انڈیا میں ’لڑکی جہیز کی خاطر مرد بن گئی‘

انڈیا
،تصویر کا کیپشن

پولیس نے بی بی سی کو بتایا کہ دوران تفتیش یہ معلوم ہوا ہے کہ کرشنا ایک خاتون ہیں

انڈیا میں پولیس نے ایک ایسی خاتون کو گرفتار کیا ہے جس نے مبینہ طور پر خود کو مرد ظاہر کر کے دو خواتین کو شادی کے لیے دھوکا دیا تاکہ جہیز لے سکیں۔

کرشنا سین کو بدھ کے روز انڈیا کی شمالی ریاست اتر کھنڈ سے جہیز کا مطالبہ کرنے پر گرفتار کیا۔ انڈیا میں جہیز کا مطالبہ کرنا غیر قانونی ہے۔

پولیس نے بی بی سی کو بتایا کہ دوران تفتیش یہ معلوم ہوا ہے کہ کرشنا ایک خاتون ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

ان کے خیال میں 26 سالہ کرشنا سین جو سوئٹی کے نام سے جانی جاتی ہیں سنہ 2014 سے جب انھوں نے پہلی لڑکی سے شادی کی خود کو مرد ظاہر کر رہی ہیں۔

اعلیٰ پولیس اہلکار جنامیجے کھندوری نے بی بی سی کو بتایا کہ ’شروع میں تو ہمیں سمجھ ہی نہیں آئی کہ آخر کرشنا یہ کیا کہہ رہی ہیں۔‘

’ہم نے ان کا طبی معائنہ کروایا تو معلوم ہوا کہ وہ خاتون ہیں۔‘

اطلاعات کے مطابق کرشنا سین اور ان کی پہلی بیوی کے درمیان شادی کے فوراً بعد ہی علیحدگی ہو گئی تھی، اور انھوں نے اپریل 2017 میں ایک اور شادی کر لی تھی۔

لیکن ان کے سابق سسرال والوں نے ان پر ان کی بیٹی کو جہیز کی خاطر ہراساں کرنے کا الزام لگاتے ہوئے پولیس کے پاس مقدمہ درج کیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہYoutube

انھوں نے یہ الزام بھی لگایا ہے کہ کرشنا نے ان سے کاروبار شروع کرنے کے لیے آٹھ لاکھ 50 ہزار روپے قرض لیے تھے جو انھوں نے واپس نہیں کیے۔

عام طور پر جہیز دلہن کے گھر والوں کی طرف سے دولہے کے گھر والوں کو دیا جاتا ہے، تاہم انڈیا میں جہیز کی ادائیگی پر سنہ 1961 سے پابندی عائد ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ کرشنا نے انھیں بتایا کہ وہ ہمیشہ یہ چاہتی تھیں کہ وہ ایک لڑکا ہوتیں اور ’مردوں والی زندگی گزارتیں‘۔ پولیس کے مطابق یہ تاحال واضح نہیں کہ آیا کرشنا کے والدین کو اس بارے میں علم تھا یا نہیں۔

ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جن دو خواتین نے ان کے ساتھ شادی کی انھیں کرشنا پر ذرا سا بھی شک نہیں ہوا تھا۔

پولیس نے یہ بھی بتایا ہے کہ کرشنا کے زیادہ تر دوست مرد تھے اور وہ مردانہ ٹوائلٹ ہی استعمال کرتی اور مختلف انداز میں بات کرتی تھی۔

ایک اور پولیس اہلکار نے بتایا کہ ’کرشنا کے بال، رویہ اور لباس مردوں جیسا تھا۔ اسی لیے کسی کو بھی ان پر شک نہیں ہوا۔‘