ٹروڈو واپس چلے ہی گئے!

کینیڈا تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

تو کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو آخرکار واپس چلے ہی گئے!

آٹھ دن کے سرکاری دورے میں ان کی مہمان نوازی ہوئی یا انھیں نظرانداز کیا گیا، یہ سوچنے کے لیے ان کے پاس اب وقت ہی وقت ہے، لیکن کچھ سوال ہیں کہ جن کا جواب ملنا ابھی باقی ہے۔

اس دورے کے لیے انھوں نے انڈیا سے ضد کی تھی کہ انھیں بلایا جائے یا انڈیا نے اصرار کیا تھا کہ وہ آئیں؟

یہ بھی پڑھیے

کیا یہ تاریخ کا سب سے طویل سرکاری دورہ ہے؟

مشرقی رنگ میں ڈوبے کینیڈا کے وزیراعظم

ٹروڈو کے ’بالی وڈ ملبوسات‘ کے چرچے

اگر وہ ضد کرکے آئے تھے تو جو ہوا یا نہیں ہوا، اس کے لیے وہ خود ذمہ دار ہیں لیکن اگر انھیں بلایا گیا تھا تو ان کے ساتھ وہ کیوں کیا گیا جو بہت سے لوگ کہہ رہے ہیں کہ کسی بھی مہمان کے ساتھ ہونا نہیں چاہیے؟

اگر واقعی حکومت ہند کی یہ حکمت عملی تھی کہ چلو پہلے جسٹن ٹروڈو کو بلاتے ہیں، پھر ہم سب ایسے بن جائیں گے جیسے وہ بن بلائے آئے ہوں، خوب مزہ آئے گا! وہ ایئرپورٹ پر اتریں گے تو ہم کہہ دیں گے کہ ارے معاف کیجیے گا، گاڑی بھیجنا بھول گئے، آپ ٹیکسی کر کے آ جائیے، وہ ہمایوں کا مقبرہ یا قطب مینار دیکھنے جائیں گے تو کسی سرکاری افسر کو ان کے ساتھ نہیں بھیجیں گے، جب وہاں لمبی لائن میں لگ کر غیرملکی سیاحوں والا مہنگا ٹکٹ خریدنا پڑے گا تو پتہ چلے گا کہ ہم سے ٹکرانا سمجھداری کی بات نہیں ہے۔

جسٹن ٹروڈو پوری تیاری کے ساتھ آئے تھے، ہر موقع اور ہر محل کے لیے الگ لباس، صرف اپنے لیے ہی نہیں بیوی بچوں کے لیے بھی، سب میچنگ اور سب ’ایتھنک‘ ہندوستانی!

اس فیشن شو کے لیے بھی ان کا کافی مذاق بنا، سوشل میڈیا پر لوگ یہ کہتے رہے کہ اب بس بھی کر دیں، ایسا لگ رہا ہے کہ آپ کسی فیشن لیبل کے لیے ماڈلنگ کر رہے ہوں، کچھ ایسے کپڑے بھی لیتے آتے جو آپ عام طور پر پہنتے ہیں!

لیکن یہ مذاق کی بات نہیں تھی۔ اس دورے سے ایک بنچ مارک قائم ہوا ہے، دنیا میں اب کہیں بھی کوئی سرکاری دورہ ہوگا تو اسے اسی معیار پر پرکھا جائے گا۔ طاقتور سربراہان حکومت ہوائی جہاز سے اترنے سے پہلے اپنے عملے سے یہ پوچھا کریں گے کہ ذرا چیک تو کرو، مہمان ملک کی طرف سے ٹوئٹر پر استقبال ہوا ہے کہ نہیں؟ کوئی لینے آیا ہے یا نہیں یا ٹیکسی ڈرایئور ہی کاغذ پر نام لکھ کر باہر کھڑا ملے گا: "وزیر اعظم۔۔۔ آپ کا استقبال ہے۔"

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images/MONEY SHARMA
Image caption اس سے قبل اتوار کو انھوں نے محبت کی نشانی کہے جانے والے معروف یادگار تاج محل کا دورہ کیا اور اس مخصوص جگہ پر تصویر کھنچوائی جہاں تقریباً تمام لوگ تصویر لینے کی خواہش رکھتے ہیں۔

اگر ٹویٹ نہیں کیا ہے تو اسی جہاز سے واپس چلتے ہیں، کہیں ہمارے ساتھ بھی وہ نہ ہو جو ٹروڈو کے ساتھ انڈیا میں ہوا تھا!

لیکن خود وزیر اعظم نریندر مودی کیا اب کبھی کینڈا کا سفر کریں گے؟ یا کینیڈا دنیا کا وہ واحد ملک ہو گا جو ان کے دورے سے محروم رہ جائے گا؟ ٹوگو اور برونئی کے حکمراں جب کینیڈا کی سیاسی قیادت سے ملا کریں گے تو کیا یہ نہیں کہیں گے کہ آپ سےتو ہم ہی بہتر رہے، ہمارے یہاں تو وہ کئی مرتبہ آئے!

خیر اس سوال کا جواب کافی آسان ہے۔ نریندر مودی پہلے ہی کینیڈا کا سفر کر چکے ہیں، وہ بہت شاطر سیاستدان ہیں اس لیے ٹروڈو کے وزیر اعظم بننے سے پہلے ہی ہو آئے تھے۔ ہو سکتا ہے کہ ٹوگو اور برونئی کی حکومتوں کے پاس ان ممالک کی پوری فہرست نہ ہو جہاں وہ جا چکے ہیں۔

خود وزیر اعظم کس کیفیت سے گزر رہے ہوں گے؟ اگلے کسی بھی دورے سے پہلے یہ بات ذہن میں آئے گی ضرور کہ کہیں وہ نہ ہو جائے جو ہم نے کیا تھا، یا جو لوگ سمجھ رہے ہیں کہ ہم نے کیا تھا۔

انڈیا میں سینیئر صحافی کرن تھاپر کا کہنا ہے کہ اگر جسٹن ٹروڈو کا استقبال کرنے نریندر مودی خود نہیں جانا چاہتے تھے تو وزیر خارجہ سشما سوراج کو ہی بھیج دیتے۔ خالصتان کی تحریک کی حمایت یا ہمدردی کے بارے میں انڈیا کے جو بھی خدشات تھے، ان سے ٹروڈو کو خوشگوار ماحول میں زیادہ بہتر طور پر آگاہ کرایا جا سکتا تھا۔

بہرحال، جو ہونا تھا سو ہو گیا۔ اگلی بار آنے والے اور بلانے والے دونوں ہوشیار رہیں گے۔ ہو سکتا ہے کہ مہمان رہنما اب کہیں کہ بھائی آ تو جائیں گے لیکن پروٹوکول کی تحریری ضمانت دینا ہو گی! آج کل زبانی وعدوں پر اعتبار کرنا بہت مشکل ہو گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images/SAM PANTHAKY
Image caption کینیڈا کے وزیر اعظم اپنے اہل خانہ کے ساتھ ہندوستانی لباس میں نظر آئے جہاں انھوں نے گاندھی مارکہ چرخہ بھی چلایا۔

میرے ایک دوست صحافی کا کہنا ہے کہ سرد مہری کی خبریں صرف قیاس آرائی ہیں، اور انھوں نے کسی سرکاری افسر کو یہ کہتے نہیں سنا کہ مسٹر ٹروڈو کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ یہ بالکل غیرمعمولی مشاہدہ ہے۔ حکومتیں کسی کو بلا کر یہ اعلان نہیں کرتیں کہ آپ کو سبق سکھانے کے لیے بلایا گیا ہے۔۔۔ بس اشارے دیے جاتے ہیں، اس مرتبہ وہ کچھ زیادہ ہی واضح تھے جیسے حکومت کو یہ ڈر ہو کہ ٹروڈو سمجھیں گے کہ نہیں۔

اس قیاس آرائی کے شروع ہونے کے بعد بھی وزیر اعظم ٹویٹ کر سکتے تھے، کہہ دیتے کہ نیٹ ورک ڈاؤن تھا، یا وزیر خارجہ یہ بیان دے دیتیں کہ مہمان رہمنا کا دورہ بہت اہم ہے اور طے شدہ پروگرام کے مطابق ہی چل رہا ہے۔

سوال تو بہت ہیں لیکن سب سے اہم یہ ہے کہ ٹروڈو اب ان ڈیزائنر کپڑوں کا کیا کریں گے جو انھوں نے انڈیا آنے کے لیے خریدے تھے، وہ کڑھی ہوئی اچکنیں اور رنگ برنگے کرتے۔۔۔ کہیں وہ یہ نہ سوچنے لگیں کہ کپڑے تو خرید ہی رکھے ہیں، چلو ایک چکر اور مار لیتے ہیں!

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں