HerChoice#: طلاق کے بعد خود سے پیار کرنا سیکھا

خاتون اور بیٹی
Image caption یہ اپنی دس سالہ بیٹی کے ساتھ سنگل مدر کا فرض نبھانے والی ایک خاتون کی داستان ہے

اس رات جب میرے شوہر گھر سے نکلے تو مجھے ایسا احساس ہوا کہ جیسے میری دنیا ہی اجڑ گئی ہو۔ اس تباہی کی آواز کہیں نہیں سنی گئی اور اس کی جگہ ایک خوفناک خاموش نے لے لی۔

میں اپنی دس سالہ بیٹی کے ساتھ کھڑی ان تصاویر اور یادوں کو دیکھ رہی تھی جو ہم گذشتہ 17 سالوں میں ہم نے ساتھ مل کر سجائی تھیں۔

میں نے ان سے کئی بار بات کرنے کی کوشش کی لیکن ہر بار انھوں نے وہی جواب دیا کہ ہماری شادی ختم ہو چکی ہے۔ انھوں نے اس کی کوئی وجہ بھی نہیں بتائی اور نہ ہی انھیں کوئی پچھتاوا تھا۔

#HerChoice سیریز کی مزید کہانیاں پڑھیے

٭ 'اپنی اپنی محبت کی خاطر والدین نے مجھے چھوڑ دیا'

٭ ’جب جنسی طور پر کمزور مرد سے میری شادی ہوئی‘

٭ عورت کے ساتھ رہنے کا فیصلہ کیوں کیا

بعد میں مجھے ان کے دوستوں کے ذریعے پتہ چلا کہ وہ اپنے ساتھ کام کرنے والی ایک عورت کے ساتھ ہیں۔

اس احساس کے بیان کے لیے میرے پاس الفاظ نہیں ہیں۔ میں اب مزید جینا نہیں چاہتی تھی۔ میں نے بہت سی دوائیاں ایک ساتھ کھا لیں۔

شاید میں مر جاتی لیکن نہ جانے کس طرح بچ گئی۔ میں نے ان کے سوا کبھی اپنی زندگی کا تصور نہیں کیا تھا۔ اپنی شادی سے آگے کبھی کچھ نہیں سوچا تھا۔

میں اپنے محبوب کو کسی دوسری عورت کے ساتھ نہیں دیکھ سکتی تھی۔ میں اس حقیقت کو قبول نہیں کرنا چاہتی تھی۔

خود سے نفرت کرنے لگی

میں حسد اور دکھ سے گھری ہوئی تھی۔ میں اس عورت کو کوس رہی تھی شاید میں یہ بھول گئی تھی کہ میرے شوہر بھی برابر کے شریک ہیں۔

میں یہ بھی سمجھ رہی تھی کہ سب ایک لمحے میں نہیں ہوا۔ ماضی کی بہت سی یادیں میرے دماغ میں تیرنے لگیں اور میں نے ان کو آپس میں جوڑنے لگی۔

میں نے خود کو دیکھنا شروع کیا اور سوچا کہ نہ تو میں خوبصورت ہوں اور نہ ہی زیادہ پیسے کماتی ہوں۔

’تمہیں پانا میری خوش بختی ہے‘ جیسا جملہ ’تمہارا میری زندگی میں آنا بدقسمتی ہے‘ سے بدل گیا۔

’تم بہت خوبصورت ہو‘ بدل کر ’تم میرے ساتھ رہنے کے قابل نہیں ہو‘ ہو گیا۔ میں ان کی شہری گرل فرینڈ کے سامنے گاؤں کی گنوار بن کر رہ گئی۔

سب سے زیادہ پیار

وہ مجھے کہتے، ’تمہیں تو انگریزی میں بات کرنی بھی نہیں آتی، کون تمہیں نوکری دے گا؟‘

میں صرف ان کی آنکھوں میں ہی نہیں گر رہی تھی بلکہ اپنی نظروں میں بھی کمتر محسوس کر رہی تھی۔ مجھے یوں محسوس ہونے لگا کہ میں ان کے قابل نہیں ہوں۔

میں گھر کی ہر ایک چیز سنبھالتی، بازار سے سودا سلف لینے سے لے کر بیمار کی دیکھ بھال کا سارا کام۔

انھوں نے مجھے باہر لے جانا چھوڑ دیا۔ نہ ہی کسی پارٹی میں، نہ ڈنر میں، اور نہ ہی کسی سماجی فنکشن میں۔

جس شخص کو میں نے سب سے زیادہ پیار کیا وہی مجھے چھوڑ رہا تھا، خود سے دور کر رہا تھا۔ رفتہ رفتہ ہمارے درمیان جو محبت تھی ختم ہو گئی۔

جب مجھے محبت کے ختم ہونے کا احساس ہوا تو میں اسے واپس حاصل کرنے کی کوشش کرنے لگی، لیکن کامیاب نہیں ہو سکی، اور ایک رات انھوں نے گھر چھوڑ دیا۔

اپنا رشتہ بچانے کے لیے۔۔۔

گھر چھوڑنے کے بعد انھوں نے دوسرے گھر میں رہنا شروع کر دیا اور میں اپنی بیٹی اور سسرال والوں کے ساتھ اسی گھر میں رہتی رہی۔

یہ نہیں ہے کہ میرے سسرال والے مجھے وہاں رکھنا نہیں چاہتے تھے، انھیں یہ امید تھی کہ میری وجہ سے وہ واپس آ جائیں گے۔

دروازے پر ہر دستک کے ساتھ دوڑ کر جاتی لیکن کبھی کورئیر والا تو کبھی ملازم ہوتا جسے دیکھ کر مایوسی ہوتی۔

میں نے اپنی پوری زندگی ان کے اردگرد بن لی تھی۔ میری عمر اسی میں گزر رہی تھی۔ یہ وقت ایک نئی شروعات کا نہیں تھا۔

اپنے رشتے کو بچانے کے لیے میں نے کئی بار سوچا۔ میں خود سے لڑتی رہی میری۔ میری بیٹی میری دماغی حالت کو سمجھنے کے لیے بہت چھوٹی تھی۔

طلاق کی درخواست

ان کی وجہ سے میری صحت خراب رہنے لگی۔ میں ان کے کندھے پر سر رکھ کر آرام کرنا چاہتی تھی۔

مجھے ان کی ضرورت محسوس ہوتی، میں چاہتی تھی کہ جو زخم انھوں نے دیا اس پر وہی مرہم رکھیں۔ انھوں نے عدالت میں طلاق کی درخواست دے دی۔

تمام تر مشکلات کے باوجود میں نے کیس لڑا۔ مجھے یہ سمجھنے تین سال لگ گئے کہ جس رشتے کو بچانے کی میں کوشش کر رہی ہوں وہ کب کا ختم ہو چکا ہے۔

میں اس شخص کے لیے یہ سب کر رہی ہوں جس کا میری زندگی میں کوئی وجود نہیں ہے۔

آخر میں، میں تھک گئی۔ میں عدالت کے چکر لگاتے لگاتے، وکیلوں کے جواب دیتے اور قانونی اخراجات اٹھاتے ہوئے تھک گئی اور بالآخر ہم نے باہمی رضامندی سے طلاق پر اتفاق کر لیا۔

دوستوں کی مدد سے سنگل مدر بن گئی

میں نے اپنی نئی شناخت کو قبول کر لیا۔ ’طلاق شدہ‘ کو ہمارے قدامت پسند معاشرے میں احترام سے نہیں دیکھا جاتا۔

میں اس وقت 39 سال کی تھی۔ میرے لیے پہلا چیلنج نیا گھر تلاش کرنا تھا۔ مجھے بہت سے سوالات کا سامنا کرنا پڑا۔ جیسے آپ کا شوہر کہاں ہے؟ وہ کیا کرتے ہیں؟

میں ان سوالات کے لیے تیار نہیں تھی۔ میں پھر ان پرانی تلخ یادوں میں نہیں جانا چاہتی تھی۔ میرے دوستوں نے مجھے اس سے باہر آنے میں مدد دی۔

وہ میری زندگی میں کسی فرشتے کی طرح آئی۔ انھوں نے میری حوصلہ افزائی کی اور سنگل مدر بننے کا حوصلہ دیا۔ یہ سب آسان نہیں تھا۔

طلاق حاصل کرنے کے بعد میرے شوہر نے اپنے اسی ساتھی کے ساتھ شادی کرلی۔ جب بھی میں نے انھیں ساتھ دیکھتی تو میرے زخم پھر سے ہرے ہو جاتے۔

نئی یادیں بنانے کے لیے۔۔۔

میرے والدین اسی مشکل وقت میں گزر گئے۔ میری زندگی میں صرف دو ہی چیزیں رہ گئیں، میری نوکری اور میری بیٹی۔

میں اپنے کریئر پر توجہ دینے لگی اور مطالعے اور اپنے خیالات کو بلاگز کی شکل میں لکھنے میں منہمک ہو گئی۔

میں اپنے پسندیدہ شوق تصنیف میں مشغول ہو گئی۔ شوہر کے لیے کھانا پکانے کے بجائے اب اپنے دوستوں کے لیے کھانا پکانے لگی۔

میں پارٹیاں کرنے لگی۔ چھوٹے چھوٹے سفر پر جانے لگی اور نئی یادوں کے لیے تصویریں لینے لگي۔

شوہر کی کمی کو پورا کرنے کے لیے میں نے سوشل میڈیا پر دوست بنانا شروع کیے۔

اپنے آپ سے محبت کرنا سیکھا

سوشل میڈیا کی مجازی دنیا نے مجھے یہ احساس کرایا کہ میرے ارد گرد کی دنیا کتنا بڑی ہے۔

میری تنہائي فیس بک پر میری پوسٹ پر کیے جانے والے کمنٹس اور لائکس سے دور ہونی لگی۔

میں ایک ایسی تنظیم کے ساتھ کام کرنے لگی جو غریب اور یتیموں کے لیے کام کرتی ہے اور مجھے بہت مثبت توانائی ملی۔

ایک دفعہ پھر میں اپنی زندگی جینے لگی، مجھے اپنی طاقت کا احساس ہوا اور میں نے اپنی پی ایچ ڈی بھی مکمل کر لی۔

جو کچھ میری زندگی سے چلا گیا تھا، میں ان تمام لمحات کو واپس لینے کی کوشش کرنے لگی۔

شرمندگی محسوس کرنے کی بجائے میں نے لوگوں سے ملنا اور شادیوں میں جانا شروع کر دیا۔ اتنا ہی نہیں میں نے خوبصورت ساڑھیاں پہننی شروع کر دی۔

نئے شہر میں نئی زندگی

میں ان لوگوں کو براہ راست جواب دینا چاہتی ہوں جو یہ سوچتے ہیں کہ ایک طلاق شدہ عورت کو ہمیشہ افسردہ رہنا چاہیے۔

ایسے لوگوں کی آنکھیں مجھے دیکھ کر بڑی ہو جاتیں اور میری آنکھوں میں مزید چمک آ جاتی۔

میں نے اپنا ذاتی مکان بنایا اور دفتر کے کام کے لیے کئی ممالک کا سفر بھی کیا۔

چار سال بعد، مجھے ایک بڑا فیصلہ کرنا پڑا۔ نئی نوکری کے سلسلے میں مجھے اپنا شہر چھوڑ کر دوسری جگہ جانا تھا۔ میں نے ایک نئے شہر میں بسنے کا فیصلہ کیا۔

ایک آزاد عورت کے طور پر میرا دوبارہ جنم ہوا۔ آج مجھے کسی کے کندھے کی ضرورت نہیں ہے۔

میں اکیلے چل سکتی ہوں، مکمل اعتماد کے ساتھ خواہ اندھیرا کتنا ہی گھنا کیوں نہ ہو!

(یہ کہانی جنوبی ہند میں رہنے والی ایک لڑکی کی زندگ پر مبنی ہے جس نے بی بی سی کی نمائندہ پدما میناکشی سے بات کی۔ لڑکی کی خواہش پر ان کی شناخت ظاہر نہیں کی جا رہی ہے۔ اس سیریز کی پروڈیوسر دویا آریہ ہیں)

اسی بارے میں