چین میں ’ماں اپنی بیمار بچی کے علاج کے لیے چھاتی کا دودھ بیچنے پر مجبور‘

تصویر کے کاپی رائٹ PEAR VIDEO

چین میں ایک خاتون سڑک پر چھاتی کا دودھ بیچنے پر مجبور ہوئی ہے تاکہ اپنی بیماری بچی کے علاج کے لیے پیسے جمع کر سکے۔

میاوپی ویب سائٹ پر پیئر ویڈیو نے ایک ویڈیو جاری کی ہے جس میں ایک خاتون اور ان کا شوہر بتاتے ہیں کہ انھیں اپنے ایک بچے کے علاج کے لیے کم از کم 11 ہزار 250 ڈالر کی ضرورت ہے جو اس وقت انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں زیر علاج ہے۔

اس ویڈیو کو 24 لاکھ مرتبہ دیکھا گیا ہے اور سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ویبو پر جاری ہونے کے بعد اس پر پانچ ہزار تبصرے کیے جا چکے ہیں۔

اس بارے میں مزید پڑھیے

ماں کا دودھ اب سوشل میڈیا پر بھی دستیاب

پارلیمان میں بچے کو اپنا دودھ پلانے والی پہلی سیاست دان

'شیرخوار نے کینسر کی تشخیص میں مدد کی'

یہ ویڈیو شینزین شہر میں واقع بچوں کے پارک میں فلمائی گئی جس میں ماں کہتی ہے کہ وہ اپنی چھاتی کا دودھ بیچ رہی ہیں تاکہ پیسوں کا انتظام جلدی ہو سکے۔

ماں کے مطابق اس کی جڑواں بچیوں میں ایک شہر کے ڈسڑکٹ ہسپتال کے انتہائی نگہداشت وراڈ میں زیر علاج ہے۔

ویڈیو میں اس خاتون کا شوہر بتایا ہے کہ انھیں ہسپتال کا ہزاروں یوآن کا بل ادا کرنا ہے اور ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ان کی بیٹی کی صحت یابی پر انھیں کم از 11 ہزار 250 ڈالر ادا کرنے ہوں گے۔

اس ویڈیو کے سامنے آنے کے بعد چین میں صحت کے شعبے پر تنقید کی جا رہی ہے کیونکہ چین میں حالیہ برسوں میں طبی مراکز پر مریضوں کے دباؤ میں اضافہ ہوا ہے اور دعویٰ کیا جاتا ہے کہ ان مراکز میں لگی قطاروں سے بچنے کے لیے اضافی رقم ادا کرنا پڑتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ PEAR VIDEO

ویڈیو پر زیادہ تر لوگوں نے ہمددری پر مبنی پیغامات لکھے ہیں جس میں لوگ کہہ رہے ہیں کہ’ دودھ بیچوں، لڑکی بچاؤ‘۔

بعض لوگوں نے اس جوڑے کے پاس سے گزرنے والوں سے اپیل کی ہے کہ وہ انھیں رقم دیں جبکہ بعض کا کہنا کہ والدین کو سڑک پر دیکھنے پر وہ ان کی مالی مدد کریں گے۔

تاہم چند صارفین نے اس اقدام پر تنقید بھی کی ہے جس میں ایک شخص نے اس فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے لکھا کہ چھاتی کا دودھ فروخت کر کے مدد لینے کا ایک بازاری طریقہ ہے۔

ایک اور صارف نے لکھا کہ’ ہر کوئی سمجھ سکتا ہے کہ آپ بے مدد ہیں اور امداد کی امید کر رہے ہیں لیکن اگر دودھ فروخت کرتے ہیں تو کس طرح اپنی وقار کو برقرار رکھ سکتے ہیں۔

لیکن ایک شخص نے منفی تبصروں پر تنقید کرتے ہوئے لکھا کہ’ سب سے زیادہ بے بس والدین کا پیار ہے۔۔۔۔ جو آن لائن اسے ناگوار کہہ رہے ہیں انھیں سوچنا چاہیے کہ اگر یہ آپ کا بچہ ہوتا تو کیا آپ اپنے آپ کی پرواہ کرتے یا اپنے بچے کی زندگی کی۔‘

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں