’سٹیفن ہاکنگ نے میری بیٹی کا داخلہ کرایا تھا‘

سٹیگن ہاکنگ

سٹیفن ہاکنگ سے میرا بہت قریبی تعلق تھا بس انھیں کبھی خبر نہیں ہوئی! ہوتی بھی کیسے، ہم صرف ایک مرتبہ جو ملے تھے، وہ سٹیج پر تھے اور اپنے پسندیدہ سبجیکٹ ’بلیک ہولز‘ کے بارے میں لیکچر دے رہے تھے اور میں سینکڑوں دوسرے لوگوں کے ساتھ بیٹھ کر ان کی بات سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا۔

لیکن اس ایک ملاقات کو میں کبھی بھلا نہیں سکتا۔ ہاں میں انھیں ’بلیک ہولز‘ پر ان کی مہارت یا دریافتوں کی وجہ سے یاد نہیں کروں گا کیونکہ سچ یہ ہے کہ اس وقت بات میری سمجھ سے باہر تھی۔ (اب بھی ہے لیکن تسلیم کرنے میں ذرا مشکل ہوتی ہے!)

یہ بات جنوری سنہ 2001 کی ہے جب وہ دلی آئے تھے اور تقریباً اسی حالت میں تھے جس میں ہم اب انھیں اپنی ٹی وی سکرین پر دیکھا کرتےتھے۔

سٹیفن ہاکنگ کا دلی میں ایک راک سٹار کی طرح استقبال ہوا۔

سٹیفن ہاکنگ کے بارے میں مزید پڑھیں

معروف برطانوی سائنسدان سٹیفن ہاکنگ چل بسے

معروف طبیعات دان سٹیفن ہاکنگ کی زندگی تصاویر میں

ہاکنگ کے تھیسِس کی آن لائن اشاعت، یونیورسٹی کی سائٹ کریش کر گئی

'انسانیت کو انسان کی اپنی تخلیقات سے خطرات'

پروفیسر سٹیون ہاکنگ 'ریتھ لیکچرز' پیش کریں گے

'مصنوعی ذہانت انسانی نسل کا خاتمہ کر دے گی'

سٹیفن ہاکنگ کو شہر کے مشہور سیری فورٹ آڈیٹوریم میں لیکچر دینا تھا۔ میں اس وقت انڈیا کی خبر رساں ایجنسی یو این آئی کے لیے کام کرتا تھا۔ صحافیوں کو اس وقت بھی پیسے تو بس اتنے ہی ملتے تھے کہ بہ مشکل گزارا ہو جائے لیکن شہر میں کوئی بھی تقریب ہو یا کوئی بڑا میچ ہو تو ’وی آئی پی پاسز‘ ملنے میں کبھی کوئی دقت نہیں ہوتی تھی۔

میرے پاس وی آئی پی پاس تھا۔ سائنس میں دلچسپی تو تھی لیکن میں اپنے بیٹے کو سٹیفن ہاکنگ کی ایک جھلک دکھانا چاہتا تھا۔ بیٹےکی عمر اس وقت تقریباً سات سال تھی۔

ہم سیری فورٹ پہنچے تو ایسا لگا کہ پورا شہر وہاں موجود تھا۔ آڈیٹوریم میں داخل ہونے کے لیے اتنی لمبی قطاریں میں نے دوبارہ اس وقت دیکھیں جب انڈیا میں بڑے کرنسی نوٹ بند کر دیے گئے اور پریشان حال لوگ اے ٹی ایم مشینوں سے پیسہ نکالنے کے لیے لائن میں کھڑے ہونے کے لیے مجبور ہوئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC/RICHARD ANSETT

میرا بیٹا دلی کے ایک مشہور ’مڈل کلاس‘ سکول میں پڑھتا تھا جہاں کافی بھاگ دوڑ اور کچھ سفارشوں کے بعد میں نے کسی طرح اس کا داخلہ کرا لیا تھا۔ سکول کی پالیسی تھی کہ اگر ایک بچہ پہلے سے سکول میں پڑھ رہا ہو تو دوسرے بچے کو داخلے میں ترجیح دی جائے گی۔ اس لیے میں نے نرسری میں یٹی کے داخلے کے وقت زیادہ بھاگ دوڑ نہیں کی تھی، مجھے اعتماد تھا کہ ’سبلنگ‘ یا بھائی بہن پالیسی کے تحت اس کا داخلہ ہو ہی جائے گا۔

لیکن میرے اکثر اندازوں کی طرح یہ بھی غلط ثابت ہوا!

جن لوگوں کو معلوم ہے کہ دلی میں کسی سکول میں داخلہ کرانا کتنا مشکل کام ہے، وہ میری ذہنی کیفیت کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔

میں نے پرنسپل سے ملنے کی کوشش کی لیکن گیٹ پر رسپشن سے آگے نہیں بڑھ سکا، دلی میں کچھ دروازے ایسے ہیں جو صحافیوں کے لیے بھی آسانی سے نہیں کھلتے!

یہ بیک گراؤنڈ تھا۔ سیری فورٹ آڈیٹوریم کے باہر لمبی لائن میں دلی کی ممتاز ترین شخصیات کھڑی تھیں۔ دانشور طبقہ۔ حسن اتفاق سے اس میں میرے بیٹے کے سکول کی پرنسپل بھی شامل تھیں۔ بھیڑ میں میری ان پر نظر پڑی تو میں نے بیٹے کو کندھے پر بٹھایا اور انھیں گھیر لیا۔

میں نے ان سے کہا کہ آپ سے ملنا مشکل ہی نہیں نا ممکن ہے اور تمام کوششوں کے بعد میں سکول کے گیٹ سے آگے نہیں بڑھ سکا۔

انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ آپ کیوں ملنا چاہتے ہیں؟ میں نے بتایا کہ میرا بیٹا، جو اس وقت میرے کندھے پر تھا، آپکے سکلول میں پڑھتا ہے لیکن داخلوں کی نئی فہرستوں میں میری بیٹی کا نام شامل نہیں ہے۔

انھوں نے کہا کہ آپ اپنے بیٹے کو سٹیفن ہاکنگ کا لیکچر سنوانے کے لیے لائے ہیں؟ میں نے ہنستے ہوئے کہا کہ سننے سے زیادہ ہماری دلچسپی سٹیفن ہاکنگ کو دیکھنے میں ہے!

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

انھوں نے کہا کہ کل صبح مجھ سے سکول میں آ کر ملیے۔ میں صبح سکول پہنچا تو پھر رسپشن سے آگے نہیں بڑھ سکا لیکن اس مرتبہ رسپشنسٹ نے دیکھتے ہی بہت احترام سے مجھے ایک داخلہ فارم دیا اور میری بیٹی کی تعلیم کا سفر بھی شروع ہو گیا۔

اس لیے میں نے ہمیشہ سٹفین ہاکنگ سے ایک قریبی رشتہ مانا ہے۔ انھیں بھلے ہی معلوم نہ ہو لیکن ان کی وجہ سے میری بیٹی کا ایک اچھے سکول میں داخلہ ہوا تھا۔ سیری فورٹ کے لیکچر میں انھوں نے بلیک ہولز کے بارے میں سمجھایا اور اپنے منفرد انداز میں اپنی حس مزاح کا مظاہرہ بھی کرتے رہے۔

ہم سب ہنستے تو رہے لیکن سمجھ میں زیادہ کچھ آیا نہیں۔ لیکچر کے بعد سب نے کھڑے ہو کر تالیاں بجائیں لیکن مجھے شبہ ہے کہ باقی لوگوں کی معلومات میں بھی بس اتنا ہی اضافہ ہوا تھا جتنا کہ میری، جو بہت زیادہ نہیں تھا۔

میں نے بعد میں ان کی کتاب اے بریف ہسٹری آف ٹائم پڑھی، احتراماً دو مرتبہ(یا شاید سمجھنے کے لیے)

اے بریف ہسٹری آف ٹائم شاید سائنس کی سب سے زیادہ بکنے والی کتاب ہے اور اس کی ایک کروڑ سےزیادہ کاپیاں فروخت ہوچکی ہیں۔ اس میں سٹیفن ہاکنگ نے بہت آسان انداز میں بہت پیچیدہ کانسپٹس سمجھانے کی کوشش کی ہے۔

پھر مجھے سمجھ آیا کہ لوگ یہ کتاب خریدتے کیوں ہیں اور پڑھتے کیوں نہیں یا کم سے کم پوری کیوں نہیں پڑھ پاتے! جو بات سٹیفن ہاکنگ کو آسان لگتی تھی اسے سمجھنے کے لیے بھی سائنس کا مضبوط بیک گراؤنڈ ضروری تھا۔

میری بیٹی اب امریکہ کی ایک بڑی یونیورسٹی میں پڑھ رہی ہے اور ہم اکثر یہ بات کرتے ہیں کہ اس کی زندگی کے سفر میں سٹیفن ہاکنگ کا بھی کچھ رول تھا۔

بس ہم انھیں کھی بتا نہیں سکے، لیکن یاد ضرور رکھیں گے!

اسی بارے میں