انڈیا: فراڈ کی تحقیقات میں شامل ارب پتی مودی کون ہیں؟

نیروو مود اداکارہ واٹس کے ساتھ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

وہ پہلے ہی انڈیا کے دوسرے سب سے مقبول ’این مودی‘ بن چکے ہیں۔

بالی وڈ اور ہالی وڈ سٹارز کو جیولری فروخت کرنے والے ہیروں کے ارب پتی تاجر نیروو مودی کا خاندانی نام ملک کے وزیراعظم سے ملتا ہے لیکن وہ مختلف وجوہات کی وجہ سے ان دنوں خبروں میں ہیں۔

گذشتہ ماہ پنجاب نیشنل بینک نے فوجداری مقدمہ درج کرایا ہے جس میں نیروو مودی سمیت دیگر افراد پر چار کروڑ 38 لاکھ ڈالر کے فراڈ کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

اس بارے میں مزید پڑھیے

چارا گھپلہ سکینڈل: لالو پرساد کیس میں مجرم قرار

ہیلی کاپٹر سکینڈل: انڈین فضائیہ کے سابق سربراہ گرفتار

'کرنسی نوٹوں پر پابندی کی پالیسی ناکام رہی'

پھر رواں ہفتے انڈیا کے دوسرے بڑے سرکاری بینک نے کھلے عام ان پر الزام عائد کیا کہ نیروو مودی ان لوگوں میں شامل ہیں جنھوں نے بینک سے ایک ارب 80 کروڑ ڈالر کا فراڈ کیا۔

انڈیا کے وزیر انصاف و قانون روی شنکر پرساد نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ ’نیروو مودی اور ان کے ساتھ دیگر شریک جرم افراد نے بینک کے موجودہ چینلز کو بائی پاس کرتے ہوئے فراڈ کیا‘۔

اب پولیس نے نیروو مودی کے خلاف باضابطہ تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے تاہم ان پر ابھی تک کوئی باقاعدہ الزام عائد نہیں کیا گیا۔

نیروو مودی نے ابھی ان دعوؤں پر کوئی درعمل نہیں دیا ہے اور تاحال تحقیقات کرنے والے ان سے رابطہ یا بات کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے ہیں۔

تاہم پولیس نے اس بڑے مالیاتی سکینڈل سے جڑے بڑے جیولری سٹورز پر چھاپے مارے ہیں اور ان کے وزیراعظم نریندر مودی سے مبینہ تعلق کی وجہ سے یہ ایک بڑی سیاسی خبر بھی بنتی جا رہی ہے۔

نیروو مودی کون ہیں؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

نیروو مودی کو عوام میں جیولر کے طور پر جانا جاتا ہے۔ نیروو مودی نے سال 2010 میں فائر سٹار ڈائمنڈ نامی برانڈ کے نام سے کاروبار شروع کیا۔

ہالی وڈ کی بڑی اداکارائیں جیسے کیٹ ونسلٹ اور روزی ہنٹنگٹن ان کی بنائی ہوئی جیولری پہن کر ریڈ کارپٹ پر آچکی ہیں۔ جبکہ انڈیا میں ان کے برانڈ کی سفیر پرینکا چوپڑا جیسی مقبول اداکارہ ہیں۔ ان کے برانڈ کی مصنوعات کے ساتھ بڑے بڑے اشتہاری بورڈ دلی، ممبئی اور بنگلور جیسے بڑے شہروں میں نظر آتے ہیں۔

ان کے برانڈ نے آغاز میں ہی ہیروں کی فروخت سے نام بنا لیا جس میں کمپنی کی ویب سائٹ کے مطابق 12.29 قیراط کا گولکونڈا ہیرا ہانگ کانگ کے کریسٹیز نیلام گھر میں 38 لاکھ ڈالر میں فروخت کیا گیا۔

این مودی کے انکل گیتانجلی گروپ کے سربراہ ہیں اور اس گروپ کی انڈیا بھر میں 4 ہزار دکانیں ہیں لیکن این مودی کی پیدائش بھی ایسے گھرانے میں ہوئی جو دنیا میں ہیروں کی تجارت کا دارالحکومت کہلائے جانے والے بیلجیئم کے شہر انتورب میں رہائش پزیر تھا۔

انھوں نے بعد میں فائر سٹار ڈائمنڈ کے نام سے کمپنی قائم کی اور 20 برس پہلے انڈیا میں ہیرے تراشنے کا کاروبار شروع کیا۔

نیروو مودی نے کاروبار سے خوب پیسہ کمایا اور فوربز میگزین کے مطابق وہ 1.75 ارب ڈالر کے مالک ہیں اور انڈیا کے امیر ترین شخصیات میں 84ویں نمبر پر ہیں۔

نیروو مودی کا سیاست کے ایوانوں میں نام کیوں؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

حال ہی میں سوئٹز لینڈ کے شہر ڈیووس میں ہونے والی عالمی اکنامک فورم میں انڈیا کی کاروباری شخصیات اور سیاست دانوں کی ایک گروپ فوٹو سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہے جس میں نیروو مودی اور وزیراعظم نریندر مودی بھی شامل ہیں۔

اس تصویر میں کچھ متنازعہ نہیں ہے اور وہ اس تصویر میں دیکھے جانے والے 50 افراد میں سے ایک ہیں جبکہ حکمراں جماعت نے اس بات کی تردید کی ہے کہ نیرو مودی ڈیووس جانے والے وزیراعظم مودی کے وفد کا حصہ تھے۔

انڈیا کے وزیر قانون و انصاف روی شنکر پرساد نے کہا ہے کہ نیروو مودی کی وزیراعظم نریندر مودی کے ساتھ کوئی نجی ملاقات نہیں ہوئی۔

’میں پورے اختیار کے ساتھ اس بات کی تردید کرنا چاہتا ہوں۔ وہ جو ٹوٹے ہوئے شیشے کے گھر میں رہ رہے ہیں ہم پر ایک ایسے وقت پر پتھر نہ پھینکیں جب مودی حکومت پوری ایماندری کے ساتھ کام کر رہی ہے‘۔

تاہم حزب مخالف کی جماعتیں ان رابطوں کی بنیاد کو استعمال کرتے ہوئے خوب سیاست کر رہی ہیں اور ان حقائق کو نظرانداز نہیں کر رہیں کہ دو افراد جن کا بظاہر ایک دوسرے کے ساتھ کوئی تعلق نہیں لیکن دونوں کا نام تو ایک جیسا ہی ہے اور اسی وجہ سے ٹوئٹر پر ہیش ٹیگ #From1MODI2another کا استعمال ہو رہا ہے۔

اس کے علاوہ حزب اختلاف کی جماعتیں حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی پر الزام عائد کر رہی ہیں کہ اس نے ہیروں کی تجارت پر نرم پالیسی اختیار کر رکھی ہے جس میں یہ الزام بھی ہے کہ وزیراعظم مودی کچھ عرصے سے اس فراڈ کے سلسلے میں ہونے والی تحقیقات سے آگاہ تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

اطلاعات کے مطابق نیروو مودی نے جنوری میں ملک چھوڑ دیا تھا اور ان کا موازنہ انڈیا کی دوسری نمایاں کاروباری شخصیت وجے مالیا کیا جا رہا ہے جو مبینہ طور پر ایک ارب ڈالر کے قرض کے نادہندہ ہیں اور 2016 میں انڈیا سے نکلنے میں کامیاب ہو گئے تھے۔

تاہم لوگوں کے حکومتی بینکوں کی انتظامیہ پر اعتماد کو ٹھیس پہنچنے کی وجہ سے حکومت نے سخت کارروائی کا وعدہ کیا ہے۔

وزیر قانون و انصاف روی شنکر پردساد نے نیوز کانفرنس میں بتایا کہ کسی بھی فراڈ میں کوئی بھی ملوث پایا گیا تو اس کو کسی قسم کی رعایت نہیں دی جائے گی۔

انڈیا کی وزارتِ خارجہ کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ نیروو مودی اور ان کے کاروباری شراکت دار ماہل چوکسی کے پاسپورٹ چار ہفتوں پہلے منسوخ کر دیے گئے ہیں۔

دونوں کو ایک ہفتے کا وقت دیا گیا ہے تاکہ وضاحت کر سکیں کہ ان کے پاسپورٹ منسوخ کیوں نہیں کرنے چاہیے تھے اور اگر وہ ایسا کرنے میں ناکام رہے تو ان کے پاسپورٹ ضبط کر لیے جائیں گے۔

اسی بارے میں