'رام مندر کے خلاف فیصلہ آیا تو انڈیا میں شام جیسے حالات ہو جائيں گے'

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption شری شری روی شنکر خود کو روحانی پیشوا اور امن کا پیامبر کہتے ہیں اور دنیا بھر میں ان کے عقیدت مند نظر آتے ہیں

انڈیا میں 'آرٹ آف لیونگ‘ کے سربراہ اور روحانی پیشوا شری شری روی شنکر ان دنوں عدالت کے باہر بابری مسجد تنازعے کو حل کرنے کی کوششوں میں سرگرم ہیں۔

بابری مسجد اور رام مندر تنازعے پر روی شنکر نے کہا ہے کہ اگر ایودھیا تنازع حل نہیں ہوا تو پھر انڈیا میں شام جیسے حالات ہو جائيں گے۔

روی شنکر خود کو امن کا پیامبر اور انسانیت پرست بتاتے ہیں۔ انھوں نے گذشتہ روز پیر کو انڈیا ٹو ڈے اور این ڈی ٹی وی کو یکے بعد دیگرے اپنے انٹرویوز کے دوران یہ باتیں کہیں۔

شری شری روی شنکر نے این ڈی ٹی وی کو بتایا: 'اگر عدالت یہ فیصلہ دیتی ہے کہ متنازع جگہ بابری مسجد ہے تو کیا لوگ اس بات کو باآسانی اور بخوشی قبول کر لیں گے؟ یہ 500 سال سے مندر کے لیے لڑنے والی اکثریتی برادری کے لیے تلخ گولی ثابت ہو گی۔ ایسے میں کشت و خون بھی ہو سکتا ہے۔'

شری شری روی شنکر نے یہ بھی کہا: 'مسلمانوں کو خیر سگالی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایودھیا پر اپنا دعویٰ چھوڑ دینا چاہیے۔ ایودھیا کا معاملہ مسلمانوں کی عقیدت سے منسلک نہیں ہے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ AFP/GETTY IMAGES
Image caption بابری مسجد کا معاملہ ایک زمانے سے حل طلب ہے جبکہ چھ دسمبر سنہ 1992 میں انتہا پسند ہندؤں کے ہاتھوں اسے مسمار کر دیا گیا

انھوں نے مزید کہا: 'اگر عدالت نے مندر کے حق میں فیصلہ دیا تو پھر مسلمان شکست خوردہ محسوس کریں گے۔ ان کا عدلیہ سے یقین اٹھ سکتا ہے۔ ایسے میں وہ انتہا پسندی کی جانب جا سکتے ہیں اور ہم امن چاہتے ہیں۔'

انھوں نے کہا کہ 'اسلام میں متنازع مقام پر عبادت کی اجازت بھی نہیں ہے جبکہ بھگوان رام کہیں اور پیدا نہیں ہو سکتے۔'

دوسری جانب سوشل میڈیا پر روی شنکر کی جانب سے انڈیا میں شام جیسے حالات پیدا ہونے یا خانہ جنگی کی بات پر مباحثہ جاری ہے۔

یہ بھی پڑھیے

٭ بابری مسجد کی کہانی، تصویروں کی زبانی

٭ ’صرف بابری مسجد ہی نہیں بلکہ بہت کچھ ٹوٹا‘

آل انڈیا اتحادالمسلمین کے رہنما اور رکن پارلیمان اسدالدین اویسی نے اس پر شدید رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقلیتوں کے خلاف براہ راست دھمکی ہے اور لوگوں کو تشدد پر اکسانے کے مترادف ہے۔

انھوں نے کہا: 'انھیں قانون کی بالا دستی میں یقین نہیں ہے۔ انھیں سپریم کورٹ میں یقین نہیں ہیں۔ وہ خود کو ہی عدالت سمجھنے لگے ہیں۔ ملک کا موازانہ شام کی خانہ جنگی سے کرنا لوگوں کے ذہن میں خوف و دہشت پیدا کرنا ہے۔ ان کے خلاف فوراً مقدمہ درج کیا جانا چاہیے۔'

سینیئر صحافی راج دیپ سردیسائی نے ٹوئٹر پر سوال کیا: 'کیا شری شری نے واقعی یہ کہا ہے کہ اگر مسجد مندر مسئلہ حل نہیں ہوتا تو انڈیا شام بن جائے گا۔ کیا وہ یہ بات اپنی طرف سے کہہ رہے ہیں یا کہ حکومت ہند کی جانب سے یا پھر وی ایچ پی جانب سے؟'

ہندی اخبار امر اجلا کے مطابق سابق رام ولاس ویدانتی نے شری شری روی شنکر کی کوششوں پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا: 'آخر وہ ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر کی ٹھیکیداری لینے والے کون ہوتے ہیں۔ آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت بھی ایودھیا میں شری شری کی مداخلت نہیں چاہتے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

جبکہ مصنف پرکاش کاشوان نے ٹویٹ کیا ہے کہ 'سیاسی موبیلائیزیشن کے واحد مقصد کے لیے ہندوتوا بریگیڈ مذہبی دشنمی اور تصادم کو ہوا دے رہا ہے۔ کیا آپ کو کوئی شرم نہیں آتی شری شری؟'

چھ سال پہلے مارچ کے ہی مہینے میں روحانی گرو شری شری روی شنکر پاکستان کے دورے پر تھے۔

یہ بھی پڑھیے

٭ بابری مسجد مقدمہ: ہندو فتح کے، مسلمان انصاف کے منتظر

٭ 'بابری مسجد کا تنازع عدالت سے باہر حل کیا جائے'

اس وقت اسلام آباد میں ایک آشرم کے افتتاح کے بعد انھوں نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ وہ طالبان اور دیگر انتہا پسندوں سے گفتگو کرنے کے لیے تیار ہیں۔

ایک طویل انٹرویو کے دوران شری شری روی شنکر نے کہا: 'میری اولین ترجیحات میں لوگوں کے درمیان کے فاصلے کو کم کرنا ہے۔ امن و سکون کی نئی لہر لانا ہے۔'

شری شری تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption نیشنل گرین ٹریبیونل نے کہا تھا کہ جمنا کے کنارے شری شری کے پروگرام سے ماحولیات کو نقصان ہوا تھا

ایسا پہلی بار نہیں ہے کہ شری شری شنکر تنازعے کے حصار میں آئے ہیں۔

اس سے قبل وہ اس وقت بڑے تنازعے کا حصہ بنے تھے جب دہلی میں دریائے جمنا کے کنارے منعقدہ ان کے ورلڈ کلچرل فیسٹیول پر نیشنل گرین ٹریبیونل نے سوال اٹھائے تھے اور دریائے جمنا کو نقصان پہنچانے کے لیے ان کے ادارے پر پانچ کروڑ کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

٭ انڈین سپریم کورٹ کی تاریخ کا ’مشکل ترین مقدمہ‘

ہم جنس پرستی پر ان کا بیان بھی تنازعے کا شکار ہو گیا تھا۔ انھوں نے کہا تھا کہ 'ہم جنس پرستی ایک رویہ ہے جسے بعد میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔'

شری شری روی شنکر نے گذشتہ سال اپریل میں کسانوں کی خودکشی پر ایک بیان میں کہا تھا کہ 'کسان روحانیت کی کمی کی وجہ سے خود کشی کر رہے ہیں۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

روی شنکر نے پاکستان کی نوجوان ملالہ یوسف زئی کو نوبیل امن انعام دیے جانے پر بھی سوال اٹھایا تھا۔

انھوں نے کہا کہ ملالہ یوسف زئی نے ایسا نہیں کیا ہے جس کے لیے انھیں نوبیل انعام دیا جانا چاہیے۔

خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے مطابق بابری مسجد تنازعے کے انٹرویو کے بعد روی شنکر نے کانپور میں کہا کہ 'ہم نے جس چیز کو اٹھایا ہے ہم اس میں کامیاب ہوئے ہیں۔ ہمیں مثبت ردعمل مل رہا ہے۔ آپ انتظار کریں اور دیکھتے جائیں۔'

شام اور انڈیا کا موازنہ کرنے پر چاروں جانب سے ہونے والی تنقید کے بعد انھوں نے کہا ہے کہ ان کے بیان کو میڈیا نے صحیح تناظر میں نہیں لیا ہے۔

اسی بارے میں