لوگوں کو عزت سے مرنے کا حق حاصل ہے: انڈین سپریم کورٹ

سپریم کورٹ تصویر کے کاپی رائٹ AFP

انڈیا کی سپریم کورٹ نے ایک کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے کہا ہے کہ لوگوں کو عزت سے مرنے کا حق حاصل ہے اور اگر کوئی شخص مہلک بیماری میں مبتلا ہے تو وہ یوتھنیزیا یعنی اپنا علاج بند کرا کے جلد موت پانے کا حق رکھتا ہے۔

انڈیا میں یوتھنیزیا پر بحث 2015 سے جاری ہے۔ اس بحث کا آغاز ارونا نامی ایک خاتون کی مئی 2015 میں موت سے ہوا جس کو جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور وہ 40 برس تک کوما میں رہیں۔

42 سال تک کوما میں رہنے والی ریپ کا شکار نرس کی موت

ارونا کیس: موت کے حق کی درخواست مسترد

عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ مریض کی جلد موت کے لیے علاج بند کیا جا سکتا ہے لیکن جب تک اس بارے میں قانون نہیں بنتا، ایسا کرنے کے لیے سخت ہدایات ہیں ۔

انڈین سپریم کورٹ نے فیصلے میں یہ بھی کہا ہے کہ لوگوں کو ’لیونگ وِل‘ یعنی تندرست حالت میں وصیت لکھنی چاہیے کہ اگر مستقبل میں کوما میں چلا جاؤں تو تو مصنوعی طریقے سے زندگی کو لمبا کرنے کے بجائے جلد موت کا راستہ اختیار کیا جائے۔

یہ فیصلہ سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے دیا جس کی سربراہی چیف جسٹس کر رہے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption انڈیا میں یوتھنیزیا پر بحث 2015 سے جاری ہے۔ اس بحث کا آغاز ارونا نامی ایک خاتون کی موت سے ہوا جس کو جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور وہ 40 برس تک کوما میں رہیں

پانچ رکنی بینچ نے یہ فیصلہ اس درخواست پر دیا جس میں عدالت عظمیٰ سے استدعا کی گئی تھی کہ ’لیونگ وِل‘ کی اجازت دی جائے۔

یاد رہے کہ انڈیا کی سپریم کورٹ نے مئی 2011 میں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ارونا شان باگ کو موت دینے کی درخواست کو رد کر دیا تھا جو اس وقت گذشتہ 34 سالوں سے بسترِ مرگ پر تھیں۔

عدالت کا کہنا تھا کہ ارونا کو جینا چاہیے کیونکہ طبی اور دیگر شہادتوں سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ انھیں 'انسانی بنیادوں پر موت' نہیں دی جا سکتی۔

ارونا کو 1973 میں جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھا اور اسی دوران زخمی ہونے کے بعد سے وہ مفلوج حالت میں بسترِ مرگ پر تھیں۔ ارونا چل پھر سکتی تھیں اور نہ بول سکتی تھیں۔

ہسپتال میں صفائی کرنے والے ایک مزدور سوہن لال نے ہسپتال کے ہاسٹل میں ارونا پر جنسی حملے میں کتے کو باندھنے والی زنجیر ارونا کے گلے میں باندھی تھی جس کی وجہ سے ان کے دماغ تک جانے والی آکسیجن رک گئی تھی۔

یہ درخواست صحافی اور مصنفہ پنکی ویرانی نے داخل کی تھی جو ارونا کی زندگی پر کتاب لکھ رہی تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر نرس ارونا نیم مردہ حالت میں جی رہی ہیں تو انہیں باعزت طریقے سے موت دی جائے۔

ممبئی میں کے ای ایم ہسپتال میں وہیں کی نرسیں ارونا کی دیکھ بھال کرتی تھیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں