مالدیپ بحران: ’انڈیا مدد کے لیے مندوب بھیجے‘

صدر یامین تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

مالدیپ کے سابق صدر محمد نشید نے انڈیا سے اپیل کی ہے کہ ملک میں جاری سیاسی اور آئینی بحران کے حل کے لیے وہ ایک مندوب بھیجیں جسے انڈین فوج کی پشت پناہی حاصل ہو۔

ٹوئٹر پر ایک پیغام میں سابق صدر محمد نشید نے امریکہ سے بھی استدعا کی کہ وہ مالدیپ کی حکومت کے ساتھ کوئی مالیاتی لین دین نہ کرے۔

سابق صدر محمد ناشید اس وقت سری لنکا میں جلا وطنی کی زندگی گزار رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے عدلیہ کے احکامات کو ماننے سے انکار بغاوت کے مترادف ہے۔

انھوں نے صدر یامین اور حکومت سے فوری مستفعی ہونے کا مطالبہ کرتے ہوئے سکیورٹی فورسز پر زور دیا کہ وہ آئین کی پاسداری کریں۔

یاد رہے کہ مالدیپ کی پولیس نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو ملک میں ایمرجنسی کے نفاد کے چند ہی گھنٹوں بعد حراست میں لے لیا ہے۔

یہ بحران اس وقت شروع ہوا تھا جب ملک کے صدر عبداللہ یامین نے سیاسی قیدیوں کی رہائی سے متعلق عدالتی حکم نامہ ماننے سے انکار کیا تھا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ چیف جسٹس عبداللہ سعید اور ایک اور جج علی حمید کو تفتیش کے لیے منگل کی صبح حراست میں لیا گیا۔ تفتیش اور ان پر عائد الزامات کے حوالے سے کسی قسم کی تفصیل فراہم نہیں کی گئی ہے۔

مقامی وقت کے مطابق جب پولیس نے عدالت کو گھیرے میں لیا تو وہاں بہت سے دیگر ججز بھی موجود تھے جنھیں ان کی مرضی کے بغیر اندر رہنا پڑا۔

اس بارے میں مزید پڑھیے

مالدیپ: سابق صدر دہشت گردی کے الزام میں گرفتار

مالدیپ میں 30 روزہ ہنگامی حالت کا اعلان

خیال رہے کہ حکومت نے پہلے ہی پارلیمینٹ کو تحلیل کر دیا ہے اور 15 دن کے لیے ملک میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے جبکہ پولیس نے ملک کے سابق صدر کو بھی گرفتار کر لیا ہے۔

ایمرجنسی کے دوران سکیورٹی حکام کو کسی بھی شخص کو کسی بھی وقت حراست میں لینے کا اختیار دے دیا گیا ہے۔

صدر یامین کی صدارت کو جمعے کے روز شدید دھچکہ لگا جب ملک کی اعلیٰ ترین عدالت نے فیصلہ سنایا کہ زیر حراست نو ممبران پارلیمان کو رہا کیا جائے، جن کے اسمبلی میں واپس جانے کے بعد حزب اختلاف کو اسمبلی میں ایک بار پھر اکثریت حاصل ہو جائے گی۔

صدر یامین نے عدالت کا یہ فیصلہ ماننے سے انکار کر دیا تھا اور کئی سرکاری افسران کو نوکری سے برخاست کر دیا۔

مالدیپ میں حکومت نے سکیورٹی فورسز کو حکم دیا ہے کہ وہ سپریم کورٹ کی جانب سے صدر عبداللہ یامین کو گرفتار کرنے یا مواخذے کی کارروائی کے کسی حکم پر عمل درآمد نہ کریں۔

سپریم کورٹ نے جمعے کو فیصلہ سنایا تھا کہ جلاوطن سابق صدر محمد ناشید کا ٹرائل غیر آئینی ہے اور ساتھ ہی عدالت نے نو ارکان پارلیمان کی رہائی کا حکم دیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پولیس نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے حق میں جمع ہونے والے مظاہرین کو روک دیا

ملک کے اٹارنی جنرل کا کہنا ہے کہ صدر کو گرفتار کرنے کی کوئی بھی کارروائی غیر قانونی ہو گی۔

اٹارنی جنرل انیل نے اتوار کو ایک پریس کانفرنس کی جس میں وزارتِ دفاع کے سربراہ جنرل شیام اور پولیس کمشنر عبداللہ نواز شریک تھے جن کے پیشرو کو یہ کہنے پر نوکری سے نکال دیا گیا تھا کہ وہ سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل درآمد کریں گے۔

اٹارنی جنرل کے مطابق انھیں لگتا ہے کہ سپریم کورٹ یہ فیصلے دینے کی کوشش کر سکتی ہے کہ صدر اقتدار میں مزید نہیں رہ سکتے ہیں۔

’ہمیں معلومات ملی ہیں کہ یہ چیزیں رونما ہو سکتی ہیں جس کے نتیجے میں سلامتی کا قومی بحران پیدا ہو سکتا ہے۔ سپریم کورٹ کا صدر کو گرفتار کرنے کا حکم غیر آئینی اور غیر قانونی ہو سکتا ہے۔ تو میں نے پولیس اور فوج نے سے کہا ہے کہ کسی بھی غیر آئینی حکمنامے پر عمل درآمد نہ کیا جائے۔‘

ٹی وی پر براہ راست دکھائی جانے والی تقریب میں فوج اور پولیس کے اعلیٰ اہلکاروں کو حکومت کے دفاع میں اپنی جانیں دینے کا حلف اٹھاتے ہوئے دیکھایا گیا ہے۔

اس تقریب کے بعد حزب اختلاف کے سینکڑوں کارکن دارالحکومت مالے میں احتجاج کے لیے جمع ہو گئے ہیں اور حراست میں لیے گئے سیاسی قیدیوں کی رہائی اور ملک کے آئین کا احترام کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

مالدیپ کی حزب اختلاف کی جماعت مالدیپیئن ڈیموکریمک پارٹی کے ایک ترجمان حامد عبد الغفور کا کہنا ہے کہ پولیس رشوت لینے کے الزام میں دو اعلیٰ ججوں کو گرفتار کرنے کی کوشش کر رہی تھی جس میں چیف جسٹس بھی شامل تھے۔

انھوں نے کہا ہے کہ حکومت عدلیہ کے اختیارات غصب کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سابق محمد ناشید اس وقت سری لنکا میں جلا وطنی کی زندگی گزار رہے ہیں

جمعے کو عدالت نے نو ارکان اسمبلی کی فوری رہائی اور سابق صدر سمیت حزب اختلاف کے دیگر رہنماؤں کا ازسر نو ٹرائل کا حکم دیا تھا۔

عدالت کا کہنا تھا کہ سابق صدر کا ٹرائل غیر آئینی تھا تاہم حکومت نے عدلیہ کے حکمنامے پر سنیچر کو اپنے ردعمل میں پارلیمان کو غیر میعنہ مدت کے لیے بند کر دیا جبکہ حزب اختلاف کے دو ارکان کو وطن واپسی پر پولیس نے حراست میں لے لیا۔

خیال رہے کہ مالدیپ میں 2015 سے سیاسی بحران جاری ہے جب ملک کے پہلے جمہوری صدر محمد ناشید کو اس وقت ملک کے انسداد دہشت گردی قوانین کے تحت سزا سنائی گئی جب انھوں نے ایک جج کو گرفتار کرنے کا حکم دیا تھا۔

متعلقہ عنوانات