انڈیا: ’ہولی ہے تو کیا ہمارے ساتھ زبردستی کریں گے‘

دہلی مظاہرہ

انڈیا کے دارالحکومت نئی دہلی کے لیڈی شری رام کالج کی طالبہ اویدھا بہت غصے میں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کسی نے ہولی کے بہانے ان پر مادۂ منویہ (سیمن) سے بھرا غبارا پھینکا تھا۔

اویتھا نے بی بی سی کو بتایا کہ ’پیر کی شام تقریباً آٹھ بجے ہوں گے۔ میں بازار جا رہی تھی تبھی رکشے میں بیٹھے کسی شخص نے مجھ پر غبارہ پھینکا اور میری ٹی شرٹ پوری طرح بھیگ گئی۔‘

اویدھا بھاگ کر واپس کمرے میں آئی اور انھوں نے دیکھا کہ ان کی ٹی شرٹ پر مادۂ منویہ جیسا سفید پیلے کا چپچپا داغ لگا ہے جسے عجیب سی بدبو آ رہی تھی۔

انھوں نے فوراً کپڑے بدلے، ٹی شرٹ کو باتھ روم کے ایک کونے میں ٹانگ دیا۔ ان کا من گھن اور نفرت سے بھر گیا۔

انھوں نے کہا کہ ’لوگ پوچھ رہے ہیں کہ مجھے کیسے پتا کہ وہ مادۂ منویہ تھا۔ میں یہ یقین سے نہیں کہہ سکتی کہ وہ مادۂ منویہ ہی تھا لیکن مجھے ایسا لگا۔ ویسے بھی بات یہ نہیں کہ یہ مادۂ منویہ تھا یا نہیں۔ بات یہ ہے کہ کوئی مجھ پر زبردستی اس طرح بھی کیوں پھینکے گا؟‘

’حد پار ہو گئی‘

وہ سوال کرتی ہیں کہ ’کوئی بنا مرضی کے مجھ پر پانی بھی کیوں پھینکے گا؟ کوئی انجان لڑکا آفس جاتے وقت مجھ پر پانی ڈال کر کیوں بھگوئے گا؟ کس نے اسے یہ حق دیا ہے؟‘

اویدھا اسی طرح غصے سے ایک ایک سوال داغتی ہیں اور ان کے سوال سوچنے پر مجبور کرتے ہیں۔

سوالوں کی جھڑی لگنے کے بعد اویتھا نے پھر بات شروع کی۔ انھوں نے کہا کہ ’ہولی کے نام پر پورے انڈیا میں لڑکیوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ اور بدتمیزی ہوتی ہے۔ میں کولکتہ سے ہوں اور وہاں بھی اس طرح کی چیزیں خوب دکھائی دیتی ہیں لیکن دہلی میں تو حد پار ہوگئی ہے۔‘

’برا نہ مانو ہولی ہے، یہ بچوں کی ٹولی ہے‘

ہولی کے موقعے پر رنگ لگنے اور مستی مذاق کے لیے اکثر اسی لائن کا سہارا لیا جاتا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ آپ ہولی کے بہانے کسی کے ساتھ کچھ بھی کریں گے اور وہ برا نہیں منائیں گے؟

اویدھا سے پہلے انھی کے کالج کی ایک لڑکی نے بھی دہلی کی امر کالونی میں اپنے ساتھ پیش آںے والے ایسے ہی ایک واقعے کا ذکر انسٹاگرام پر کیا تھا۔

انڈیا کے شمال مشرقی ریاست آسام سے تعلق رکھنے والی تولینو چشی کا کہنا ہے کہ ان پر مادۂ منویہ سے بھرا غبارہ پھینکا گیا تھا۔

سوشل میڈیا میں ان کی پوسٹ کا خاصا چرچا رہا۔ بہت سے لوگوں نے ان کے ساتھ ہونے والی اس بدتمیزی پر غصے کا اظہارکیا تو کئی لوگوں نے اسے ہندو روایات کو بدنام کرنے کی کوشش کا الزام بھی عائد کیا۔

’ہولی پسند ہے لیکن ایسے نہیں‘

ان الزامات کے جواب میں زویا کہتی ہیں: ’مجھے ہولی بہت پسند ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہولی کے بہانے کوئی میرے ساتھ کچھ بھی کر کے چلا جائے۔‘ زویا دہلی یونیورسٹی کے کملہ نہرو کالج میں پڑھتی ہیں۔

ملکہ نے ہولی کے موقعے پر اپنے ساتھ پیش آنے والے ایک واقعے کا ذکر کیا۔ انھوں نے بتایا کہ ’یہ تب کی بات ہے جب میں سکول میں پڑھتی تھی۔ ہولی کے دن کچھ لڑکے میرے گھر میں گھس آئے اور انھوں نے میرے چہرے پر زبرستی رنگ مل دیا۔‘

ملکہ نے کہا کہ وہ اسے اب تک نہیں بھول پائی ہیں اور ان کے دل میں ایسی حرکتوں کے خلاف بہت غصہ بھرا ہے۔

ایل ایم آر میں پڑھنے والی ایک اور طالبہ پوچھتی ہیں کہ ’اگر ہم یہ چاہتے ہیں کہ کالج سے گھر جانے تک کے دوران ہمارے کپڑے خراب نہ ہوں تو کیا ہم بہت بڑا مطالبہ رہے ہیں؟‘

گرمہر کور کو لگتا ہے کہ ہولی جیسے جیسے قریب آتی ہے، ہر لڑکی کو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس کے جسم کو نشانے بنایا جا رہا ہے۔

’لڑکیاں بھی شامل ہیں‘

شالو مشرا کا ماننا ہے کہ صرف لڑکے یا مرد ہی ایسا نہیں کرتے بلکہ خواتین بھی اس میں شامل ہیں۔

انھوں نے کہا کہ 'میری دوست کو ایک 20-22 سال کی لڑکی نے ٖغبارہ مارا۔ اس لیے ایسا نہیں کہہ سکتے کہ ایسا صرف مرد ہی کرتے ہیں۔ لوگوں کو یہ سمجھنا چاہیے کہ ہر کوئی ہولی نہیں کھیلنا چاہتا۔'

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں