انڈیا: میگزین کے سرورق پر دودھ پلاتی ماڈل کی تصویر پر شور

دودھ تصویر کے کاپی رائٹ Grihalakshmi magazine

ایک انڈین میگزین کے سر ورق پر ایک عورت کی بچے کو دودھ پلاتے ہوئے تصویر پر سوشل میڈیا میں رائے منقسم ہو گئی ہے۔

کیرالا ریاست میں چھپنے والے رسالے گریہالکشمی کے سر ورق پر ماڈل گیلو جوزف بچے کو دودھ پلاتے ہوئے کیمرے کی جانب دیکھ رہی ہیں۔

اس سر ورق پر لکھا ہے ’ماں نے کیرالا کو بتایا، گھوریں مت، ہم بچے کو دودھ پلانا چاہتے ہیں‘۔

ماں کا دودھ اب سوشل میڈیا پر بھی دستیاب

ٹویٹ کا فوری اثر بچی کو ٹرین میں دودھ مل گیا

خیال کیا جا رہا ہے کہ یہ پہلی بار ہے کہ کسی میگزین نے سر ورق پر عورت کو دودھ پلاتے دکھایا گیا ہے۔

اس تصویر کے حوالے سے شور اس بات پر مچا ہے کہ تصویر میں دودھ پلانے والی عورت بچے کی اصل ماں نہیں ہے۔

گریہا لکشمی کے مدیر مونسی جوزف کا کہنا ہے کہ رسالے کا مقصد اس پہلو کو اجاگر کرانا ہے ہے کہ ماؤں کو پبلک میں بچوں کو دودھ پلانا ہوتا ہے۔

انھوں نے بی بی سی کے اشرف پدانا کو بتایا ’ایک ماہ قبل ایک شخص نے اپنی اہلیہ کی بچے کو دودھ پلاتے ہوئے تصویر فیس بک پر پوسٹ کی تھی۔ ان کا مقصد پبلک میں عورتوں کو دودھ پلانے پر بحث کا آغاز کرنا تھا۔ لیکن نتیجہ یہ نکلا کہ ان کی اہلیہ کو مردوں اور عورتوں دونوں ہی نے ہراساں کیا۔‘

مونسی نے مزید کہا ’اسی وجہ سے میں نے رسالے کی تازہ اشاعت کو دودھ پلانے والی ماؤں کے نام کیا۔‘

انڈیا میں بہت سی عورتیں ساڑھی پہنتی ہیں اور وہ بچوں کو دودھ پلاتے وقت ساڑھی کے پلو سے چھپا لیتی ہیں۔ تاہم وہ خواتین جو ساڑھی نہیں پہنتیں وہ کیا کریں۔

بہت سے لوگوں نے سوشل میڈیا پر رسالے اور ماڈل کے حق میں پوسٹ کیں۔ تاہم اس مہم کو اس بات پر تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے کہ اس تصویر میں اصل ماں نہیں بلکہ ایک ماڈل کو استعمال کیا گیا۔

بلاگر انجنا نیئر نے بلاگ سپاٹ میں لکھا ’جس وقت آپ نے اصل ماں کی دودھ پلاتے ہوئے تصویر کو رسالے کے اندرونی صفحات اور ایک ماڈل کی دودھ پلاتے تصویر کو سر ورق چھاپا تو اسی وقت آپ سنسنی خیزی اور استحصال کے مرتکب ہوئے۔‘

تاہم ماڈل گیلو جوزف نے رسالے کے سر ورق کے لیے ماڈلنگ کرنے کے فیصلے کا دفاع کیا۔

’مجھے تنقید کی توقع تھی لیکن میں نے ان تمام ماؤں کے لیے ماڈلنگ کرنے کا فیصلہ کیا جو فخر کے ساتھ اپنے بچوں کو دودھ پلاتی ہیں۔‘

ایک میگزین نے ماڈل کے حوالے سے لکھا کہ ’اپنے بچے کو دودھ پلانے پر کون سا بھگوان ناراض ہو گا۔‘

کیرالا کے مشہور مصنف پال زکریا نے بی بی سی کو بتایا کہ رسالے کا سر ورق ایک اہم قدم ہے۔

’اس سے پبلک میں اپنے بچوں کو دودھ پلانے کے حوالے سے انقلاب نہیں آئے گا لیکن یہ ایک اہم قدم ہے۔ میں صرف یہ امید کرتا ہوں کہ ماضی کی طرح اس مہم کا اختتام بھی ایڈیٹر کا جانب سے معذرت پر نہ ہو۔‘

پبلک میں بچے کو دودھ پلانا پوری دنیا میں متنازع ہے۔

سکاٹ لینڈ میں کیے جانے والے ایک سروے کے مطابق ایک چوتھائی سے زیادہ ماؤں نے کہا کہ وہ پبلک میں اپنے بچے کو دودھ پلانے پر ہچکچاہٹ ہو گی۔

اسی بارے میں