کابل میں حملوں کا مقصد حکومت کے خلاف بغاوت شروع کرانا ہے: افغان وزیر داخلہ

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

افغانستان کے وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ شدت پسندوں کی جانب سے کابل میں عام شہریوں کو ہدف بنانے کا مقصد ملک میں بغاوت شروع کرانا ہے۔

افغان وزیر داخلہ وارث برمک نے بی بی سی کے نامہ نگار سکندر کرمانی کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ طالبان اور دولتِ اسلامیہ کا مشترکہ مقصد ’ لوگوں کو حکومت کے خلاف اکسانا ہے۔‘

خیال رہے کہ گذشتہ دو ہفتوں کے دوران کابل میں چار بڑے حملوں میں ایک سو تیس سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے اور ان حملوں میں سے دو کی ذمہ داری افغان طالبان اور دو کی ذمہ داری دولتِ اسلامیہ نے قبول کی تھی۔

تاہم جیل میں قید خود کو دولتِ اسلامیہ کہنے والی شدت پسند تنظیم کے ایک جنگجو نے بی بی سی کو بتایا کہ دونوں تنظیموں کے مقاصد مختلف ہیں۔

افغان خفیہ ایجنسیوں کے اہلکاروں کی موجودگی میں کیے جانے والے اس انٹرویو میں دولتِ اسلامیہ کے جنگجو نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ طالبان کے نزدیک اگر حکومت میں سے کوئی اپنے کیے پر پچھتاوے کا اظہار کرتا ہے تو اس کو معاف کر دینا چاہیے جبکہ دولتِ اسلامیہ کا کہنا ہے کہ اس کو مار دیا جانا چاہیے۔

’دولتِ اسلامیہ تبلیغ کرتی ہے کہ مسلمان صرف وہ ہیں اور طالبان نہیں ہیں اور یہ رحم پر یقین نہیں رکھتی۔‘

اس بارے میں مزید پڑھیے

’طالبان افغانستان کے 70 فیصد علاقے کے لیے خطرہ‘

’چاہے سو سال گزر جائیں افغان بدلہ ضرور لیں گے‘

ہم نہیں چاہتے کہ طالبان اور حقانی ہمارے پاس رہیں: پاکستان

امریکی جارحانہ بیانات سود مند ثابت نہیں ہوں گے: پاکستان

Image caption افغان طالبان کا افغانستان کے کئی علاقوں پر کنٹرول ہے

افغانستان کے مختلف علاقوں پر دولتِ اسلامیہ کے برعکس طالبان کا زیادہ کنٹرول ہے اور دولتِ اسلامیہ کی زیادہ توجہ کابل کو نشانہ بنانے پر ہے اور اس نے سال 2017 میں افغان دارالحکومت پر 14 بڑے حملے کیے۔

بعض تجزیہ کاروں کے نزدیک کابل پر طالبان کے حالیہ حملوں کی ایک وجہ دونوں گروہوں میں عالمی سطح پر شہرت کرنے میں ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنے کا نتیجہ ہے تاہم افغان حکام کا اکثر اوقات کہنا ہے کہ دونوں گروہوں میں کوئی واضح فرق نہیں ہے۔

افغان وزیر داخلہ وارث برمک کے مطابق ’دونوں عام شہریوں کو نشانہ بنا رہے ہیں تاکہ لوگوں کو حکومت کے خلاف اکسایا جائے تاکہ حکومت کا خاتمہ ہو جائے اور افراتفری کا ماحول پیدا ہو۔‘

انھوں نے کہا کہ دونوں کا ماخذ ایک ہی ہے اور پاکستان پر الزام عائد کیا کہ وہ دونوں گروپوں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

دولتِ اسلامیہ کے سابق جنگجو نے الزام عائد کیا کہ گروپ میں شامل پاکستانی زیادہ پرتشدد کارروائیوں میں ملوث رہے ہیں اور اس کے مطابق یہ پاکستان کے قبائلی علاقے اورکزئی ایجنسی سے آئے ہیں جبکہ گروپ میں چیچن اور عرب جگجو بھی شامل ہیں۔

اس جنگجو نے بتایا کہ وہ مشرقی افغانستان میں ہونے والی پرتشدد کارروائیوں میں شامل رہے ہیں جن میں لوگوں کو قتل کیا گیا اور ہم لوگوں کو بم پر بیٹھا کر انھیں اڑا دیتے تھے۔

جنگجو کے مطابق اس نے شمالی پاکستان میں ایک ماہ کی تربیت حاصل کی اور دولتِ اسلامیہ طالبان کو’ پاکستانی ایجنٹ کہہ‘ کر مسترد کرتی ہے۔

جیل میں قید اس جنگجو کے مطابق افغانستان میں متعدد جنگجوؤں نے طالبان سے دولتِ اسلامیہ میں شمولیت اختیار کی اور اس سمیت اس کے یونٹ میں کئی جنگجوؤں کو مجبور کیا گیا کہ وہ اپنی وفاداری تبدیل کریں۔

خیال رہے کہ پاکستان ہمیشہ شدت پسندوں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرنے اور افغانستان کے اندر شدت پسندی کے واقعات میں ملوث ہونے کی سختی سے تردید کرتا ہے۔

اسی بارے میں