انڈیا: پارلیمانی انتخابات سے پہلے نریندر مودی کا آخری داؤ

نریندر مودی تصویر کے کاپی رائٹ AFP

گذشتہ دسبمر میں گجرات کے اسمبلی انتخابات میں بی جے پی دوبارہ اقتدار میں تو آ گئی لیکن وزیر اعظم نریندر مودی کی تمام کوششوں کے باوجود ان کی جماعت کی کارکردگی پہلے کے مقابلے میں خاصی خراب رہی اور وہ بس ہارنے سے بچ گئی۔

اتر پردیش اور راجستھان میں ہونے والے حالیہ بلدیاتی انتخابات میں بھی بی جے پی کو خاصا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ یہ انتخابی نتائج بی جے پی کے لیے وارننگ بن کر آئے۔

ماہرین اور خود بی جے پی کی نظریاتی تنظیم آر ایس ایس ایک عرصے سے یہ بتانے کی کوشش کر رہی تھی کہ حکومت کی پالیسیوں سے ملک کے کسان اور دیہی آبادی بری طرح متاثر ہو رہی ہے اور ان میں حکومت کے خلاف بے چینی پیدا ہو رہی ہے۔ حکومت نے اس خطرے کو محسوس کر لیا تھا لیکن حالات بہتر کرنے کے لیے حکومت کے پاس وقت بہت کم ہے۔

یہ بھی پڑھیے

٭ مسلمان بی جے پی کی جیت کا کیا مطلب نکالیں؟

٭ وندے ماترم کی سیاست میں پھنس گئے مسلمان

مودی حکومت نے آئندہ برس پارلیمانی انتخابات سے قبل اپنا آخری بجٹ پیش کرتے ہوئے زراعت اور کسانوں پر سب سے زیادہ توجہ مرکوز کی ہے۔ نریندر مودی نے اس بجٹ میں انتخابات سے قبل ایک بڑا سیاسی داؤ کھیلا ہے۔ انھوں نے ملک کے غریب طبقے کے لیے پانچ لاکھ روپے کے میڈیکل بیمے کی تجویز پیش کی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

اس سکیم سے 50 کروڑ لوگوں کو بڑی بیماریوں کے علاج کے لیے پانچ لاکھ روپے کے بیمے کا تحفظ حاصل ہو جائے گا۔ یہ ایک بڑی سکیم ہے اور اس سے غریب آبادی کو یقیناً بہت فائدہ ہو گا۔ اس سے حکومت کی شبیہ بہتر کرنے میں بھی مدد ملے گی۔

لیکن وقت بہت کم ہے اور عوام کا موڈ تیزی سے بدل رہا ہے۔ عوام کو مودی حکومت سے جو بڑی بڑی امیدیں تھیں وہ اب بے یقینی میں بدل رہی ہیں۔ جمعرات کو جس وقت وزیر خزانہ ارون جیٹلی پارلیمان میں بجٹ پیش کر رہے تھے اسی وقت راجستھان سے دو پارلیمانی اور ایک اسمبلی نشست کے ضمنی انتخابات کے نتائج بھی آ رہے تھے۔

یہ بھی پڑھیے

٭ جمہوریت ہی نہیں ہندوازم بھی سخت گیریت کی زد میں

٭ مودی سرکار: نعرے بہت مگر کارکردگی؟

یہ تینوں سیٹیں پہلے بی جے پی کے پاس تھیں لیکن ضمنی انتخابات میں ان تینوں سیٹوں پر کانگریس نے بی جے پی کو زبردست شکست سے ہمکنار کیا ہے۔ بی جے پی ان نتائج سے سکتے میں ہے اور ہوا کے بدلتے ہوئے رخ کو محسوس کر رہی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ LOK SABHA TV

گذشتہ دنوں جو بجٹ مودی حکومت نے پارلیمان میں پیش کیا وہ حکمراں بی جے پی کی اسی گھبراہٹ کا عکاس ہے۔ حکومت نے اس بجٹ کے ذریعے ہوا کا رخ بدلنے کی کوشش کی ہے۔ وہ کتنا کامیاب ہو گی یہ کہنا تو مشکل ہے لیکن بجٹ کا پہلا اثر سٹاک مارکیٹ پر بہت منفی رہا۔ بجٹ کے اگلے روز سٹاک مارکیٹ ایک دن کے اندر 800 پوائنٹس نیچے گر گئی۔ یہ گذشتہ ڈیڑھ برس میں ایک دن کے اندر کی سب سے بڑی گراوٹ تھی۔

رواں سال راجستھان، مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ میں اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں۔ ان تینوں ریاستوں میں بی جے پی اقتدار میں ہے۔ ان ریاستوں سے جو اشارے مل رہے ہیں وہ بی جے پی کے لیے پریشان کن ہیں۔ گجرات کے نتائج کے بعد کانگریس کا اعتماد بھی بڑھ گیا ہے۔ ان ریاستوں میں وہ نوجوان قیادت اور نئی حکمت عملی کے ساتھ پہلے سے ہی سرگرم ہے۔

یہ بھی پڑھیے

٭ کیا ہندوتوا کے راستے کانگریس واپس آ سکتی ہے؟

٭ ’شادی میں دہشت گردی کا پہلو ‘

لیکن وزیر اعظم نریندر مودی ایک تجربہ کار اور منجھے ہوئے سیاست دان ہیں۔ وہ ہاری ہوئی بازی کو بھی پلٹنے کا فن اچھی طرح جانتے ہیں۔ ان کے پاس بجٹ کے بعد ایک اور آخری داؤ ہے جس کا استعمال وہ ماضی میں کامیابی سے کرتے آئے ہیں اور وہ ہے ہندو قوم پرستی اور مذہب کی سیاست۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ہندوتوا سخت گیر ہندو نظریے میں یقین رکھتا ہے

اس وقت آسام کی پوری آبادی کی شہریت کے کاغدات کی جانچ پڑتال چل رہی ہے۔ آئندہ مہینوں میں آسام کے شہریوں کی ایک حتمی فہرست جاری ہونے والی ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اس عمل میں آسام کے لاکھوں مسلم باشندے شہریت سے محروم ہو سکتے ہیں اور انھیں بنگلہ دیشی قرار دیا جا سکتا ہے۔

بے جے پی نے اپنے انتحابی منشور میں وعدہ کیا تھا کہ وہ ملک سے غیر قانونی بنگلہ دیشی تارکین وطن کو نکال باہر کرے گی۔ وہ اسے اپنی کامیابی کے طور پر پیش کرے گی۔

مبصرین کا خیال ہے کہ ان شہریوں کو بنگلہ دیشی ثابت کرنا تو مشکل ہو گا لیکن مسلمانوں سے نفرت کی اس فضا میں بی جے پی اس ایشو کو اپنے آخری انتخابی ہتھیار کے طورپر استعمال کرے گی لیکن ملک کی بدلتی ہوئی فضا میں مذہبی پھوٹ کی سیاست کیا ایک بار پھر بی جے پی کے لیے کارگر ثابت ہو گی؟ یہ آنے والے ان انتخابات میں پتہ چل سکے گا۔

اسی بارے میں