پاکستان کی بعض شکایت جائز ہیں: امریکہ

ایلس جی ویلز تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

تحریک طالبان پاکستان کی افغانستان میں موجودگی، سرحدوں پر کنٹرول، افغان مہاجرین سے پاکستان کی مشکلات اور افغانستان سے پاکستان کے تعلقات، ایسے چار اہم نکات ہیں جن پر پاکستان کی شکایت کو امریکہ نے جائز قرار دیا ہے اور ان کو رفع کرنے کا عندیہ دیا ہے۔

وائٹ ہاؤس میں دو دن قبل ہونے والی ایک بریفنگ میں جنوبی اور وسطی ایشیائی امور کے بیورو کی پرنسپل ڈپٹی اسسٹنٹ سیکریٹری ایلس جی ویلز نے افغانستان میں قیام امن میں پاکستان کی اہمیت کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ امریکی وزارتِ خارجہ پاکستان سے باہمی تعلقات بہتر کرنے کی حمایت کرتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ گذشتہ چند مہینوں میں پاکستان اور امریکہ کے درمیان مختلف وفد کا تبادلہ ہوا ہے جن کا مقصد کسی معاہدے پر پہنچنے کے لیے طریقہ کار وضع کرنا ہے تاکہ باہمی تعلقات کو بہتر کیا جا سکے۔ انھوں نے مزید کہا :'ہم اس عمل کی حمایت کرتے ہیں اور اسے بہت اہم سمجھتے ہیں۔'

اس بارے میں مزید پڑھیے

’پاکستان افغان طالبان سے مذاکرات میں مدد کے لیے تیار‘

'پاکستان کا طالبان پر پہلے جیسا اثر و رسوخ نہیں رہا'

افغان حکومت کا طالبان کو سیاسی جماعت تسلیم کرنے کا اعلان

یہ بیان ایلس جی ویلز نے بھارت کی سرکاری خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے نامہ نگار کے سوال کا جواب میں دیا۔ پی ٹی آئی کے نامہ نگار نے افغانستان کے امن عمل میں پاکستان کی اہمیت کے بارے میں سوال کرتے ہوئے انڈین حکومت کی کئی بار کہی گئی بات دھرائی کہ کیا امن اور دہشت گردی ایک ساتھ چل سکتے ہیں؟

ایلس جی ویلز نے اپنا جواب دیتے ہوئے کہا کہ افغانستان کے امن میں پاکستان کا بہت اہم کردار ہے۔ 'ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستان یقینی طور پر مذاکرات کرانے میں مدد کر سکتا ہے اور ایسے اقدامات کر سکتا ہے جن سے طالبان پر دباؤ بڑھے اور وہ سیاسی عمل کے ذریعے کسی حل پر پہنچنے کے لیے تیار ہو سکیں۔‘

ایلس جی ویلز نے پاکستان اور امریکہ کے درمیان حالیہ روابط کی تفصیل بیان کرتے ہوئے کہا 'ہم پاکستان سے رابطوں میں یہ سمجھنے کی کوشش کر رہے ہم ایک دوسرے کے ساتھ کیسے کام کر سکتے ہیں؟ پاکستان کی جائز شکایات کو دور کر سکتے ہیں اور مذاکرات کے ذریعے کیسے افغانستان میں استحکام لا سکتے ہیں؟'

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

پاکستان کے رویے میں تبدیلی کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں ایلس جی ویلز نے کہا کہ ابھی تک پاکستان کے رویے میں فیصلہ کن اور مستقل تبدیلی دیکھنے میں نہیں آئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ وہ پاکستان کو ان امور میں شریک کرتے رہیں گے جہاں وہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان تبدیلی لانے کے لیے معاون اور مدد گار کردار ادا کر سکتا ہے۔

کیا پاکستان کی امداد بند کرنے سے کوئی فرق پڑا؟ اس سوال کے جواب میں ایلس جی ویلز نے کہا حکومت پاکستان کے ساتھ ایک عمل شروع کیا ہے اور اس سلسلے میں کئی اعلیٰ سطح کے وفود کا تبادلہ ہوا ہے۔

انھوں نے پاکستان کی خارجہ سیکریٹری تہمینہ جنجوعہ کے دورے کا حوالہ بھی دیا جو آج سے شروع ہو رہا ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ وہ پاکستان سے منہ نہیں موڑ رہے ہیں، پاکستان کی سول اور فوجی قیادت سے وسیع مذاکرات ہوں گے جن میں یہ معلوم کرنے کی کوشش کی جائے گی کہ کس طرح دونوں ملک مل کر کام کر سکتے ہیں۔

طالبان کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال پر انھوں نے کہا کہ طالبان کی بعض شکایات بھی جائز ہیں جن میں افغانستان میں حکومتی سطح پر پائی جانے والی کرپشن کا مسئلہ بھی شامل ہے۔

ایلس جی ویلز سے طالبان کے امریکہ سے براہ راست مذاکرات کے مطالبہ کے بارے میں پوچھے گئے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ پہلا اور اہم قدم طالبان اور افغان حکومت کے درمیان مذاکرات ہیں۔

انھوں نے کہا کہ امریکی فوج وہاں ایک خود مختار حکومت کی درخواست پر وہاں موجود ہے اور امریکی فوجی کی افغانستان میں موجودگی کے بارے میں اسی خود مختار حکومت سے بات کر سکتی ہے۔

اسی بارے میں