افغانستان کے وہ مشہور رسالے جو حالات کی نذر ہو گئے

رنگ برنگے، خوبصورت اور معلومات سے بھرے ہوے ژوندون (زندگی) جریدے کے ڈیجیٹل صفحات میں افغانستان کے امیر طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد کی زندگی اور ان کی خواہشات کا عکس دکھائی دیتا ہے۔

20ویں صدی کے دوسرے حصے میں شائع ہونے والے اس جریدے میں سیاست، عالمی امور، معاشرے، ثقافت اور تاریخ کے ساتھ ساتھ شوبز، فلم اور فیشن پر بھی مواد شائع ہوتا تھا۔

اس کو امریکی جریدے ٹائم کی طرح سمجھیں، لیکن اس میں شعر و شاعری اور مختصر افسانے بھی شامل ہوتے تھے۔

پانچ دہائیوں تک شائع ہونے والے اس جریدے میں افغانستان میں آنے والی تبدیلیوں کا عکس نظر آتا ہے۔ یہ جریدہ ایک ایسے ملک میں ان لوگوں کے لیے شائع ہو رہا تھا جو تعداد میں بہت ہی کم تھے اور جہاں واضح اکثریت کا تعلق ان پڑھ اور غریب طبقے سے تھا۔

جریدہ

ژوندون میں لکھنے والوں اور اس کے قارئین دونوں کی زیادہ تعداد کابل میں تھی۔ ان میں زیادہ تر ترقی پسند خیالات رکھتے تھے اور ان کے پاس اتنا وقت اور سہولیات تھیں کہ وہ سوچ سکتے تھے کہ آج کون سے فلم دیکھی جائے یا کپڑے کیسے سلوائے جائیں۔

جریدہ

1920 کی دہائی میں ژوندون کے علاوہ افغانستان میں دیگر اور بھی جریدے شائع ہوتے تھے۔ 'کابل' نامی جریدے میں اس وقت کے جید دانشور اور مصنفین اپنے مضامین شائع کرتے تھے۔

'ادب' نامی جریدہ کابل یونیورسٹی سے نکلتا تھا جبکہ بچوں کے لیے نکالے جانے والے رسالے کے بھی بہت سے قارئین تھے۔

جریدہ

ژوندون جریدہ 1949 میں شائع ہونا شروع ہوا۔ یہ وہ دور تھا جب یورپی سامراجی طاقتیں دوسری جنگ عظیم کے بعد اپنا اثر کھو رہی تھیں۔

اس وقت افغانستان ایک جدید ریاست کے قیام کی طرف جا رہا تھا اور ان کے پاس قدرتی وسائل بھی موجود تھے۔

ملک کے اس وقت کے بادشاہ، شاہ ظاہر نے اس خواب کو حقیقت بنانے کے لیے کئی غیر ملکی ماہرین کو افغانستان بلایا اور امریکہ اور روس دونوں سے مدد طلب کی۔

جریدہ

اسی دور میں قائم ہونے والی آریانا فضائی کمپنی کی مدد سے افغانستان دنیا کے مختلف ملکوں سے رابطہ قائم کرنے میں کامیاب ہو گیا۔

جریدہ

ژوندون جریدہ بھی اسی طرح مقبولیت حاصل کرتا گیا۔

1960 کی دہائی میں اس میں ان اشیا کے اشتہارات شائع ہونے شروع ہوئے جو عام عوام کی پہنچ سے دور تھے، جیسے بچوں کے لیے دودھ، گاڑیاں، فریج وغیرہ۔

جریدہ

شاہ ظاہر کے کزن محمد داؤد نے 1973 میں اس کے تختہ الٹ دیا اور ملک کی قیادت سنبھال کر خود کو صدر بنا دیا۔

شاہ داؤد کے دور میں ژوندون جریدے میں غیر ملکی اشتہارات کے بجائے مقامی اشیا کی تشہیر بڑھنی شروع ہو گئی۔

جریدہ
جریدہ

ہالی وڈ کی اداکاروں کے بجائے سوویت اداکار ان صفحات کی زینت بننا شروع ہو گئے، جب کہ ٹیپ ریکارڈر اور فریج کی جگہ کھیتی باڑی کی مشینری کے اشتہارات نے لے لی۔

جریدہ

لیکن جو چیز ان اشتہارات کو دیکھتے ہوئے محسوس کی جا سکتی ہے وہ یہ ہے کہ امریکہ اور روس میں جدت پسندی اور ترقی پر مبنی خیالات کتنے ملتے جلتے تھے۔

Pages from Afghan magazine Zhvandun - Lenin and sport front covers

ژوندون، کابل اور دیگر رسالوں کی اشاعت 1990 کی دہائی میں روسی شکست کے بعد رک گئی۔

یہ وقت ملک کے لیے نہایت کھٹن تھا اور ان رسالوں کے لیے لکھنے والے اور پڑھنے والے دونوں ملک چھوڑ گئے۔

اس کے بعد افغانستان پر طالبان کا قبضہ ہو گیا تو یہ تمام لوگ واپس کبھی نہیں آئے۔

لیکن یہ افغان رسالے ایسے نہیں تھے جن کو ضائع کر دیا جاتا۔ کئی شوقین لوگ اور لائبریریوں میں انھیں حفاظت سے جمع کیا جاتا رہا۔

امریکہ کی لائبریری آف کانگریس نے پاکستان میں ان جرائد کو محفوظ کر کے رکھا۔

ان کو آپ یہاں اور یہاں پڑھ سکتے ہیں۔

اور اب کارنیگی کارپوریشن کی مدد سے ان میں سے کئی سو جریدوں کو ڈیجیٹائز کیا جا رہا ہے۔

ان رسالوں کو ان کی اصل شکل میں خریدنا اب کافی مشکل ہے تاہم ڈھونڈنے سے ان میں سے کئی اب بھی بازار میں مل جاتے ہیں۔

جریدہ

تمام تصاویر بشکریہ لائبریری آف کانگریس اور ورلڈ ڈیجیٹل لائبریری

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں