نریندر مودی فلسطینی علاقوں کے دورے پر

نریندر مودی تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نتین یاہو کے دورہ بھارت کے بعد بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نو فروری کو فلسطینی علاقوں کا دورہ کریں گے۔

بھارت کی وزارت خارجہ نے نریندر مودی کے فلسطینی علاقوں کا دورہ کرنے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم مودی عمان اور متحدہ عرب امارات کا بھی دورہ کریں گے۔

حالیہ برسوں میں انڈیا اور اسرائیل کے تعلقات میں بہتری دیکھنے میں آئی ہے اور وزیر اعظم نریندر مودی نے گذشتہ برس جولائی میں اسرائیل کا دورہ کیا تھا جس کے بعد اسرائیل کے وزیر بنیامین نتن یاہو نے جنوری 2018 میں انڈیا کا چھ روزہ دورہ کیا۔

بھارت کے پہلے وزیر اعظم جواہر لعل نہرو کے دور سے بھارت کے فلسطین کے ساتھ عمدہ تعلقات رہے ہیں اور غیر جانبدار ممالک کی تنظیم میں انڈیا نے ہمیشہ فلسطین کی حمایت کی تھی لیکن حالیہ برسوں میں انڈیا کا جھکاؤ اسرائیل کی طرف ہو گیا ہے۔

جب بھارتی وزیر اعظم نے اسرائیل کا دورہ کیا تو اس وقت انھوں نے فلسطینی علاقوں کا دورہ کرنے سے گریز کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

انڈیا کا یروشلم کارڈ

مودی کا اسرائیل کا دورہ 'تاریخی' کیوں ہے؟

بی بی سی کے نامہ نگار زبیر احمد نے جنھوں نے گذشتہ ماہ اسرائیل کا دورہ کیا تھا، کہا ہے کہ انڈیا فلسطینی اور اسرائیلی عوام میں انتہائی مقبول ہے ۔

مسئلہ فلسطین کے حل میں بھارت کے کردار سے متعلق ایک سوال پر زبیر احمد نے کہا کہ انھوں نے جب بھارتی سفارت کاروں سے اس بارے معلومات کے لیے رابطہ کیا تو انھیں ایسا تاثر ملا کہ بھارت ابھی فلسطین اور اسرائیل کے مابین کوئی کردار ادا کرنے کا نہیں سوچ رہا اور بھارت سمجھتا ہے کہ امریکہ ہی اس پچیدہ مسئلے میں کوئی کردار ادا کر سکتا ہے۔

امریکہ کی جانب سے اپنے سفارت خانے کو یروشلم منتقل کرنے کا اعلان پر اقوام متحدہ کے اجلاس میں انڈیا نے جب امریکی اقدام کی حمایت نہ کی تو اسرائیل میں بعض لوگوں نے اس پر اعتراض کیا تھا لیکن اسرائیلی وزیر اعظم نتن یاہو نے اپنے ردعمل میں کہا تھا کہ انڈیا کے فلسطین سے پرانے تعلقات ہیں اور وہ دھیرے دھیرے اسرائیل کی طرف آ رہا ہے۔

اسی بارے میں