کیا انڈیا جسٹن ٹروڈو کو نظر انداز کر رہا ہے؟

جسٹن ٹروڈو تصویر کے کاپی رائٹ EPA

کینیڈا کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو سات روزہ سرکاری دورے پر انڈیا گئے ہوئے ہیں لیکن بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ نریندر مودی کی حکومت ان کے دورے کو اتنی اہمیت نہیں دے رہی جتنی دی جانی چاہیے تھی۔

تاثر یہ ہے کہ جسٹن ٹروڈو کے دورے کو حکومت کے اعلیٰ اہلکاروں نے اب تک نظر انداز کیا ہے اور قیاس آرائی یہ ہے کہ اس کی وجہ ان کی کابینہ میں شامل وہ چار سکھ وزرا ہو سکتے ہیں جن کے بارے میں انڈیا میں بعض لوگوں کا الزام ہے کہ ان کی ہمدردی خالصتان کی علیحدگی پسند تحریک کے ساتھ رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

انڈیا اسرائیل تعلقات:’رومانس بھی ماند پڑ گیا ہے'

ٹرمپ اور انڈیا: تھوڑی خوشی، تھوڑا غم

جب مسٹر ٹروڈو اپنی اہلیہ اور بچوں کے ساتھ سنیچر کی رات دلی پہنچے تو ان کا استقبال کرنے کے لیے ہوائی اڈے پر وفاقی حکومت کے ایک جونیئر وزیر موجود تھے، لیکن گذشتہ ماہ جب اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو اور اس سے پہلے متحدہ عرب امارات کے ولی عہد اور جاپان کے وزیر اعظم انڈیا آئے تھے تو نریندر مودی ان کا استقبال کرنے خود ائیر پورٹ پہنچے تھے اور نیتن یاہو اور شنزو آبے کو خود گجرات لے کر گئے تھے۔

بنیامین نیتن یاہو آگرہ میں تاج محل دیکھنے گئے تو خود اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ ان کے ساتھ موجود رہے۔ جسٹس ٹروڈو گئے تو انہیں ضلع میجسٹریٹ سے ہی کام چلانا پڑا۔

تو سوال یہ ہے کہ کیا حکومت واقعی مسٹر ٹروڈو کو دانستہ طور پر نظر انداز کر رہی ہے اور اگر ہاں، تو کیوں؟

کالم نگار وویک دہیجیا نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بلا شبہہ مسٹر ٹروڈو کو نظرانداز کیا جارہا ہے اور اس کی مثال یہ ہے کہ ایک جونیئر وزیر کو ان کے استقبال کے لیے بھیجا گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کا استقبال کرنے وزیر اعظم نریندر مودی خود ائر پورٹ پہنچے تھے

ان کے مطابق اس کی وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ ان کی کابینہ کے کئی سینیئر وزیر پنجاب میں علیحدگی کی تحریک سے مبینہ طور پر وابستہ رہے ہیں۔

اس سے پہلے گذشتہ برس کینیڈا کے وزیر دفاع ہرجیت سجن انڈیا آئے تھے تو پنجاب کے وزیر اعلیٰ کیپٹن امرندر سنگھ نے ان سے ملنے سے انکار کر دیا تھا۔

لیکن کینیڈا میں انڈیا کے سابق ہائی کمشنر وشنو پرکاش کا کہنا ہے کہ مسٹر ٹروڈو کے استقبال میں پروٹوکال کی پاسداری کی گئی ہے اور یہ ممکن نہیں ہے کہ ہر غیرملکی رہنما کا استقبال وزیر اعظم خود کریں۔

دونوں وزرا اعظم کی ملاقات جمعہ کو ہونی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

سابق سفارتکار کنول سبل کا کہنا ہے کہ مسٹر ٹروڈو کے دورے کو خالصتان کی تحریک کے بارے میں انڈیا کے خدشات کینیڈا کی اعلیٰ قیادت تک پہنچانے کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے اور خالصتان کی تحریک کا سایہ اگر اس دورے پر شروع سے ہی اثر انداز ہوتا ہے تو سیاسی اعتبار سے یہ غلط ہوگا۔

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس دورے کو جسٹن ٹروڈو سے یہ وعدہ حاصل کرنے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے کہ کینیڈا میں سرگرم خالصتان کے ہمدردوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

مسٹر سبل کے خیال میں بھی یہ تاثر غلط ہے کہ جسٹن ٹروڈو کے دورے کو اتنی اہمیت نہیں دی جارہی جتنی کہ ملنی چاہیے۔ ان کا کہنا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان سنہ 2015 میں جوہری معاہدہ طے پانے کے بعد باہمی رشتوں میں ڈرامائی انداز میں بہتری آئی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP/GETTY IMAGES

کینیڈا کے ایک وزیر ہرجیت سوہی نے چند روز قبل کہا تھا کہ نہ تو وہ خالصتان کی تحریک کے حق میں ہیں اور نہ خلاف اور اگر کینیڈا میں ایک چھوٹا سا حلقہ پرامن انداز میں علیحدگی کی تحریک کی بات کرتا ہے، تو ایسا کرنا ان کا حق ہے۔

لیکن کینیڈا کے اخبار ٹورونٹو سن کی کالم نگار میلکم کینڈس کا کہنا ہے کہ کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ کینیڈا میں آکر بسنے والوں کو شدت پسند تنظیموں کی حمایت کرنے کا حق حاصل ہے؟

ان کے مطابق جسٹن ٹروڈو اور ان کے وزیر جگمیت سنگھ کو خالصتانی شدت پسندوں کی مذمت کرنی چاہیے۔

لیکن جسٹن ٹروڈو ابھی صرف سیاحت کر رہے ہیں، جب سیاست شروع ہوگی تو واضح ہوگا کہ انہیں نظرانداز کیا گیا ہے یا نہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں