’صنعتی ممالک کا گند پاکستان جیسے ممالک بھگت رہے ہیں‘

عمر دابلا
Image caption دریائے سندھ کے ڈیلٹا میں واقع ایک گاؤں میں پیدا ہونے کی وجہ سے عمر کو سمندر کے بغیر کسی قسم کی زندگی کا کوئی تجربہ نہیں ہے

کراچی کی کچی آبادی ریڑھی گوٹھ میں اپنے کچے مکان میں بیٹھا عمر دابلا اپنے ماہی گیری کے جال کو پیوند کر رہا ہے۔ سمندر اس کے کیچڑ سے بھرے صحن سے زیادہ دور نہیں ہے۔ جب سمندر چڑھا ہوا ہو تو لہریں اس کے گھر کی چھوٹی بیرونی دیوار سے ٹکراتی ہیں اور نمکین پانی اس کے گھر میں داخل ہوتا ہے۔

آج چونکہ سمندر دھیمے مزاج میں ہے، اسی لیے عمر کا صحن قدرے خشک ہے۔ عمر موسمِ سرما کے سورج کے مزے لوٹ رہا ہے، اور ہاتھ میں چاقو پکڑے تیزی کے ساتھ جال کا خراب حصہ کاٹ رہا ہے۔ اس کی انگلیاں اس قدر روانی سے جال پر دوڑے جا رہی ہیں جیسے وہ ہمیشہ سے یہی کام کرتے چلا آیا ہو۔

ماحولیاتی تبدیلی کیا ہے؟

چھ افراد میں سے ایک کی موت کی وجہ آلودگی

پاکستان میں خشک سالی سے زرعی پیداوار متاثر

عمر کی سیاہ جلد واضح طور سورج کی تپش برداشت کرتی اور ان کے محنت کش ہاتھ لکڑی کی طرح سخت ہو چکے ہیں، مگر ان میں حرکت سمندر سے آتی ٹھنڈی ہوا کی طرح خوشگوار اور حسین ہے۔

دریائے سندھ کے ڈیلٹا میں واقع ایک گاؤں میں پیدا ہونے کی وجہ سے عمر کو سمندر کے بغیر کسی قسم کی زندگی کا کوئی اندازہ نہیں ہے۔ بہت سے مچھیروں کی طرح وہ خود کو سمندر کا بیٹا کہتا ہے۔ مگر پانی کی بڑھتی ہوئی سطح کی وجہ سے اسے ترشیاں کریک میں اپنا آبائی گاؤں چھوڑ کر کراچی منتقل ہونا پڑا۔

عمر کا کہنا ہے کہ ’ترشیاں میں پانی کی سطح بڑھ رہی ہے اور گاؤں چھوٹا ہوتے ہوتے جزیرہ بن گیا ہے۔ ہمارے مکان زیادہ تر وقت زیرِ آب رہتے ہیں۔ وہ مقام اب قابلِ رہائش نہیں ہے۔ ہم جال نہیں بُن سکتے، کھانا نہیں بنا سکتے۔ جب ہمارے بچے نمکین پانی میں کھیلتے ہیں تو انھیں بیماریاں لگتی ہیں۔‘

گذشتہ سال عمر ترشیاں چھوڑ کر ریڑھی گوٹھ منتقل ہو گئے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان ان ممالک میں سے ایک ہے جہاں ماحولیاتی تبدیلی بڑے پیمانے پر آبادی کی نقل مکانی کروا سکتی ہے۔ ماحولیاتی تبدیلی سے متاثر ہونے کے خطرے کی تازہ ترین عالمی درجہ بندی میں پاکستان ساتویں نمبر پر ہے۔

ریڑھی گوٹھ سے چند کلومیٹر دور کراچی کا سپر ہائی وے شہر کے تیز پھیلاؤ کی علامت بن گیا ہے۔ سڑک کے پار سندھ آباد نامی ایک عارضی گاؤں بن گیا ہے جہاں چھ ہزار خاندان شدید غربت میں رہ رہے ہیں۔

یہ گاؤں اگست 2010 میں آنے والے شدید سیلاب کے بعد وجود میں آیا۔ اس سیلاب میں ملک کا تقریباً پانچواں حصہ زیرِ آب آ گیا تھا اور لاکھوں لوگ بے گھر ہوئے تھے۔ اس سیلاب کو پاکستان کی تاریخ میں آنے والی بدترین قدرتی آفات میں سے ایک مانا جاتا ہے۔

سیلاب کے بعد اس عارضی رہائشی کیمپ جو اب ایک گاؤں کی شکل اختیار کر گیا ہے، سیلاب کے بعد 26 ہزار خاندانوں کی پناہ گاہ بنا تھا۔ روشن مائی کا خاندان ایک میں سے ایک تھا۔

ان کے گھر پر کچھ پھٹے پرانے کپڑوں کے ٹکڑے پردوں کی طرح لٹکے ہوئے تھے اور کوئی دروازہ نہ تھا۔ تو گھر میں داخل ہونے سے قبل ہم نے کچھ دیر انتظار کیا اور داخل ہونے پر انھیں بتایا کہ ہم آ گئے ہیں۔

روشن مائی صحن میں بیٹھی لکڑیاں جلانے کی کوشش کر رہی تھیں تاکہ وہ کچھ پکا سکے۔

اسے یاد تھا کہ کس طرح وہ سکھر ضلع میں اپنا گاؤں چھوڑ کر آئی تھیں۔ ’جو بدن پر کپڑے تھے بس وہی بچے، باقی سب جان بچانے کے لیے چھوڑ آئے۔‘

’کئی ماہ تک تو ہم سڑکوں پر سورج تلے رہے، پھر چھوٹی لکڑیاں اکٹھی کرنا شروع کیں اور یہ جھونپڑی بنائی۔‘

اتنے سالوں میں ہزاروں خاندان یا تو واپس گھروں کو لوٹ گئے ہیں یا دیگر کیمپوں میں منتقل ہو گئے مگر روشن مائی آج بھی یہاں رہنے پر مجبور ہے۔ یہ عبوری پناہ گزین کیمپ بالکل بنیادی سہولیات بھی نہیں دیتا۔

’ہمیں حکومت نے کچھ نہیں دیا۔ سب ہم نے خود کیا ہے۔‘

اس کیمپ میں نہ کوئی سکول ہے، نہ ہسپتال، نہ پانی کا کوئی نظام اور نہ ہی کسی قسم کا کوئی ایندھن۔

مگر روشن مائی کہتی ہیں ان کے پاس جانے کو کوئی اور جگہ نہیں ہے۔

گذشتہ ایک دہائی کے دوران پاکستان میں قحط، سیلاب، شدید گرمی کی لہریں، سمندری کٹاؤ، سمندری پانی سے آلودگی، اور گلیشیئر کی جھیلوں کے پھٹنے کے کئی واقعات ہوئے ہیں۔

اس سے ہزاروں لوگوں کو اپنے گھر چھوڑنے پڑے ہیں۔ ماحولیاتی تبدیلی کی وجہ سے نقل مکانی کرنے والے ہزاروں نے کراچی کا رخ کیا تھا اور وہ شدید غربت میں گزر بسر کر رہے ہیں۔

سندھ آباد گوٹھ ان کے لیے ایک پرکشش منزل ہے۔ پیر فقیر سرہندی اس گاؤں کے منتظم ہیں۔

وہ کہتے ہیں: ’یہ لوگ سارے ملک سے اٹھ کر آئے ہیں۔۔۔ یہ حکومت کی زمین ہے، ہم قبضہ گروپ نہیں ہیں۔‘

مگر ان کا دعویٰ ہے کہ حکومت ان کے لیے کچھ نہیں کر رہی۔ انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ 73 افراد جن میں عورتیں اور بچے، صرف سڑک پار کر کے پانی لانے کے دوران ہلاک ہو چکے ہیں۔

’ان میں سے زیادہ تر لوگ ایسی جگہوں سے آئے ہیں جہاں انھیں تیز یا بھاری ٹریفک کی عادت نہیں۔‘

پاکستان میں حکام کا کہنا ہے کہ انھیں مسئلے کا اندازہ ہے مگر یہ ایک عالمی مسئلہ ہے اور پاکستان اسے اکیلا حل نہیں کر سکتا۔

مشاہد اللہ پاکستان میں ماحولیاتی تبدیلی سے متعلق وزیر ہیں۔

’اس ملک کو 40 ارب ڈالر سالانہ صرف اثرات سے نمٹنے کے لیے اور 14 ارب ڈالر تبدیلیاں لانے کے لیے درکار ہیں۔ ہمارے پاس یہ پیسے نہیں ہیں۔‘

’یہ صنعتی ممالک کا بنایا گیا گند ہے اور اسے پاکستان جیسے ممالک بھگت رہے ہیں۔ اس بحران سے نمٹنا اور لوگوں کو بے گھر ہونے سے بچانا سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

مگر عمر دابلا کو ماحولیاتی تبدیلی کے بارے میں کچھ خاص معلوم نہیں ہے۔ اسے بس یہ معلوم ہے کہ طاقتور سمندر اس کا گاؤں کھاتا جا رہا ہے اور جلد ہی وہ صفحۂ ہستی سے مٹ جائے گا۔

وہ کہتے ہیں: ’جسم پر زخم ٹھیک ہو جاتے ہیں مگر جو آپ کے دل پر آتے ہیں وہ ہمیشہ رہتے ہیں۔ میرا دل کبھی ٹھیک نہیں ہو گا۔ مجھے اپنا گھر ہمیشہ یاد آئے گا۔‘

اسی بارے میں