میانمار سرحد پر واقع رووہنگیا کیمپ سے فوجی ہٹا دے: بنگلہ دیش کا مطالبہ

بنگلہ دیشی سرحد تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption یہ عارضی کیمپ بنگلہ دیش میانمار سرحد سے چند میٹر کے فاصلے پر قائم کیا گیا ہے

بنگلہ دیش نے پڑوسی ملک میانمار سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے فوجی سرحد کے اس علاقے سے ہٹا لے جہاں ہزاروں روہنگیا پناہ گزین مقیم ہیں۔

دونوں ملکوں کے درمیان سرحد پر واقع ایک پتلی سی پٹی پر پانچ ہزار کے قریب روہنگیا رہائش پذیر ہیں جو اپنے ملک میں اکثریتی بودھوں کی جانب سے نسلی تعصب اور تشدد کا شکار ہونے کے بعد وہاں سے فرار ہونے پر مجبور ہو گئے تھے۔

جمعرات کو میانمار (سابق نام برما) کے فوجیوں کی بڑی تعداد سرحد پر نمودار ہوئی۔

بنگلہ دیش نے میانمار کے سفیر کو بلا کر ان سے جواب طلبی کی ہے۔

کل ملا کر سات لاکھ کے قریب روہنگیا اس وقت اپنا وطن ترک کرنے پر مجبور ہوئے تھے جب میانمار کی حکومت کے بقول اس نے جنگجوؤں کے خلاف کارروائی کا آغاز کیا تھا۔

تاہم بعد میں آنے والی اطلاعات کے مطابق اس دوران بڑے پیمانے پر انسانی حقوق کی پامالی ہوئی، لوگوں کو قتل کیا گیا اور ان کے گھر جلا دیے گئے۔

اقوامِ متحدہ نے کہا ہے کہ وہ اس بات پر غور کر رہی ہے کہ میانمار کے ان اقدامات کو 'نسل کشی' کہا جائے۔

جمعرات کو ایک سو سے دو سو کے درمیان برمی فوجی سرحد پر واقع عارضی کیمپ کے قریب نمودار ہوئے۔ سرحدی محافظوں نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ ان کے پاس مشین گنیں اور مورٹر تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption میانمار کے فوجی سرحد پر نظریں رکھے ہوئے ہیں

ایک روہنگیا شخص دل محمد نے خبررساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ میانمار کے حکام لاؤڈ سپیکروں سے اعلانات کر رہے ہیں کہ روہنگیا یہ علاقہ چھوڑ کر چلے جائیں۔

اس سے قبل اس علاقے میں میانمار کی جانب سے بڑے پیمانے پر فوجی گشتیں دیکھنے میں آئی تھیں۔

ایک اور شخص محمد عارف نے اے ایف پی کو بتایا: 'وہ اپنے ساتھ کم از کم 14 سیڑھیاں لے کر آئے تھے اور انھوں نے سرحدی جنگلے پر چڑھ کر ہمیں ڈرانے کی کوشش کی کہ وہ ہمیں اس کیمپ سے نکال باہر کریں گے۔'

بنگلہ دیش کے قائم مقام وزیرِ خارجہ نے میانمار کے سفیر کو بلا کر انھیں کہا کہ سرحدی علاقے میں فوجی موجودگی سے بےچینی پھیلے گی اور کشیدگی میں اضافہ ہو جائے گا۔'

انھوں نے مطالبہ کیا کہ میانمار اپنی فوجیں اور فوجی اثاثے سرحد سے ہٹا دے۔

اسی بارے میں