سرینگر: پولیس کیمپ پر حملہ ایک اہلکار ہلاک

کشمیر تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

انڈیا کے زیرانتظام کشمیر میں پولیس حکام کا کہنا ہے کہ سرینگر کے مرکزی علاقے میں قائم سینٹرل ریزرو پولیس فورس کے کیمپ پر دو مسلح شدت پسندوں نے داخل ہونے کی کوشش کی۔

پیر کی صبح ساڑھے چار بجے کرن نگر قائم سینٹرل ریزرو پولیس فورس کے کیمپ میں مسلح افراد کے داخل ہونے کی اس کوشش کو سکیورٹی فورسز نے ناکام بنا دیا۔

بی بی سی کے نامہ نگار ریاض مسرور کے مطابق نیم فوجی ادارہ سی آر پی ایف کا کہنا ہے کہ دو مسلح حملہ آوروں کو ایک عمارت میں گھیر لیا گیا ہے۔

انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں فوجی محاصرہ، احتجاج

جائیں تو جائیں کہاں؟

کشمیرکی نئی عسکریت پسندی زیادہ دیرپا؟

سی آر پی ایف کے ترجمان راجیش یادھو کے مطابق کیمپ سے فرار کے بعد دو مسلح حملہ آوروں نے قریبی عمارت میں پناہ لے لی جس کے بعد انھیں گھیرے میں لے لیا گیا۔

حکام کا کہنا ہے کہ عمارت میں چھپے حملہ آوروں اور فورسز کے درمیان فائرنگ جاری ہے اور اس دوران دو سی آر پی ایف اہلکار زخمی ہوگئے جن میں سے بعد میں مجاہد خان نامی اہلکار ہلاک ہو گیا ہے۔

کرن نگر علاقہ سرینگر کا بہت مصروف علاقہ ہے، جہاں سب سے بڑا طبی مرکز سری مہاراجہ ہری سنگھ ہسپتال، میڈیکل کالج اور تجارتی مراکز واقع ہیں۔

ہسپتال احاطے سے گذشتہ ہفتے لشکرطیبہ کے کمانڈر پولیس کی قید سے اُس وقت فرار ہوگئے تھے جب انھیں دیگر قیدیوں کے ہمراہ طبی معائنہ کے لیے ہسپتال لایا گیا۔

پولیس پر مسلح افراد نے فائرنگ کی تھی جس میں دو پولیس اہلکار ہلاک ہو گئے اور لشکر کا مطلوب ترین کمانڈر نوید جھاٹ فرار ہو گیا۔

پیر کو جس کیمپ کو نشانہ بنایا گیا وہ اس ہسپتال کے قریب واقع ہے۔

کشمیر میں بگڑتی ہوئی سکیورٹی صورتحال پر محبوبہ مفتی کی حکومت کی اتحادی بی جے پی نے پاکستان کے خلاف احتجاج کیا اور الزام عائد کیا کہ پاکستان کشمیر میں مسلح شورش کو ہوا دے رہا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں