HerChoice#: 'شوہر کو بتائے بغیر نسبندی کرا لی'

اپنے شوہر سے پہلے بھی جھوٹ بول چکی تھی اور اس کا نفع نقصان سمجھتی تھی لیکن اس بار یوں لگا جیسے میں اندھے کنویں میں چھلانگ لگا رہی ہوں۔

پہلے بات کچھ اور تھی۔ میں نے اپنے شوہر کو اپنی تنخواہ اصل سے کم بتائی تھی تاکہ میں کچھ پیسہ جمع کر سکوں اور انھیں شراب میں پیسے اڑانے سے باز رکھوں۔

مجھے پتہ تھا کہ پکڑے جانے پر مار پڑے گی۔ آنکھوں پر ورم آئے گا، آنتوں میں درد ہوگا، کمر پر کچھ نشان آئیں گے۔ لیکن یہ اطمینان تھا کہ بینک کے فکسڈ ڈپازٹ سے وہ رقم نہیں نکال سکیں گے۔

میری میڈم (مالکن) نے یہ بات مجھے بتائی تھی ورنہ بینک میں اکاؤنٹ کھولنا اور پیسہ جمع کرنا مجھے جیسی ایک گاؤں کی لڑکی کے بس کی بات کہاں تھی؟

آج بھی جو کرنے جا رہی تھی اس کے بارے میں میڈم نے ہی بتایا تھا۔ لیکن دل منہ کو آ رہا تھا۔ اس بار میرا جسم داؤ پر تھا اور سنا تھا کہ اس آپریشن میں موت بھی ہوسکتی ہے۔

لیکن اب تو زندگی بھی موت جیسی لگنے لگی تھی۔ میری عمر 22 سال تھی لیکن میں 40 سال کی نظر آنے لگی تھی۔

جسم ہڈیوں کا ڈھانچا رہ گیا تھا۔ آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے بن گئے تھے اور چہرے پر معصومیت کی جگہ تھکان تھی۔ جسم جوان نہیں رہا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

٭ طلاق کے بعد خود سے پیار کرنا سیکھا

٭ 'میں شادی شدہ نہیں، اسی لیے تمہارے والد نہیں'

چلنے پر محسوس ہوتا تھا کہ کمر بھی قدرے جھک گئی ہے۔ اور یہ ہر کسی کو نظر آتا تھا لیکن جو کچھ میرے اندر بکھرا تھا اس کی گونج صرف میرے کانوں میں تھی۔

ابتدا میں کچھ غلط نہیں لگتا تھا۔ 15 سال کی عمر میں شادی ہوئی اور شہر آ گئی۔ شوہر کام سے گھر لوٹتے تو کھانے کے بعد انھیں بستر میں میری ضرورت ہوتی۔

صرف ضرورت۔ میں صرف ایک جسم تھی جس کے جذبات سے اسے کوئی سروکار نہیں تھا۔

اور مجھے اس سے زیادہ کی توقع بھی نہیں تھی۔ ماں نے بتایا تھا کہ ایسا ہی ہوتا ہے۔

یہاں تک ٹھیک تھا۔ پھر پہلی بیٹی پیدا ہوئی۔

پھر پہلی بار مار پیٹ۔

پھر اس نے پہلی مرتبہ شراب پی۔

پھر بستر میں سارا غصہ نکالا۔

پھر دوسری بیٹی پیدا ہوئی۔

پھر اس نے کام چھوڑ دیا۔

پھر میں نے کام کرنا شروع کر دیا۔

پھر تیسری بیٹی ہوئی۔

'بیٹے کی خواہش پر ٹکی تھی میری زندگی'

مجھ سے مار پیٹ، میرے ہی پیسے سے شراب نوشی اور بستر میں میرے ہی جسم کا شیطان کی طرح استعمال، سب کچھ جاری رہا اور میں خاموش رہی۔ عورت کے ساتھ ایسا ہوتا ہے۔ ماں نے بتایا تھا۔

چوتھی بار جب میں پھر حاملہ ہوئی اس وقت میں 20 سال کی تھی۔ میڈم (جن کے گھر میں کام کرتی تھی) نے جب میرے پیٹ کو پھولتے دیکھا تو وہ ناراض ہو گئیں۔

یہ بھی پڑھیے

٭ ’جب جنسی طور پر کمزور مرد سے میری شادی ہوئی‘

٭ ’میں معذور ہوں، وہ نہیں، پھر بھی ہم لو ان ریلیشن میں رہے‘

پوچھا، کیا بچے کو پیدا کر سکوگی؟ جسم میں خون بھی ہے؟ میں نے کہا: 'ہو جائے گا۔'

میں نے سوچا بڑے گھر کی عورت میرے حالات کو کیا سمجھ پائے گی۔ مجھے بیٹے کی پیدائش تک یہ سب برداشت کرنا ہے۔

بینک میں پیسہ جمع کرنے کے لیے مشورہ اور مدد مختلف بات تھی لیکن گھر کی یہ باریکی انھیں نہیں سمجھا سکتی تھی۔

جی میں آتا تھا کہ سب کچھ چپ چاپ ہو جائے کسی کو پتہ نہ چلے کہ میں حاملہ ہوں۔ جسم میں تغیر نہ ہو اور میری کہانی عام نہ ہو جائے۔

مجھے یقین تھا کہ بیٹا ہوگا تو سب ٹھیک ہوجائے گا۔ مار پیٹ، شراب اور بستر کا منحوس سلسلہ ٹوٹ جائے گا۔ اور اس بار بیٹا ہی ہوا!

'لیکن تشدد بند نہیں ہوا'

جب نرس نے بتایا کہ بیٹا ہوا ہے تو میں نے رونا شروع کر دیا۔ 10 گھنٹے کا درد زہ اور کمزور بدن کے ساتھ نو ماہ تک پیٹ میں بچہ رکھنے کی تھکن جیسے ایک پل میں غائب ہوگئی۔ لیکن پھر۔۔۔ کچھ نہیں بدلا۔ وہی سلسلہ جاری رہا۔

اب میری غلطی کیا تھی؟ اب تو میں نے بیٹا بھی پیدا کر دیا تھا۔ لیکن میرے شوہر کو شاید شیطان بننے کی عادت ہو گئی تھی۔

میرا جسم ٹوٹ چکا تھا۔ پھر سے حمل نہ ٹھہرجائے یہ ڈر ستاتا رہتا تھا۔

ایک دن میرا بے جان چہرہ دیکھ کر میڈم نے مجھ سے پوچھا: 'اگر ایک چیز بدلنی ہو اپنی زندگی میں تو کیا بدلوگی؟' چہرے پر ایک پھیکی ہنسی آئی۔ اپنی خواہش کے بارے میں نہ کبھی سوچا تھا اور نہ کسی نے مجھ سے کبھی پوچھا تھا۔

لیکن اس بار بات ہنسی میں نہیں ٹال سکی اور خوب غور کیا۔ ایک ہفتہ بعد میڈم سے کہا کہ میرا جواب تیار ہے۔ وہ اس وقت تک شاید بھول بھی گئی تھی۔

نس بندی کا فیصلہ

ہر چوائس

میں نے کہا کہ 'میں پھر سے ماں بننا نہیں چاہتی۔' لیکن میں نہیں جانتی کہ اپنے شوہر کو کیسے روکوں۔ میں نے سمجھانے کی کوشش کی۔ چار بچوں کو کھلانے کے پیسے نہیں ہیں۔ لیکن بستر اس سے نہیں چھوٹتا۔ اسے میرے کمزور جسم کی پرواہ نہیں۔ اور جب بچوں کی ذمہ داری نہیں لی تو پھر اس سے کیا خوف؟

پھر میڈم نے کہا: 'نسبندی کرالو۔ یہ تمہارے اپنے ہاتھوں میں ہے۔ اسے رات میں چاہے نہ روک سکو لیکن کم از کم حاملہ ہونے سے تو بچ جاؤ گی۔'

مجھے اس کے متعلق کوئی علم نہیں تھا۔ کئی دن گزر گئے۔ بہت سے سوالات تھے۔ جب میڈم جواب دیتے دیتے تھک گئی تو انھوں نے ایک کلینک کا پتہ تھما دیا۔

وہاں میری جیسی کئی عورتیں تھیں۔ ان سے پتہ چلا کہ آپریشن تو جلدی ہو جاتا ہے لیکن اگر کچھ غلط ہوجائے تو پھر جان بھی جا سکتی ہے۔

مہینے کی ادھیڑ بن کے بعد جب شوہر اور بچوں سے جھوٹ بول کر تنہا کلینک آئی تو بھی یہی خوف تھا۔

لیکن میں تھک گئی تھی۔ خوف اور مایوسی دونوں تھی۔ ایسا کرنا خطرناک تھا لیکن اس کی توقع تھی کہ کم از کم اس کے بعد میری زندگی کا ایک سرا میرے کنٹرول میں ہوگا۔

یہ بھی پڑھیے

٭ 'بستر میں جبر کرنے والے شوہر کو میں نے چھوڑ دیا'

٭ 'میں نے بغیر شادی کے بچہ پیدا کرنے کا فیصلہ کیوں کیا؟'

پھر میرا آپریشن ہوا۔ اور میں مری نہیں۔ کچھ دن لگے۔ کمزوری رہی، درد رہا لیکن اب سب ٹھیک ہے۔

آپریشن کو دس سال ہو گئے ہیں اور اب میں 32 سال کی ہوں۔ میں پھر کبھی ماں نہیں بنی۔ میرے شوہر کو کچھ عجیب سا محسوس نہیں ہوا۔

اس کی زندگی اب بھی شراب، مار پیٹ اور بستر کے درمیان گزرتی ہے۔ اسے شاید کوئی فرق نہیں پڑتا۔

اور میں بھی وہی کر رہی ہوں جو مجھے کرنا ہے۔ میڈم کے گھروں میں کام اور ان سے موصول ہونے والے پیسے سے بچے پالنا۔

شوہر کو چھوڑ نہیں سکتی۔ ماں نے کہا تھا۔ ان کی عادت کو تبدیل نہیں کر سکتی۔ لہذا میں ہی اس کی عادی ہو گئی ہوں۔

اس بات کا اطمینان ہے کہ اگر اس نے میرا خیال نہیں رکھا تو میں نے تھوڑا بہت اپنا خیال رکھ لیا۔

میرا آپریشن میرا راز ہے۔ مجھے فخر ہے کہ ایک فیصلہ تھا جو کہ میں نے صرف اپنے لیے کیا۔

(یہ انڈیا کی شمالی ریاست کی ایک خاتون کی سچی کہانی ہے جو انھوں نے بی بی سی نمائندہ دیویا آریہکو سنائی۔ خاتون کی خواہش پر ان کا نام ظاہر نہیں کیا گيا ہے۔ اس سیریز کی پروڈیوسر دیویا آریہ ہیں۔)

اسی بارے میں