’چڑیل ہونے کا الزام لگا کر خواتین کو برہنہ گھمایا گیا‘

Image caption اس کیس کے سامنے آنے کے بعد مقامی حکام نے خواتین کو راشن کارڈ دیے۔

انڈیا کی شمالی ریاست جھارکنڈ میں 11 افراد کو دو خواتین پر چڑیل ہونے کا الزام لگانے کے بعد انھیں ہراساں کرنے کے مبینہ جرم میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔

ایک 65 سالہ خاتون اور اس کی 35 سالہ بیٹی کو مبینہ طور پر برہنہ کر کے گلیوں میں چلایا گیا، اور زبردستی انسانی پیشاب پلایا گیا۔

خاتون کی بیٹی نے بی بی سی کو بتایا کہ ان دونوں پر گاؤں میں بیماری پھیلانے کا الزام تھا۔

انڈیا میں خواتین پر چڑیل ہونے کے الزامات اکثر لگائے جاتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ضعیف الا عتقادی ان حملوں کی وجہ ہوتی ہے مگر کئی مرتبہ خاص کر بیوائوں کے معاملے میں انھیں زمین یا دولت کے لیے بھی نشانہ بنایا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

شام: جادو ٹونا کرنے پر دو عورتوں کے سر قلم

’جادو کے شک میں برہنہ گھمایا‘

بی بی سی کے روی پرکاش کا کہنا ہے کہ جمعرات کو یہ دونوں خواتین اپنے گھر پر تھیں جب ان کے دورازے پر خاندان والوں نے زور زور سے کھٹکھٹانا شروع کر دیا۔ خاتون کا کہنا تھا کہ ’وہ ہم پر چڑیل ہونے کا الزام لگا رہے تھے۔‘

گذشتہ ہفتے ان دونوں خواتین نے ایک غیر تربیت یافتہ طبعی ماہر سے ایک رشتے دار کی ہلاکت کے حوالے سے ملاقات کی تھی۔ اس شخص نے ان دونوں کو اس رشتے دار کی موت کا ذمہ دار ٹھہرایا۔

خاتون کا کہنا ہے کہ ’ہمیں اگلے دن ہی سزا دی گئی۔‘

ان کے احتجاج کرنے کے باوجود ان کے رشتہ دار انھیں لاشیں جلانے کے ایک قریبی گراؤنڈ میں لے کر گئے اور انھیں زبردستی پشیاب اور پاخانہ کھلایا۔

ان کے بال منڈوا دیے گئے اور کپڑے پھاڑ دیے گئے۔ اس کے بعد انھیں گاؤں میں ہجوم کے سامنے پھرایا گیا۔ خاتون کا کہنا تھا کہ انھیں شدید خوف آ رہا تھا اور ان کی مدد کو کوئی نہیں آیا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ مستقبل میں ایسے واقعات کو روکنے کے لیے انھوں نے گاؤں میں ایک آگاہی مہم شروع کی ہے۔

اسی بارے میں