سعودی عرب کو اسلحہ بیچنے والے ممالک کو یمن میں جنگی جرائم کا جواب دینا ہو گا: حسن روحانی

فرانس تصویر کے کاپی رائٹ AFP

فرانس کے وزیر خارجہ ژان مارخ ایغو پیر کے روز ایران پہنچے ہیں جہاں وہ ایرانی رہنماؤں سے 2015 کے جوہری معاہدے اور ایران کے شام میں کردار کے حوالے سے بات چیت کریں گے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جاری کیے جانے والے الٹی میٹم کہ اگر صورتحال بہتر نہیں ہوئی تو امریکہ مئی میں جوہری معاہدے سے نکل جائے گا کے بعد یہ کسی بھی یورپی رہنما کا پہلا دورہ ایران ہے۔

’پہلے امریکہ اور یورپ اپنے جوہری ہتھیار اور میزائل ختم کریں‘

’ہتھیاروں سے متعلق روسی اعلان امریکی خدشات کی تصدیق‘

شام: باغیوں کے زیرانتظام علاقے میں بمباری، ’سو سے زیادہ ہلاکتیں‘

’سعودی عرب ایران کے خلاف قرارداد کی حمایت کرے گا‘

ژان مارخ ایغو کی ٹیم نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ ژان مارخ ایغو نے تہران پر یہ واضح کیا ہے کہ وہ ’ڈونلڈ ٹرمپ کے نمائندے کے طور پر دورہ نہیں کر رہے‘۔

فرانسیسی وزیر خارجہ نے یہ دورہ جنوری میں کرنا تھا لیکن ایران میں جاری پرتشدد مظاہروں کے باعث اس کو ملتوی کر دیا گیا تھا۔

وزیر خارجہ کی ٹیم نے میڈیا کو بتایا کہ ’فرانس جوہری معاہدے کو برقرار رکھنا چاہتا ہے کیونکہ یہ کارآمد ہے، مضبوط ہے اور کیونکہ ایران اس کی پاسداری کر رہا ہے۔‘

تاہم فرانسیسی وزیر خارجہ نے کہا کہ ایران جب تک بیلسٹک میزائلوں کے تجربے نہیں روکے گا تب تک شک رہے گا کہ ایران جوہری ہتھیار بنانا چاہتا ہے۔

یاد رہے کہ ایران اس بات کی تردید کرتا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار بنا رہا ہے اور اس کا موقف ہے کہ میزائل سراسر دفاعی نوعیت کے ہیں اور اس بارے میں وہ کوئی بات چیت کے لیے تیار نہیں ہیں۔

ایران مزید کہتا ہے کہ وہ جوہری معاہدے میں نہ اب اور نہ ہی مستقبل میں کسی قسم کی ترمیم تسلیم نہیں کرے گا اور نہ ہی اس بات کو تسلیم کرے گا کہ کسی اور ایشو کو جوہری معاہدے کے ساتھ جوڑا جائے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

ایران نے فرانس کی جانب سے معاشی اور سیاسی حوالے سے رابطے کو سراہا ہے۔ گذشتہ سال ایران نے فرانس کی کمپنی ٹوٹل کے ساتھ پانچ بلین ڈالر کا معاہدہ کیا تھا۔

تاہم دونوں ممالک میں سیاسی اختلافات اتوار کے روز اس وقت سامنے آئے جب ایرانی صدر حسن روحانی نے فرانس کے صدر ایمینوئل میکراں کے ساتھ فون پر بات کی۔

فرانس کے صدر نے ایران سے کہا کہ وہ اپنے شامی حلیف بشار الاسد پر دباؤ ڈالے کہ شہریوں پر حملے بند کرے۔

تاہم ایرانی صدر حسن روحانی نے کہا کہ وہ ممالک جو سعودی عرب کو اسلحہ بیچ رہے ہیں ان کو یمن میں سعودی عرب کی طرف سے کیے جانے والے جنگی جرائم کا جواب دینا ہو گا۔

واضح رہے کہ سعودی عرب کو سب سے زیادہ اسلحہ فروخت کرنے والے ممالک میں فرانس بھی شامل ہے۔

اسی بارے میں