سری لنکا میں مسلمانوں کے خلاف حملے کیوں ہوئے؟

Violence in Kandy on Monday
Image caption سری لنکا میں سب سے زیادہ کشیدی سیاحتی مقام کینڈی میں ہوئی۔

سری لنکا میں کابینہ نے مسلمانوں کے کاروبار اور مساجد پر کئی حملوں کے بعد حالات پر قابو پانے کے لیے ایمرجنسی نافذ کر دی ہے۔ بی بی سی نے یہ جاننے کی کوشش کی وہ کون کون سے محرکات تھے جس کی وجہ سے سری لنکا میں پرتشدد واقعات ہوئے۔

سری لنکا میں اب ہنگامے کیوں ہوئے؟

ایسی اطلاعات ہیں کہ ایک ہفتہ قبل سری لنکا کے سیاحتی مرکز کینڈی میں ٹریفک کے مسئلے پر چند مسلمان لڑکوں نے بودھ مذہب کے ماننے والے ایک شخص کو ہلاک کر دیا۔ گذشتہ ہفتے مشرقی قصبے ایمپارہ میں مسلمان کی دوکان کے مسئلے پر مسلمانوں کے خلاف پرتشدد واقعات ہوئے۔ سال 2014 میں بھی اسی قسم کے پرتشدد واقعات ہوئے تھے جس میں چار افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے تھے۔

سری لنکا: مسلمانوں پر حملوں کے بعد ہنگامی حالت نافذ

مسلمانوں پر حملوں کے الزام میں بودھ رہنما گرفتار

ان ہنگاموں میں سخت گیر بودھ گروہوں کا کیا کردار ہے؟

2014 میں سخت گیر موقف رکھنے والے بودھ مذہبی رہنما پر ہنگامے کروانے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو میں سخت گیر بودھ مذہبی رہنما کینڈی میں مسلمانوں اور بودھ مذہب کے ماننے والوں میں کشیدگی ختم کروانے والے مذہبی رہنما کو برا بھلا کہہ رہے ہیں۔

سابق صدر راجہ پکشا کے دور میں ایک بودھ تنظیم 'بودو بالا سینا‘ پر مسلمانوں کے خلاف ریلیاں اور مظاہرے کروانے کا الزام عائد کیا جاتا تھا۔

کیا مسلمان آبادی میں بھی سخت گیر عناصر موجود ہیں؟

عمومی طور پر دیکھا گیا ہے کہ گذشتہ کچھ عرصے میں سری لنکا کی نو فیصد مسلمان آبادی کے بعض حصوں میں مذہبی رجحان اور قدامت پرستی میں اضافہ ہوا ہے۔

سخت گیریت اور کٹر مسلمان بنانے میں اُن مساجد اور مدرسوں نے اہم کردار ادا کیا ہے جنھیں سعودی عرب اور خلیجی ممالک سے فنڈنگ ہو رہی ہے۔ گو کہ ان کی تعداد کے بارے میں کچھ واضح نہیں ہے۔

کشیدگی کو ہوا دینے میں سوشل میڈیا نے کیا کردار ادا کیا؟

مسلمانوں کے خلاف افواہیں اڑانے اور حملوں کی حمایت حاصل کرنے میں فیس بک کا استعمال کیا گیا۔ حکومت میں بعض افراد کے خیال میں سوشل میڈیا میں افواہیں اور نفرت انگیز تقاریر ہی اہم مسئلہ ہے۔ ملک کے وزیراعظم نے اس مسئلے کو پارلیمان میں اُٹھایا ہے۔

حکومت نے ہنگامی حالت نافذ کرنا کیوں ضروری سمجھا

کینڈی میں پولیس کی وافر تعداد میں موجودگی کے باوجود پرتشدد کارروائیاں ہوئیں اور سیاست دانوں کے خیال میں پولیس یا احکامات پر عمل کرنا نہیں چاہتی تھی یا پھر ان کے پاس تشدد روکنے کی صلاحیت نہیں تھی۔ اس لیے انھیں لگا کہ ہنگامے روکنے کے لیے فوج کی ضرورت ہے۔یہ تشدد کو مزید ہوا دینے والوں کے لیے بھی دو ٹوک پیغام تھا۔

سری لنکا میں 2011 کے بعد یہ پہلی ایمرجنسی ہے۔

ہنگامی حالت پر بین الاقوامی ردعمل کیا تھا

کولمبو میں امریکہ اور برطانیہ کے سفارت خانوں نے پرتشدد واقعات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔انڈیا اور بنگلہ دیش کے درمیان ہونے والے کرکٹ ٹورنامنٹ کے انعقاد کے لیے کولمبو میں کرکٹ سٹیڈیم میں اضافی سکیورٹی تعینات کی گئی ہے۔

یہ سٹیڈیم مسلمان آبادی والے علاقے میں ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں