واخان کے مسکراتے افغان

واخان کا علاقہ افغانستان کے مشرق میں واقع ہے اور اسے دنیا کے دوردراز ترین علاقوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ یہاں صرف پیدل ہی جایا جاتا ہے بی بی سی فارسی کے ارشد ہنریار نے اپنی ٹیم کے ہمراہ اس علاقے کا دورہ کیا اور لوگوں سے ان کی کہانیاں جانیں۔

Wakhan resident

بہت سے دیگر مقامی مردوں کی طرح یہ شخص بھی پامیر کے پہاڑوں میں مویشی چرا کر گزارہ کرتا ہے۔ ہر ماہ کے اختتام پر بطور تنخواہ اسے ایک بھیڑ ملتی ہے۔ علاقے میں شادی کے لیے کسی بھی عورت کا ہاتھ مانگنے سے قبل ضروری ہے کہ مرد کے ہاس اپنا ریوڑ ہو۔

Wakhan resident

اسلی بی بی 42 سال کی ہیں اور ان کے تین بچے ہیں۔ علاقے میں اگر آپریشن سے بچہ پیدا ہونا ہو تو دس گھنٹے کے فاصلے پر واقع ہسپتال جانا پڑتا ہے۔ واخان اس تشدد سے تو کہیں دور ہے جس کا سامنا باقی افغانستان کو کرنا پڑا ہے لیکن یہ دور دراز علاقہ ہونے کی وجہ سے یہاں بنیادی سہولیات بھی میسر نہیں۔

Wakhan resident

اس 16 سالہ لڑکے نے مجھے بتایا کہ یہ پہلا موقع ہے کہ کسی نے اس کی تصویر کھینچی ہے۔ یہ مجھے سکول کے راستے پر ملا تھا۔ واخان میں صرف 16 سکول ہیں جبکہ آبادی 13 ہزار ہے جو 11 ہزار مربع کلومیٹر کے علاقے میں پھیلی ہوئی ہے۔ اس وجہ سے اکثر بچوں کو سکول تک پہنچنے کے لیے گھنٹوں پیدل چلنا پڑتا ہے۔

Wakhan resident

71 سال کی عمر میں قلیچ بیگ واخان کے لحاظ سے بہت جی چکے ہیں۔ وہ ایک مہمان خانے کے مالک ہیں اور خوشحال ہیں۔ صوبۂ بدخشاں میں زیادہ تر مہمان خانے سیاحتی دفتر کی نگرانی میں کام کرتے ہیں۔

Wakhan resident

یہ 13 سالہ بچہ بھی سکول جاتا ہے لیکن اس کے بعد اس کا دن ختم نہیں ہو جاتا۔ وہ واپس آ کر کھیت میں اپنے والد کا ہاتھ بٹاتا ہے۔ علاقے میں تعلیم کو بہت اہمیت دی جاتی ہے اور لوگ چاہتے ہیں کہ ان کے بچے جہاں تک ممکن ہو سکے تعلیم کا سلسلہ جاری رکھیں۔

Wakhan resident

یہ تینوں بچیاں مجھے سکول جاتے ہوئے ملیں۔ دس سے 14 سال عمر کی ان بچیوں کا تعلق سرحدِ بروغل نامی گاؤں سے ہے جہاں یہ سکول کے بعد کھیتوں میں اپنے گھر والوں کی مدد کرتی ہیں۔

افغانستان کے دیگر حصوں کے برعکس واخان میں خواتین کو زیادہ آزادی حاصل ہے۔ وہ عوامی تقریبات میں شریک ہو سکتی ہیں، رنگین کپڑے پہنتی ہیں اور مرکزی کارکن ہیں۔

Wakhan resident

ضیاالدین بندانہ نے مجھے افغان پرچم کے رنگ دکھائے۔ کچھ مقامی لوگ مرکزی حکومت پر وعدے پورے نہ کرنے پر تنقید کرتے ہیں لیکن ان میں بھی قومی شناخت کے حوالے سے فخر پایا جاتا ہے۔

Wakhan resident

یہ نوجوان پامیری ٹور گائیڈ واخان راہداری کی سیر کروا کے روزانہ ایک ہزار افغانی کما لیتا ہے۔ اس جیسے کئی دیگر گائیڈ دورانِ سفر دس ڈالر کے عوض کھانا بھی پکا کر دیتے ہیں۔

Wakhan resident

یہ شخص پامیر کے پہاڑوں پر جانے والے افراد کو گھوڑے کرایے پر دیتا ہے اور 25 ڈالر روزانہ کی بنیاد پر کرایہ لیتا ہے۔ یہ گھوڑے ان افراد کا سامان دشوار گزار پہاڑی راستوں اور ندی نالوں سے لے کر جاتے ہیں اور واپس واخان لاتے ہیں۔ سیاحت مقامی معیشت کا اہم حصہ ہے۔

Wakhan resident

آٹھ سالہ احمد راشد ایک طالبعلم ہے۔ اس کا تعلق ایک خوشحال خاندان سے ہے جو ایک مہمان ِخانہ چلاتا ہے۔ واخان کے دیگر بچوں کے برعکس احمد سکول کے بعد فارم پر کام نہیں کرتا۔

Wakhan resident

یہ شخص کالا پنجہ نامی گاؤں میں ایک فارم پر کام کرتا ہے جس کے لیے اسے ہر ماہ پانچ ہزار افغانی تنخواہ ملتی ہے۔ گندم یہاں کی مرکزی فصل ہے لیکن موسم کی شدت کی وجہ سے اس کا معیار زیادہ اچھا نہیں ہوتا

Wakhan resident

چار سالہ زہرہ واخان کے گاؤں سرحدِ بروغلی کی رہائشی ہے۔ اس کا خاندان مقامی مہمان خانے کے قریب رہتا ہے۔ زہرہ کا زیادہ تر وقت سیاحوں کے ساتھ کھیلتے ہوئے گزرتا ہے۔

Wakhan resident

یہ چھ سالہ بچہ دو ماہ قبل گر کر چہرے پر چوٹ لگوا بیٹھا تھا۔ اس علاقے میں طبی سہولیات کا فقدان ہے۔ افغان حکومت نے علاقے میں ایک کلینک کی تعمیر کا وعدہ کیا ہے جو تاحال وفا نہیں ہوا۔

تصاویر: ارشد ہنریار

متعلقہ عنوانات