ایرانی میزائل پروگرام پر بات چیت سے قبل امریکہ، یورپ اپنے جوہری ہتھیار اور میزائل ختم کریں: ایران

ایران تصویر کے کاپی رائٹ AFP

ایران کی مسلح افواج کے ترجمان نے کہا ہے کہ ایران اس وقت تک اپنے بیلسٹک میزائلوں کے بارے میں مذاکرات نہیں کرے گا جب تک امریکہ اور یورپ اپنے جوہری ہتھیار اور دور مار کرنے والے میزائل ختم نہیں کرتا۔

یاد رہے کہ ایران نے اگرچہ اپنے ایٹمی پروگرام پر عالمی طاقتوں کے ساتھ معاہدہ کیا ہے لیکن وہ اپنے میزائل پروگرام پر بات جیت کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔

ایران کی خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق مسلح افواج کے ترجمان مسعود جزیری کا کہنا ہے ’ایران کے میزائلوں پر بات چیت کے لیے شرط یہ ہے کہ امریکہ اور یورپ اپنے دور مار کرنے والے میزائل اور جوہری ہتھیار ختم کریں۔‘

بین الاقوامی طاقتیں ایران کے ساتھ معاہدے کی حامی

امریکی اقدامات کا جواب دیں گے: ایران

’جوہری معاہدے کو تبدیل نہ کیا تو یہ آخری توثیق ہو گی‘

ایران: اسرائیل سے دوستی ختم کریں، سعودی عرب سے مطالبہ

’اپنے دفاع کے لیے ہر قسم کا ہتھیار بنائیں گے‘

ایران کا کہنا ہے کہ اس کا میزائل پروگرام دفاعی نوعیت کا ہے اور ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان 2015 میں ہونے والے معاہدے کے ساتھ میزائل پروگرام کو کوئی تعلق نہیں ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

دوسری جانب ایران نے اس خبر کی تصدیق کی ہے کہ گذشتہ ماہ میونخ میں ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف اور سابق امریکی خارجہ جان کیری کی ملاقات ہوئی تھی۔

امریکی اخبار دا نیو یارکر نے یہ خبر دی تھی کہ جان کیری نے ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف سے استدعا کی تھی کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے ساتھ کشیدگی کے باوجود ایران 2015 میں ہونے والے ایرانی جوہری پروگرام کے معاہدے کو ختم نہ کرے۔

امریکی خبر میں مزید کہا گیا ہے کہ اس ملاقات میں جان کیری کے علاوہ دیگر عالمی طاقتوں کے وہ افراد بھی موجود تھے جن کے ساتھ معاہدہ ہوا تھا۔

خبر میں کہا گیا ہے کہ جان کیری نے ایران سے کہا کہ ٹرمپ انتظامہ جو بھی کہے ایران جوہری معاہدے کو ختم نہ کرے اور نہ ہی اس کی شرائط کی خلاف ورزی کرے۔

اسی بارے میں