ہمیں جنگ جیتنی نہیں بلکہ اسے ختم کرنا ہے، پاکستان ہماری مدد کرے: اشرف غنی

ولسمشر غني تصویر کے کاپی رائٹ ARG
Image caption فریقین نے ایک دوسرے کے تحفظات کو سمجھتے ہوئے ان کا بہتر حل نکالنے کے لیے تعاون بڑھانے پر زور دیا

افغان صدر اشرف غنی نے پاکستانی وزیرِ اعظم کو افغانستان کے دورے کی دعوت دیتے ہوئے ماضی کو چھوڑ کر آگے بڑھنے اور امن کے حصول کی مشترکہ کوششوں کی پیش کش کی ہے۔

یہ باتیں انھوں نے پاکستان کے قومی سلامتی کے مشیر لیفٹیننٹ جنرل رہٹائرڈ ناصر خان جنجوعہ کے افغانستان کے دورے کے دوران ان سے ملاقات میں کہیں۔

لیفٹیننٹ جنرل رہٹائرڈ ناصر خان جنجوعہ نے یہ دورہ افغان ہم منصب حنیف اتمر کی دعوت پر کیا۔

’پاکستان سے جامع سیاسی مذاکرات کے لیے تیار ہیں‘

عالمی برادری پاکستان کی قربانیوں کو تسلیم کرے: چین

’پاکستان کو قربانی کا بکرا بناکر امن نہیں لایا جاسکتا‘

قومی سلامتی کے مشیر کے دفتر سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق افغان صدر اشرف غنی نے پاکستان سے گہری امیدوں کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ہم نے امن کے لیے سنجیدہ اور مخلصانہ پیشکش کی ہے۔ ہمیں ماضی سے نکل کر اس کے بہترین نتائج حاصل کرنے ہیں۔‘

افغان صدر کا کہنا تھا ’ماضی کا قیدی بنے رہنے کی بجائے چلیں اس سوچ کے ساتھ اپنا مستقبل محفوظ کرتے ہیں کہ ہمیں جنگ جیتنی نہیں بلکہ اسے ختم کرنا ہے اور اس کے لیے پاکستان کو ہماری مدد کرنی چاہیے۔‘

انھوں نے پاکستانی وزیر اعظم کو بھی افغانستان آنے کی دعوت دی۔

پاکستان کے قومی سلامتی کے مشیر نے افغان رہنماؤں کے مثبت انداز کا خیر مقدم کرتے ہوئے امن کوششوں کو جنگ کی اندھیری سرنگ کے سرے پر روشنی کی کرن قرار دیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ TWITTER
Image caption پاکستان کے قومی سلامتی کے مشیر نے افغان صدر اور اپنے افغان ہم منصب کے علاوہ چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ، وزیر دفاع اور افغان قومی سلامتی کے سربراہ سے بھی ملاقات کی

ناصر خان جنجوعہ نے جنگ جیتنے کے بجائے جنگ ختم کرنے کو صحیح اقدام قرار دیا۔ انھوں نے افغان عوام کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا جنھوں نے گذشتہ 40 سال سے صرف جنگ کا ماحول ہی دیکھا ہے۔

قومی سلامی کے مشیر لیفٹیننٹ جنرل رہٹائرڈ ناصر خان جنجوعہ نے افغانستان میں امن کوششوں کے لیے مکمل حمایت کا اظہار بھی کیا۔

تاہم انھوں نے اس بات کو بھی اجاگر کیا کہ ’دہشت گردی کے حوالے سے پاکستان کو الزام دے کر تنہا کر دیا گیا ہے اور دنیا افغانستان کے معاملے میں پاکستان کو ذمہ دار سمجھ کر اس کی ساکھ مجروح کر رہی ہے جو کہ ٹھیک نہیں ہے۔‘

ان کا کہنا تھا ’ہمیں ایک دوسرے کے ساتھ باہمی امور پر معاہدہ کرنا ہوگا اور افغانستان کو چاہیے کہ وہ پاکستان کے ساتھ کھڑا ہو اور دونوں ممالک ایک ساتھ امن حاصل کر سکیں۔‘

’ہمارا امن مشترکہ ہے، چلیں اسے ایک ساتھ تلاش کریں۔‘

پاکستان کے قومی سلامتی کے مشیر نے افغان صدر اور اپنے افغان ہم منصب کے علاوہ چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ، وزیر دفاع اور افغان قومی سلامتی کے سربراہ سے بھی ملاقات کی۔

پاکستان کی بعض شکایت جائز ہیں: امریکہ

’پاکستان افغان طالبان سے مذاکرات میں مدد کے لیے تیار‘

دونوں فریقین نے امن اور استحکام کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا اور مستبقل کے لیے مل کر کام کرنے اور معاون طریقہ کار وضع کرنے کی بات کی۔

فریقین نے ایک دوسرے کے تحفظات کو سمجھتے ہوئے ان کا بہتر حل نکالنے کے لیے تعاون بڑھانے پر زور دیا۔

افغانستان کے سلامتی کے مشیر حنیف اتمر نے کہا ’یہ وقت پل بنانے کا ہے۔ ہماری تاریخ اور مستقبل ایک ہے۔ ہماری آباؤ اجداد نے یہ ہمارے لیے چھوڑا اور یہی تعلق ہم اپنے بچوں کے لیے چھوڑ کر جا رہے ہیں۔ ہمیں اپنے مشترکہ مفادات پر کام کرنا چاہیے جن میں سیاست، معیشت اور سلامتی شامل ہیں۔ ہمیں اپنے تعلقات کو بچانا چاہتے اور مستقبل میں اسے اور بہتر کرنا چاہیے۔‘

بیان کے مطابق ایسے ہی خیالات کا اظہار افغان حکومت کی جانب سے بھی کیا گیا۔

اسی بارے میں