اسی بارے میں