امریکہ سرد جنگ کی ذہنیت سے باہر آئے: چین

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption 35 سال قبل کارل ونس نامی اس جہاز کو امریکی بحریہ میں شامل کیا گیا تھا

چین نے امریکہ پر زور دیا ہے کہ وہ سرد جنگ کی ذہنیت ترک کرتے ہوئے جوہری اسلحے میں تخفیف کے لیے اپنی ذمہ داری نبھائے۔

خیال رہے کہ چین کی جانب سے یہ بیان جمعے کو امریکہ کی نئی جوہری پالیسی کے سامنے آنے کے بعد آیا ہے جس میں امریکہ کے اسلحہ کے ذخائر میں توسیع اور تجدید کا منصوبہ شامل ہے۔

چینی وزارت دفاع نے کہا ہے امریکہ نے چین کے جوہری خطرات کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا ہے۔ اس کے ساتھ یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان کے ہتھیار دفاعی نوعیت کے ہیں۔

اس سے قبل سنیچر کو روس نے کہا تھا کہ نئی امریکی پالیسی ’روس مخالف اور تصادم پیدا کرنے والی ہے۔‘

امریکہ کی نیوکلیر پوسچر ریویو (این پی آر) کی دستاویز میں کہا گیا ہے کہ ’ہماری حکمت عملی اس بات کو یقینی بنائے گی کہ روس اس بات کو سمجھ جائے کہ جوہری ہتھیار کا کسی بھی قسم کا استعمال، چاہے چھوٹے پیمانے پر ہی کیوں نہ ہو، قابل قبول نہیں۔‘

فوجی پریڈ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption چینی وزارت دفاع نے کہا ہے امریکہ نے چین کے جوہری خطرات کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا ہے

امریکہ کے نائب وزیر دفاع پیٹرک شینہن نے کہا ہے کہ ان کے ملک کے جوہری ہتھیاورں نے امریکہ کو 70 سال سے زائد عرصے تک محفوظ رکھا ہے۔

انھوں نے واشنگٹن میں میڈیا بریفنگ کے دوران کہا کہ ’وہ اس کے متروک ہو جانے کو برداشت نہیں کر سکتے۔‘

یہ بھی پڑھیے

دنیا کے جوہری ہتھیار کہاں کہاں ہیں؟

’امریکہ کے لیے چین بھی اتنا ہی بڑا خطرہ جتنا روس'

روس کو سان فرانسسکو میں قونصل خانہ بند کرنے کا حکم

چین کی وزارت دفاع کے ایک ترجمان نے اتوار کو کہا کہ چین امریکی وزارت دفاع کی جانب سے شائع کی جانے والی نیوکلیر پوسچر ریویو (این پی آر) کی سختی کے ساتھ مخالفت کرتا ہے۔

چینی خبر رساں ادارے شنہوا کے مطابق ترجمان رین گوکیانگ نے کہا امریکی دستاویزات میں پیش بندی کے طور پر چین کی ترقی اور اس کی جوہری قوت سے خطرے کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption چین کی پیپلز لبریشن آرمی دنیا کی اہم ترین افواج میں سے ایک ہے

انھوں نے کہا کہ چین نے ہمیشہ جوہری ہتھیار کی تیاری میں انتہائی تحمل کا مظاہرہ کیا ہے اور اپنی قومی سلامتی کی ضرورت کے حساب سے اپنی صلاحیت کو کم سے کم حد تک محدود رکھا ہے۔

ترجمان رین نے کہا کہ وسیع ترین جوہری اسلحہ خانہ رکھنے والے امریکہ کو چاہیے کہ وہ امن کی راہ پر گامزن دنیا کے ساتھ چلے اور اس کی مخالف سمت میں بھاگنے کی کوشش نہ کرے۔

انھوں نے کہا: ’ہمیں امید ہے کہ امریکہ سرد جنگ کی اپنی ذہنیت کو مسترد کرکے اسلحے کی تخفیف کی اپنی مخصوص اور بنیادی ذمہ داری ادا کرے اور چین کے عسکری ارادوں کو سمجھتے ہوئے چين کے قومی دفاع اور فوجی ترقی کا منصفانہ جائزہ لے۔‘

انھوں نے امریکہ کے ساتھ باہمی تعلقات کے استحکام کے لیے اور مشترکہ طور پر عالمی امن و استحکام اور خوشحالی کے تحفظ کے لیے امریکہ کو نصف راستہ طے کرنے پر زور دیا۔

اسی بارے میں