’پاکستانی‘ کہنے پر تین سال کی سزا!

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

انڈیا میں حکمراں بھارتیہ جنتا پارٹی کے ایک متنازع رہنما کا کہنا ہے کہ ملک کے مسلمانوں کو پاکستان چلے جانا چاہیے۔

ونے کٹیار لوک سبھا کے رکن ہیں اور ان کا خیال ہے کہ چونکہ ’مسلمانوں نے ملک کا بٹوارا کیا تھا‘۔۔۔ اس لیے اب ان کا یہاں کوئی کام باقی نہیں ہے، آبادی کے لحاظ سے مسلمانوں کو زمین دے دی گئی تھی، وہ پاکستان یا بنگلہ دیش جاسکتے ہیں۔

اس سے پہلے بھی بی جے پی کے کئی سینئر رہنما، جن میں وفاقی وزیر گری راج کشور بھی شامل ہیں، ہندوستانی مسلمانوں کو پاکستان جانے کا مشورہ دے چکے ہیں۔ خود ونے کٹیار نے چند روز قبل کہا تھا کہ اتر پردیش کے کاس گنج شہر میں رونما ہونے والے مذہبی تشدد میں ’پاکستان پرست‘ لوگوں کا ہاتھ تھا۔

لہٰذا پاکستان جانے کا مشورہ نیا نہیں ہے، لیکن مسلمان ہیں کہ سنتے کہاں ہیں؟ وہ اپنا بوریا بستر باندھنے کے بجائے پارلیمان میں یہ مطالبہ کررہے ہیں کہ ایک نیا قانون وضع کیا جائے جس کے تحت کسی بھی مسلمان کو ’پاکستانی‘ کہنے والے شخص کو تین سال قید کی سزا دی جانی چاہیے۔ یعنی اتنی ہی سزا جتنی کے حکومت نے تین طلاق سے متعلق بل میں طلاق دینے والے شوہروں کے لیے تجویز کی ہے۔

مزید پڑھیے

کیوں بھئی،انڈین مسلمان پاکستانی ہیں کیا؟

عبدالقیوم خان اب پاکستان کیوں نہیں جانا چاہتے؟

پتہ کرو، کبوتر مسلمان ہے یا ہندو؟

اگر حکومت یہ قانون بناتی ہے تو کیا کسی ہندو کو بھی پاکستانی کہنے پر سزا دی جاسکے گی؟ اور اگر کبھی انڈیا اور پاکستان کے تعلقات دوستانہ ہو گئے، تو کیا تب بھی یہ جرم ہی رہے گا؟ مثال کے طور پر آپ کسی کو امریکی کہہ دیں تو کون برا مانتا ہے؟ وہ شاید آپ سے یہ ہی کہے گا کہ بھائی ویزا لگوا دو۔

مسلمانوں کو پاکستان جانے کا مشورہ شاید اس لیے دیا جاتا ہے کہ وہ ہمسایہ ملک ہے، وہاں جانا آسان ہے۔ ونے کٹیار سوچتے ہوں گے کہ امریکہ، کینیڈا یا برطانیہ جانے کے لیے بہت پیسہ چاہیے ہوگا جو زیادہ تر مسلمانوں کے پاس ہے نہیں، بے چارے کہاں مانگتے پھریں گے۔ ایک نئی زندگی کی شروعات قرض کے ساتھ نہیں ہونی چاہیے۔ اور سپریم کورٹ کے حکم کے بعد اب حکومت سفر کے لیے انہیں سبسڈی بھی نہیں دے سکتی۔ ( سپریم کورٹ کے حکم کے بعد حج کی سبسڈی بتدریج ختم کردی گئی ہے)

اس پرانی کہانی میں بنگہ دیش کا ذکر پہلی بار کیا گیا ہے، اب تک وہاں صرف ان بنگلہ دیشی مسلمانوں کو ہی واپس بھیجنے کی بات ہوتی رہی ہے جو حکومت کے مطابق غیر قانونی طور پر یہاں آکر آباد ہوگئے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

مسئلہ یہ ہے کہ اس بارے میں پاکستان اور بنگلہ دیش سے اب تک کسی نے بات نہیں کی ہے۔ اگر ہوئی ہے تو اسے عام نہیں کیا گیا ہے، لیکن اگر نہ ہوئی ہوتی تو کوئی سینیئر رہنما ونے کٹیار سے یہ کہہ چکا ہوتا کہ ذرا سوچ سمجھ کر بولا کریں۔۔۔ اگر (ونے کٹیار کے) حب الوطنی کے ٹیسٹ میں آدھے مسلمان بھی فیل ہوگئے تو آٹھ دس کروڑ لوگ پاکستان کے بارڈر پر کھڑے نظر آئیں گے، اور اگر پاکستان نے سرحد کے دروازے نہیں کھولے تو آپ نے سوچا ہے کہ وہاں ٹائلٹ کا انتظام کرنا کتنا مشکل ہو جائے گا؟

کتنی گندگی ہوگی؟ وزیر اعظم کی سوچھ بھارت (صاف ستھرا ہندوستان) مہم کا کیا ہوگا؟

اور کسی وجہ سےنہیں تو سوچھ بھارت مہم کو خطرے میں ڈالنے کے لیے ہی ونے کٹیار کے خلاف کارروائی کی جانی چاہیے۔

حکومت نے منگل کو ہی کچھ اعداد و شمار جاری کیے ہیں۔ انڈیا میں گذشتہ برس مذہبی تشدد کے 822 واقعات پیش آئے جن میں111 افراد ہلاک ہوئے اور ڈھائی ہزار سے کچھ کم زخمی۔ تشدد کے واقعات کی تعداد سن 2016 کے مقابلے میں سترہ فیصد زیادہ ہے۔

اس فہرست میں شمالی ریاست اتر پردیش سب سے آگے ہے جہاں ایک ’یوگی‘ یا ہندو مذہبی رہنما حکومت چلاتے ہیں۔ دوسرے نمبر پر جنوبی ریاست کرناٹک ہے۔

ہو سکتا ہے کہ ونے کٹیار مذہبی تشدد کا مسئلہ ہمیشہ کے لیے حل کرنے کے بارے میں سوچ رہے ہوں، کیونکہ اس سے خود ان کی حکومت کی بدنامی ہوتی ہے۔

اسے کہتے ہیں ’آؤٹ آف دی باکس تھنکنگ۔‘

بالکل اسی طرح سماجوادی پارٹی کے ایک رہنما جاوید علی نے بھی ایک انقلابی آئیڈیا دیا ہے۔ گذشتہ ہفتے پارلیمان میں بولتے ہوئے انھوں نے کہا کہ انڈیا کو ان تمام ممالک سے سفارتی تعلقات ختم کردینے چاہئیں جہاں گائے کا گوشت کھایا جاتا ہے۔

بحث گائے کے تحفظ پر تھی۔ جاوید علی نے اس بل کے حق میں بولتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم نے امریکہ اور اسرائیل کے رہنماؤں کو گلے لگایا ہے حالانکہ وہ بیف کھاتے ہیں، حکومت کو ان ممالک سے رشتے ختم کردینے چاہئیں۔

’ہمیں ان سے کہنا چاہیے کہ اگر تم ہم سے محبت کرتے ہو تو ہماری ثقافت اور طور طریقوں سے بھی محبت کرو۔۔۔اگر تم گائے کا گوشت کھاتے ہو یا اس کا کاروبار کرتے ہو، تو تم ہمارے دشمن ہو!‘

جاوید علی کا کہنا ہےکہ بیف استعمال کرنے والے ملک چاہے اسلامی ہوں یا کوئی اور حکومت کو ان سے کوئی تعلق نہیں رکھنا چاہیے۔ لیکن اگر ایسا ہوا تو اس فہرست میں پاکستان اور بنگلہ دیش بھی آجائیں گے۔

اور پھر مذہبی تشدد ختم کرنے کے لیے ونے کٹیار کو کوئی نیا فارمولہ سوچنا پڑے گا کیونکہ دشمن ملک تو آٹھ دس کروڑ لوگوں کو بس یوں ہی اپنے یہاں بسانے سے رہے۔

اگر اپنے ونے کٹیار کا مشورہ سن کر اپنا بستر باندھ لیا ہو تو کھول دیجیے!

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں