پریتولا راشد ایک نرم دل پائلٹ

نیپال کے دارالحکومت کٹھمنڈو کے ہوائی اڈے پر پیر کو ایک مسافر طیارے کو لینڈنگ کے دوران پیش آنے والے حادثے میں کم از کم 49 افراد ہلاک ہوئے۔ اس طیارے کو اڑانے والی 25 سالہ معاون پائلٹ پریتولا راشد کی یہ دوسری پرواز تھی۔

پریتولا راشد کی پہلی بین الاقوامی پرواز بھی کٹھمنڈو کی تھی۔ وہ گذشتہ ڈیڑھ سال سے پائلٹ کی حیثیت سے کام کر رہی تھیں۔

پریتولا کی ایک رشتہ دار تسامین رحمان نے بی بی سی بنگلہ کو بتایا کہ ان کے والدین اور متعدد رشتہ دار نہیں چاہتے تھے کہ وہ پائلٹ بنیں۔

یہ بھی پڑھیے

کٹھمنڈو: مسافر طیارے کے حادثے میں کم از کم 49 ہلاک

وہ یہ بات قبول نہیں کر سکتے تھے کہ ان کی اکلوتی اولاد ایک ایسا پیشہ اپنائے جہاں اس کی زندگی کو مستقل خطرہ رہے۔

تسامین رحمان نے بتایا ’ہمیں پریتولا کے پائلٹ بننے کے بعد سے اس خطرے کا علم تھا لیکن وہ اپنے شوق سے پائلٹ بنیں۔‘

ان کا مزید کہنا تھا ’پریتولا راشد ایک متجسس دماغ کی مالک تھیں۔ وہ مختلف چیزوں کے بارے میں جاننا چاہتی تھیں۔‘

تسامین رحمان کے بقول ’پریتولا ایک نرم دل خاتون تھیں اور انھوں نے گھر میں خرگوش اور مچھلیاں پال رکھی تھیں۔

انھوں نے کہا کہ ان کی کزن کی گلی کے کتوں سے بھی لا متناہی محبت تھی۔ انھوں نے بچپن میں اپنے والد کے سانس کھینچنے والے آلے کی مدد سے ایک کتے کی سانس کی تکلیف کا علاج کرنے کی کوشش کی۔

تسامین رحمان کا مزید کہنا تھا کہ ایک بار پریتولا کے گھر ایک چڑیا آ گری جس کے پر ٹوٹے ہوئے تھے۔ انھوں نے زخمی چڑیا کا بڑی توجہ سے علاج کیا تاہم وہ چڑیا مر گئی تاہم انھوں نے اگلے دو، تین دن تک کھانا نہیں کھایا۔

اسی بارے میں