مودی کو اب اپنی حکومت کا حساب دینا ہو گا

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی سنہ 2014 میں جب اقتدار میں آئے تو پارلیمنٹ میں ان کے نیشنل ڈیموکریٹک الائنس کو زبردست اکثریت حاصل ہوئی تھی۔

یہی نہیں خود بی جے پی کو اتنی سیٹیں ملی تھیں کہ وہ اپنے ہی زور پر حکومت تشکیل دینے کی مجاز تھی۔ اپوزیشن ٹوٹ چکا تھا۔ سب سے بڑی جماعت کانگریس کو 50 سے بھی کم سیٹیں ملیں اور وہ پارلیمنٹ میں باضابطہ اپوزیشن پارٹی کا درجہ تک نہ حاصل کر سکی۔

مودی حکومت کے اقتدار کے چار برس بعد اس کی سب سے مضبوط اتحادی تیلگو دیشم پارٹی نے بی جے پی کے اتحاد سے الگ ہونے کا اعلان کیا ہے۔ یہی نہیں اس نے حکومت کے خلاف پارلیمنٹ میں عدم اعتماد کی تحریک پیش کی ہے جس کی حزب اختلاف کی سبھی جماعتوں نے حمایت کرنے کا اعلان کیا ہے۔

پارلیمنٹ میں بی جے پی کو اب بھی اکثریت حاصل ہے اور اسے اعتماد کی تحریک میں شکست دینا مشکل ہو گا۔ لیکن یہ تحریک اس بات کی غماز ہے کہ مودی حکومت سیاسی طور پر کمزور ہوئی ہے اور اپوزیشن کا منتشر اعتماد واپس آ رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

٭ کیا مودی مقبولیت کھو رہے ہیں

٭ بی جے پی کو اترپردیش میں جھٹکا

سنہ 2019 میں پارلیمانی انتخابات ہونے والے ہیں۔ وزیر اعظم مودی رہنما کے طور پر اب بھی سب سے زیادہ مقبول ہیں اور ملک کی سیاست کے سب سے قدآور رہنما ہیں۔ لیکن گذشتہ پارلیمانی انتخابات کی طرح اس بار بی جے پی کے لیے صرف مودی کی مقبولیت پر انتخاب جیتنا مشکل ہو گا۔ مودی کی مقبولیت بھلے ہی برقرار ہو لیکن ان کی حکومت کی مقبولیت بظاہر کم ہوتی جا رہی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption وزیر اعظم نریندر مودی اور ان کے رفیق اور بی جے پی کے صدر امت شاہ انتخابی رو میں ہی نظر آتے رہے ہیں

پچھلے دنوں گورکھپور اور پھول پور کے ضمنی انتخابات بی جے پی کے لیے وارننگ سگنلز ہیں۔ گورکھپور نہ صرف وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ کا حلقہ ہے بلکہ وہ یہاں سے مسلسل پانچ بار انتخاب جیت چکے ہیں۔ لیکن اس بار بی جے پی کے امیدوار کو یہاں شکست کا سامنا ہوا۔ یہ شکست اس لیے ممکن ہوئی کیونکہ ریاست کی دو سخت حریف جماعتیں سماجوادی پارٹی اور بہوجن سماج پارٹی ایک ساتھ آ گئیں۔

سنہ 2014 کے انتخابات میں بی جے پی نے اتر پردیش کی 80 سیٹوں میں سے 73 سیٹوں پر کامیابی حاصل کی تھی۔ بی جے پی کے اقتدار میں آنے میں یوپی اور بہار کا سب سے اہم رول تھا۔ لیکن یہ صورتحا ل بدلتی ہوئی محسوس ہو رہی ہے۔ بہار کی ارریا سیٹ پر لالو پرشاد یادو کی جماعت راشٹریہ جنتا دل کامیاب ہوئی ہے۔ لالو یادو کرپشن کے جرم میں جیل میں ہیں اور پارٹی کی قیادت ان کے بیٹے تیجسوی یادو کے ہاتھ میں ہے۔ ماہرین کا خیال تھا کہ یہ پارٹی اب انتشار کی دہلیز پر ہے اور تیجسوی کی قیادت میں اس کا جلد ہی خاتمہ ہو جائے گا۔

یہ بھی پڑھیے

٭ مودی سرکار: نعرے بہت مگر کارکردگی؟

٭ مودی کا انقلاب جو نظر نہیں آتا

اس کے بر عکس پارٹی نے حکمراں بی جے پی اور جنتا دل یونائیٹڈ کی تمام تر کوششوں کے باوجود نہ صرف ارریا کی سیٹ جیت لی بلکہ نوجوان تیجسوی سیاست میں اب پہلے سے زیادہ پختگی کے ساتھ آگے بڑھتے ہوئے محسوس ہو رہے ہیں۔ ارریا کی جیت سے یہ واضح ہے کہ راشٹریہ جنتا دل سنہ 2019 کے انتخابات میں بہار میں بی جے پی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہو گی۔

بی جے پی تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption معاشی مشکلات کے باوجود بی جے پی اب بھی انڈیا کی مقبول ترین جماعت ہے

ادھر اترپردیش میں سماجوادی پارٹی کے رہنما اکھیلیش یادو نے دلت پارٹی، بہوجن سماج پارٹی کی رہنما مایاوتی سے ملاقات کی ہے۔ اکھیلیش نے کہا ہے کہ جس طرح دونوں جماعتوں نے گورکھپور اور پھولپور میں ساتھ مل کر انتخاب لڑا اسی طرح وہ اس اتحاد کو آگے بھی برقرار رکھیں گے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر پارلیمانی انتخابات میں ان دونوں جماعتوں میں اتحاد ہو گیا تو بی جے پی اتر پردیش میں پچھلے انتخاب کے مقابلے کم از کم 50 نشستیں کھو دے گی۔ یعنی اسے 80 میں سے صرف 23 سیٹیں ملیں گی۔ یہ صورتحال وزیر اعظم مودی کے لیے کافی پریشان کن ہو سکتی ہے۔

اقتدار میں آنے سے پہلے مودی نے ہر بر س کروڑوں ملازمتیں دینے کا وعدہ کیا تھا۔ انھوں نے کہا تھا کہ وہ ملک سے کرپشن ختم کر دیں گے اور غیر ممالک کے بینکوں میں جمع اربوں ڈالر کا کالا دھن چند مہینے میں ملک واپس لائیں گے۔

یہ بھی پڑھیے

بی جے پی اپنے ہی گڑھ میں کمزور پڑ رہی ہے

’یا اللہ گجرات جتا دے‘

ٹیکسوں میں اصلاح کی جائے گی۔ کسانوں کی آمدنی دگنی کر دی جائے گی۔ اس طرح کے بہت سے وعدے انھوں نے عوام سے کیے تھے۔ ان کی حکومت کے چار برس ہو چکے ہیں لیکن ان میں سے بیشتر وعدے پورے ہوتے ہوئے نظر نہیں آ رہے۔ حکومت کے تئیں عوام میں بیزاری بڑھ رہی ہے۔

آخری ایک برس وزیر اعظم مودی اور ان کی حکومت کے لیے انتہائی اہم ہے۔ لیکن بچے ہوئے ایک برس میں وہ سب کچھ کر پانا جو وہ چار برس میں نہیں کر سکے ممکن نہیں ہے۔ مودی اور ان کے رفیق اور پارٹی صدر امت شاہ ابھی سے ہی سنہ 2019 کے پارلیمانی انتخابات کی حکمت عملی تیار کرنے میں مصروف ہیں۔

کئی ریاستوں میں پارٹی اور آر ایس ایس کے کارکن سرگرم ہیں۔ لیکن اگلے انتخاب میں مودی کی سب سے بڑی مشکل یہ ہے کہ پچھلی بار کی طرح وہ ہر ناکامی اور خرابی کے لیے کانگریس کی حکومت کو ذمے دار نہیں ٹھہرا سکیں گے۔ اس بار انھیں اپنی حکومت کا حساب کا دینا ہو گا۔

اسی بارے میں