چین کے صدر شی جن پنگ کا ملک کی تقسیم کی کوشش پر انتباہ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

چینی صدر شی جن پنگ نے ملک کو تقسیم کرنے کی کسی بھی کوشش کے خلاف خبردار کیا ہے۔

انھوں نے نیشنل پیپلز کانگریس (این سی پی) کے پارلیمانی سالانہ اجلاس سے اختتامی خطاب کے دوران یہ بات کہی۔

انھوں نے کہا کہ چین اپنے راستے پر آگے بڑھنے کی کوشش کرتا رہے گا۔ ان کے مطابق یہ تائیوان کے ساتھ چین کی پرامن اتحاد کی کوشش ہے۔

ان کا یہ بیان امریکہ کی اس منظوری کے بعد آیا ہے جس میں امریکہ نے اپنے اعلی حکام کو تائیوان دورے کی اجازت دی ہے۔

چينی صدر نے کہا: 'چینی عوام کا مشترکہ خیال ہے کہ انھوں نے کبھی بھی اپنے عظیم ملک کا ایک انچ حصہ بھی اپنے سے علیحدہ نہیں ہونے دیا اور یہ ناممکنات میں ہے۔'

یہ بھی پڑھیے

٭ صدر شی جن پنگ چیئرمین ماؤ کی صف میں شامل

* کیا چین کا عالمی قد کاٹھ بڑھ رہا ہے؟

خیال رہے کہ واشنگٹن کا تائیوان کے ساتھ باضابطہ رشتہ نہیں ہے اور چین ایسے کسی اقدام کی مخالفت کرتا ہے جس سے بین الاقوامی برادری کو یہ پیغام جائے کہ تائیوان ایک آزاد اور خود مختار ملک ہے۔

این سی پی کےاختتامی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے تائیوان کی علیحدگی اور چین کو منقسم کرنے کے خلاف متنبہ کیا۔

اس کے علاوہ صدر شی جن پنگ نے کہا کہ صرف سوشلزم نظام ہی چین کا تحفظ کر سکتا ہے۔

اجلاس تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption صدر نے پارلیمان کے سالانہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے لوگوں کے لیے کام کرنے کی بات کہی

انھوں نے کہا: 'تاریخ نےثابت کر دیا ہے اور مسلسل ثابت کر رہی ہے کہ صرف سوشلزم ہی چین کو بچا سکتا ہے۔'

انھوں نے کہا کہ ان کی نظر میں عوام اصل ہیرو ہیں اور انھیں بشمول تمام دوسرے سیاست دانوں کے لوگوں کے مفاد کے لیے سخت محنت کرنا چاہیے۔

صدر شی جن پنگ نے کہا کہ ان کا ملک مضبوط ہوگا لیکن جارح نہیں ہوگا اور وہ اپنی ترقی باقی دنیا کی قیمت پر نہیں کرے گا۔

تاہم انھوں نے کہا کہ اپنی ترقی پر چین آسودہ خاطر نہیں ہو سکتا۔

یہ بھی پڑھیے

٭ چینی کانگریس کی منظوری، شی جن پنگ ’تاحیات صدر‘

٭ شی جن پنگ، غار سے ایوانِ صدر تک

خیال رہے کہ دس دن قبل گانگریس نے صدارت کی میعاد پر مقرر حد کو ختم کرنے کے لیے ووٹ دیے جس سے صدر شی جن پنگ غیر معینہ مدت تک یا تاحیات صدر رہ سکتے ہیں۔

گریٹ ہال میں اپنے خطاب میں انھوں نے چین کے لیے اپنے 'عظیم وژن' کا خاکہ پیش کیا اور ملک کو 'نئی توانائی' بخشنے کے اپنے حوصلے کا اعادہ کیا۔

اس کے ساتھ انھوں نے دنیا کے لیے چین کی عظیم دین کو آگے لے جانے کا بھی اعادہ کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption چین کا کہنا ہے کہ وہ کسی بھی علیحدگی پسندی کی کوشش کی مخالفت کرے گا

انھوں نے کاغذ اور بارود کی ایجاد سے لے کر دیوار عظیم اور چینی فلسفی کنفیوشس کی تحریروں کا ذکر چین کی بڑی تاریخی کامیابیوں کے طور پر کیا۔

صدر کے خطاب کے بعد وزیر اعظم لی کیچیانگ کی سالانہ نیوز کانفرنس ہوئی جس میں یہ کہا گیا کہ بیجنگ بازار کے اصول پر مبنی تعاون چاہتا ہے جس سے سب کو فائدہ حاصل ہوگا۔

مسٹ لی نے کہا کہ چین اپنے بازار کو مزید کھولے گا اس بات کی یقین دہانی کرے گا کہ ملکی اور بیرونی کمپنیاں چین کے بڑے بازار میں مساوی شرائط پر مقابلہ کر سکیں۔

خیال رہے کہ چینی وزیر اعظم کا بیان امریکی صدر ٹرمپ کی انتظامیہ کے حالیہ تحفظاتی بیانات اور محصول کو لاحق خطرات کے بالکل برعکس نظر آیا۔

چینی صدر نے کہا چین کو ترقی کرنے کے لیے متحد رہنا ضروری ہے اور تائیوان کے حوالے سے کہا کہ بیجنگ علیحدگی کی کسی بھی کوشش کو ناکام کر دیگا۔

اسی بارے میں