کشمیر: ’برف کم، مگر خطرناک ہے‘

Image caption ہر سال کی طرح رواں سال بھی سکی کے شائقین دنیا بھر سے کشمیر کا رخ کر رہے ہیں

انڈیا کے زیرانتظام کشمیر میں رواں سال دو یورپی سیاح سکیئنگ کرتے ہوئے ہلاک ہوگئے۔ ماہرین کے مطابق رواں سال برفباری کم ہوئی جو کہ سکیئنگ کے لیے خطرناک ہے۔

15 ہزار فٹ کی بلندی پر عالمی شہرت یافتہ سکی ریزارٹ گلمرگ میں غیرملکی سیاحوں کے حفاظتی انتظامات کے نگراں برائن نیومین کا کہنا ہے کہ برف کم ہوئی ہے لیکن برف کی تہیں پہاڑیوں پر جمی ہیں جو کہ برف پر پھسلنے کے کھیل کے لیے خطرناک ہے۔

گذشتہ ڈیڑھ ماہ کے دوران گلمرگ کے اونچے پہاڑوں پر سکینگ کرتے ہوئے دو یورپی سیاح ہلاک ہوگئے ہیں۔

جنوری میں سویڈن کے 25 سالہ ڈینیئل اور فروری میں روس کے 27 سالہ سٹینس داووف گلمرگ کے افروٹھ پہاڑ کی اُسی وادی میں برفانی تودے کی زد میں آکر مارے گئے جہاں 13 برس قبل آسٹریلیا کے شہری شیگی ہل مارے گئے تھے۔

حکام نے بتایا کہ اس جگہ کا نام تب سے ’شیگی باول‘ رکھا گیا ہے۔

Image caption لاٹویا کی این کہتی ہیں کہ وہ حفاظتی اقدام کا پورا خیال کرتی ہیں

برائن نیومین کہتے ہیں: ’گذشتہ برس برف کی کیمیائی نوعیت ایسی تھی کہ کہیں بھی سکیئنگ کرنا آسان تھا۔ لیکن اس سال برف کی نوعیت خطرناک ہے اور یہ صورتحال ابھی برقرار ہے۔‘

محکمہ سیاحت میں سنو سیفٹی آفیسر کے طور تعینات نیومین کا کہنا ہے کہ سکیئرز کو تربیت دی جاتی ہے کہ اگر گروپ کا کوئی کھلاڑی برف میں پھنس جائے تو اسے پانچ منٹ کے اندر اندر باہر نکالنا ضروری ہے۔

یہ بھی پڑھیے

٭ گلمرگ میں برفباری کے بعد درجہ حرارت منفی چھ

٭ کشمیر میں برفباری نے سیاحت کو زندہ کردیا

تاہم ان خطرات کے باوجود یہاں یورپ اور امریکہ سے سکیئنگ کے شائقین آرہے ہیں۔

امریکی سیاح شاجیک کہتے ہیں کہ گلمرگ کی برف امریکہ اور یورپ سے بالکل مختلف ہے۔ برف کا معیار بھی اعلیٰ ہے، یہی وجہ ہے کہ لوگ یہاں سکیئنگ کے لیے آتے ہیں۔

برائن
Image caption برائن محکمہ سیاحت میں سنو سیفٹی آفیسر کے طور تعینات ہیں

شاجیک اس سے قبل تین بار گلمرگ میں سکیئنگ کرچکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’کھلاڑی اس کھیل کا انتخاب تمام خطرات کا تجزیہ کرکے ہی کرتا ہے۔ اگر ضوابط پر عمل کیا جائے ہم یہاں لطف اندوز ہوسکتے ہیں۔‘

یہ بھی پڑھیے

٭ برف پر رگبی کھیلتی کشمیری لڑکیاں

٭ کشمیر: موسمِ سرما کی پہلی برفباری، پانچ فوجی لاپتہ

لیٹویا کی رہنے والی این پہلی بار کشمیر میں سنو بورڈنگ کرنے آئی ہیں۔ وہ جانتی ہیں کہ چند دن قبل ان بلند پہاڑوں پر دو سیاحوں کی جان گئی ہے لیکن وہ پرامید ہیں: ’میرے تجربہ کار مقامی لوگ ہیں۔ یہ بہت اہم کہ مقامی ماہرین سے رابطہ کیا جائے۔ میں حفاظتی ضابطوں پر عمل کرتی ہوں۔‘

Image caption ایک اہلکار محمود کو لوگوں کو بچانے کی تربیت دی گئی ہے

گلمرگ میں برف سے ڈھکی چوٹیاں پوری دنیا میں سکیئنک کے لیے مشہور ہیں۔ لیکن برائن نیومین کہتے ہیں کہ ’کبھی کبھار برف کی کیمائی نوعیت مزید احتیاط کا تقاضہ کرتی ہے۔‘

محکمہ سیاحت نے ’سکی پیٹرول‘ نام سے ایک دستہ بھی تشکیل دیا ہے۔ سکی پیٹرول سے وابستہ اہلکار اونچے پہاڑوں پر سکیئنگ کرنے والے سیاحوں کے ہمراہ رہتے ہیں۔

Image caption شاجیک اس سے قبل تین بار گلمرگ میں سکیئنگ کرچکے ہیں

ایسے ہی ایک اہلکار محمود، جنھیں امریکہ میں تربیت دی گئی ہے، نے بتایا کہ ایک مخصوص احاطہ ہے جس میں سکی پیٹرول سیاحوں کی حفاظت کی ذمہ دار ہوتا ہے، لیکن اکثر اوقات سکیئرز مقررہ حدود سے باہر خطرناک چوٹیوں پر سکینگ کرتے ہیں۔

انھوں نے کہا: ’ہم وہاں بھی ان کے ساتھ جاتے ہیں لیکن یہ خطرہ وہ اپنی مرضی سے مول لیتے ہیں۔‘

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں