جزیرے کی قدرت کی آغوش میں واپسی

برطانوی متروکہ انڈمان جزائر میں واقع روس جزیرے پر اس کا اصل حقدار قبضہ کر رہا ہے یعنی قدرت۔

انڈیا کے دلکش جزائر

نیلما ورنگی تصویر کے کاپی رائٹ Neelima Vallangi

خلیج بنگال میں واقع انڈیا کے انڈمان اور نکوبار جزائر 572 جزیروں پرمشتمل ہیں جن میں سے صرف 38 پر آبادی ہے۔ یہ جزیرے فاصلے کے حساب سے انڈیا کی بہ نسبت جنوب مشرقی ایشیا کے زیادہ قریب ہیں۔

یہ جزیرے شاندار ساحلوں، سمندری حیات، ساحلی خوبصورتی اور جنگلات کے حوالے سے مشہور ہیں لیکن دلکش نظاروں کے علاوہ ان کا سیاہ ماضی ہے۔

آبادکاری کے کھنڈرات

نیلما ورنگی تصویر کے کاپی رائٹ Neelima Vallangi

ان جزیروں میں سے ایک جزیرہ روس آئی لینڈ ہے۔ یہ ماضی میں ایک قصبہ تھا جہاں 19 ویں صدی کے برطانوی آبادکاری کے نشانیاں اب کھانڈرات میں تبدیل ہو گئی ہیں۔ اس جزیرے کو 40 کی دہائی میں ترک کیا گیا اور اس پر اب قدرت آہستہ آہستہ اپنا قبضہ جما رہی ہے۔ شاندار مکانات، بڑا چرچ اور قبرستان ٹوٹ پھوٹ کے قریب ہیں۔

تعزیراتی کالونی

نیلما ورنگی تصویر کے کاپی رائٹ Neelima Vallangi

1987 کی غیر متوقع بغاوت کے بعد برطانیہ نے ان جزیروں پر باغیوں کے لیے تعزیری کالونی بنائی تھی۔ برطانوی 1858 میں 200 سزا یافتہ باغیوں کے ہمراہ ان جزیروں پر پہنچے۔ اس وقت یہ جزائر گھنے جنگلات کے علاوہ کچھ نہیں تھے۔

روس آئی لینڈ کا رقبہ محض صفر اعشاریہ تین سکوائر کلومیٹر ہے۔ اس کو تعزیری جزیرے کے لیے سب سے پہلے چنا گیا کیونکہ یہاں پر پانی موجود تھا۔ اس جزیرے پر گھنے جنگل کو صاف کرنے کا مشکل کام سزا یافتہ باغیوں کے حوالے کیا گیا جبکہ برطانوی آفیسر بحری جہازوں ہی پر رہے۔

نیا آغاز

نیلما ورنگی تصویر کے کاپی رائٹ Neelima Vallangi

تعزیری کالونی کے وسیع ہونے کے ساتھ سزا یافتہ باغیوں کو قریبی جزیروں پر تعمیر کیے گئے جیلوں اور بیرکس میں رکھا گیا۔ روس آئی لینڈ پر انتظامی ہیڈ کوارٹر کے ساتھ ساتھ اعلیٰ افسران اور ان کے اہل خانہ کی رہائش گاہیں بھی بنائی گئی تھیں۔

کیونکہ پانی کی وجہ سے پھیلنے والی بیماریوں کے باعث شرح اموات بہت زیادہ تھی اس لیے ہر ممکن کوشش کی گئی کہ روس آئی لینڈ کو رہنے کے لیےاچھا جگہ بنایا جائے۔ اعلیٰ فرنیچر سے سجے ہوئے شاندار محلات، بڑے باغیچے اور ٹینس کورٹس بنائے گئے۔

اس کے علاوہ چرچ، پانی صاف کرنے کا پلانٹ، فوجی بیرکس اور ہسپتال بنایا گیا۔

آخری ہجرت

نیلما ورنگی تصویر کے کاپی رائٹ Neelima Vallangi

اس تصویر میں پاور پلانٹ دیکھا جا سکتا ہے جو ڈیزل جنریٹر کی مدد سے اس چھوٹے جزیرے کو روشن کرتا تھا۔ اسی جنریٹر کی وجہ سے روس آئی لینڈ اپنے ارد گرد کی مصیبتوں سے عاری ایک چمکتی جنت کا نقشہ پیش کرتا تھا۔

ابھی تعزیری جزائر پوری طرح آپریشنل بھی نہیں ہوئے تھے کہ برطانیہ کو 1938 میں سارے سزا یافتہ باغیوں کو رہا کرنا پڑا۔

1942 تک برطانوی فوجیوں کو ممکنہ جاپانی حملے کو مد نظر رکھتے ہوئے روس آئی لینڈ چھوڑنا پڑا لیکن دوسری جنگ عظیم کے ختم ہونےکے بعد ایک بار پھر برطانیہ نے ان جزائر پر قبضہ کر لیا۔

اس کے کچھ ہی عرصے بعد ہندوستان کو انڈیا اور پاکستان کی صورت میں برطانوی راج سے آزادی ملی۔ اس آزادی کے بعد ان جزائر کو ان کی قسمت پر چھوڑ دیا گیا۔ 1979 میں انڈین بحریہ نے ان جزائر کو اپنے قبضے میں لے لیا۔

قدرت

نیلما ورنگی تصویر کے کاپی رائٹ Neelima Vallangi

روس آئی لینڈ پر واقعے وہ کھنڈرات جو زیادہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار نہیں ہوئے ماضی کی تصویر دکھاتے ہیں۔ مصروف بازار، اطالوی ٹائیلیں، نقش و نگار والے شیشے تو اب نہیں رہے لیکن چھت کے بغیر کمشنر کا بنگلا، چھوٹے افسران کا کلب، چرچ اور بے نام دیواریں اب رہ گئی ہیں۔

شکار

نیلما ورنگی تصویر کے کاپی رائٹ Neelima Vallangi

1900 کے آغاز پر برطانوی افسران نے ہرن کی کئی قسمیں انڈمان جزیروں پر متعارف کرائیں۔ تاہم کسی شکاری جانور کی عدم موجودگی میں ہرن ایک مسئلہ بن گئے اور نئے جنگلات کو نقصان پہنچانے لگے۔ آج بھی روس آئی لینڈ پر ہرن، خرگوش اور مورنیوں کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔

مستقبل پر ایک نظر

نیلما ورنگی تصویر کے کاپی رائٹ Neelima Vallangi

یہ تصویر چھوٹے افسران کے کلب کی ہے۔ آج اس کلب کے ٹوٹے پھوٹے ہال میں میوزک کی نہیں بلکہ پرندوں کی آوازیں آتی ہیں۔

تعزیری کالونی کو بند کیے ہوئے آٹھ دہائیاں گزر چکی ہیں اور ہندوستان کی آبادکاری کے سیاہ ماضی کا باب بند ہو چکا ہے۔

روس آئی لینڈ بحر ہند پر بھولا ہوا دھبا ہے جو اس جانب نشاندہی کرتا ہے کہ دنیا کیسی لگے گی جب انسان جا چکے ہوں گے اور قدرت کا قبضہ ہو گا۔

۔

متعلقہ عنوانات