سرینگر: ہسپتال پر حملہ، ’پاکستانی شدت پسند فرار‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں پولیس کا کہنا ہے کہ چند شدت پسندوں نے سرینگر کے اُس ہسپتال پر حملہ کیا جہاں علاج کی غرض سے ایک ’پاکستانی شدت پسند‘ کو لایا گیا تھا۔

مقامی پولیس کے مطابق شدت پسندوں کے اس حملے کے دوران حراست میں موجود شدت پسند فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا ہے۔ حکام کے مطابق حملے کے دوران ایک پولیس اہلکار ہلاک جبکہ دو زخمی ہوگئے ہیں۔

جموں اور کشمیر پولیس کے ڈی آئی جی حسن بٹ نے مقامی صحافی ماجد جہانگیر کو بتایا ہے کہ ’پولیس ایک پاکستانی شدت پسند کو پولیس سٹیشن سے سرینگر کے ایس ایم ایچ ایس ہسپتال لے کر آئی تھی کہ اس دوران مشتبہ شدت پسندوں نے حملہ کر دیا۔‘

فرار ہونے والے شدت پسند کا نام نوید جٹ بتایا گیا ہے، اور اسے گذشتہ سال جنوبی شہر شوپیاں سے حراست میں لیا گیا تھا۔

حملے کے بعد سری نگر کی سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق سرینگر میں مہاراجہ ہری سنگھ ہسپتال کے باہر بدھ کی صبح ساڑھے گیارہ بجے جموں کشمیر پولیس کی ایک گاڑی سے پولیس اہلکاروں نے چھہ قیدیوں کو ہسپتال میں طبی معائنہ کے لئے اُتارا تو ان پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کی۔

سرینگر سے نامہ نگار ریاض مسرور نے بتایا کہ اس واقعہ میں ایک پولیس اہلکار مشتاق احمد موقعہ پر ہی ہلاک ہوگیا جبکہ ایک اور اہلکار بابر خاں کی موت ہسپتال میں ہوئی۔

پولیس کے مطابق فرار ہونے والا شدت پسند نوید جاٹ عرف ابو ہنزلہ ساہی والاں ملتان کا رہنے والا ہے اور سنہ 2012 سے جنوبی کشمیر میں سرگرم تھا ۔ سنہ 2014 میں گرفتار کے وقت نوید مسلح گروپ لشکر طیبہ کا ڈپٹی چیف کمانڈر تھا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ نوید ابو قاسم سمیت لشکر کے کئی اعلیِ کمانڈروں کے قریب تھا۔ اسے دوبارہ گرفتار کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر تلاش شروع کی گئی ہے۔ سرینگر کے ایس ایس پی امیتاز اسماعیل کا کہنا ہے کہ نوید کو بہت جلد دوبارہ گرفتار کر لیا جائے گا۔

سیکورٹی حکام چند سال قبل سرینگر کو تشدد سے پاک قرار دے چکے ہیں۔ تاہم جس ڈرامائی انداز سے آج نوید جاٹ فرار ہوگیا اس سے پولیس اور فوجی حکام کو خدشہ ہے کہ اس سال سرینگر میں بھی مسلح تشدد کی سطح بڑھ جائے گی۔

واضح رہے گزشتہ تین سال سے مسلح تشدد کا مرکز جنوبی کشمیر رہا ہے۔ شمالی اضلاع میں بھی مسلح حملے ہوتے رہے ہیں لیکن فوج، پولیس اور نیم فوجی اداروں کی توجہ کا مرکز جنوبی کشمیر ہی رہا جہاں گزشتہ سال مختلف تصادموں میں دو سو بیس شدت پسند مارے گئے۔

حزب مخالف نیشنل کانفرنس اور کانگریس نے محبوبہ مفتی کی حکومت پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ لوگوں کے مال و جان کی حفاظت کرنے میں ناکام ہوگئی ہے کیونکہ سرحدوں سے شہری علاقوں تک عدم تحفظ کی لہر پھیل گئی ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں