اروند کیجری وال کی معافیاں: معاف کردو بھائی!

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

عام آدمی کی زندگی کے مسائل ہی الگ ہیں، بس جو لوگ عام نہیں ہیں انھیں کبھی اس بات کا اندازہ نہیں ہوتا۔

جذباتی ہوکر کسی کو کچھ کہہ دیا اور پھر زندگی بھر یا تو عدالتوں کے چکر لگاؤ یا پھر معافی مانگتے پھرو۔

عام آدمی پارٹی کے رہنما اور دلی کے وزیراعلی اروند کیجریوال سے پوچھیے۔ انھیں دونوں کا بہت تجربہ ہے۔ عام ہونے کا بھی خاص ہونے کا بھی، الزام لگانے کا بھی اور اب معافی مانگنے کا بھی!

پہلے وہ بھی عام تھے، پھر وزیرا علی بن گئے۔ وہ جذباتی ہو کر کچھ کہنے میں دیر نہیں لگاتے اور آج کل اسی رفتار سے معافی بھی مانگ رہے ہیں جس رفتار سے کبھی اپنے یاسی حریفوں پر الزامات لگایا کرتے تھے!

اسی بارے میں

آپ تو ایسے نہ تھے!

عام آدمی پارٹی مخالفین کے لیے اب بھی چیلینج

انھوں نے بدعنوانی کے خلاف تحریک چھیڑی تھی جو اتنی مقبول ہوئی کہ وہ پلک جھپکتے ہی وزیر اعلی بن گئے۔ اور اس دوران جو بھی ان کے سامنے آیا بس اس کا جو حشر ہوا وہ سب جانتے ہیں۔

دیکھتے ہی دیکھتے ہتک عزت کے مقدمات کی فہرست لمبی ہوتی چلی گئی۔ اب سنا ہے کہ ملک کی مختلف عدالتوں میں تیس سے زیادہ مقدمات زیر سماعت ہیں!

گذشتہ ہفتےانھوں نے پنجاب میں اکالی دل کے ایک سینئر لیڈر بکرم سنگھ مجیٹھا سے معافی مانگی تھی، اور اب وفاقی وزیر نتن گڈکری اور کانگریس کے لیڈر کپل سبل اور ان کے بیٹے کو الگ الگ خط لکھ کر کہا ہے کہ بھائی جو ہو گیا سو ہو گیا، بے بنیاد الزامات لگانے پر انہیں افسوس ہے، معاف کر دیں، چلیے ماضی کو بھلاکر آگے بڑھتے ہیں!

ایک اور بڑا مقدمہ وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے قائم کر رکھا ہے۔ الزامات کی نوعیت زیادہ مختلف نہیں ہے۔۔۔ اس مقدمے کا انجام کیا ہوگا وقت ہی بتائے گا، لیکن عدالتوں کے معاملات میں قیاس آرائی نہ ہی کی جائے تو بہتر رہتا ہے، جیل میں صاف صفائی کا زیادہ انتظام نہیں ہوتا اور کھانے کا معیار بھی بس ۔۔۔۔ حکومتیں شاید یہ سمجھتی ہیں کہ خراب کھانا بھی سزا میں شامل ہے۔ بہر حال، اروند کیجریوال کو اس کا بھی تجربہ ہے، اپنی تحریک کے دوران وہ دو چار دن جیل میں بھی گزار چکے ہیں۔

معافیوں کا سلسلہ اسی رفتار سے جاری رہا تب بھی فری ہونے میں انہیں چھ سات مہینے تو لگ ہی جائیں گے۔

لیکن معافی مانگنا کوئی آسان کام نہیں ہے، اس لیے اروند کیجریوال کے فیصلے سے کچھ سبق سیکھے جاسکتے ہیں۔

ایک تو یہ کہ الزام بعد میں لگایا جائے ثبوت پہلے حاصل کر لیے جائیں۔ سن کر آپ کو تھوڑا عجیب لگے گا، آپ سوچیں گے کہ الزام لگانے میں جو مزہ ہے وہ ثبوت جمع کرنے میں کہاں؟ اور آج کل کی تیز رفتار زندگی میں اتنا وقت کس کے پاس ہوتا ہے؟ لیکن افسوس کہ عدالتیں اکثر صرف شواہد کی بنیاد پر کام کر تی ہیں، وہاں یہ دلیل نہیں چلتی کہ مائی لارڈ، ثبوت تو میرے پاس نہیں ہے، لیکن میرا دل یہ گواہی دے رہا ہے کہ یہ شخص بے ایمان ہے!

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

لیکن ایسا کرنے والے صرف اروند کیجریوال ہی نہیں ہیں۔ بہت سے دوسرے سیاسی رہنما اور کئی ٹی وی چینل (اور کافی کم حد تک کچھ اخبار) بھی بہت سی ایسی باتیں کہہ دیتے ہیں جو بے بالکل بےبنیاد ہوں اور شاذ و نادر ہی انہیں کوئی چیلنج کرتا ہے یا عدالت تک گھسیٹ کر لے جاتا ہے۔

یہ شاید ’سب چلتا ہے‘ کلچر کا حصہ ہے جہاں اب تک لوگ بولنے سے پہلے اس کے مضمرات پر زیادہ دھیان نہیں دیتے تھے۔ مغربی دنیا میں ایسا نہیں ہوتا اور اس کی جھلک نیوز چینلوں اور اخبارات میں بھی صاف نظر آتی ہے۔

یہاں صحافی ہو یا سیاستدان، کوئی بھی الزام لگانے سے پہلے دس بار سوچتے ہیں کہ ہتک عزت کا کیس تو نہیں بن جائے گا؟ شواہد اتنے ٹھوس ہیں یا نہیں کہ عدالت میں پرکھے جاسکیں۔ کیونکہ اگر غلط ثابت ہوئے تو بھاری قیمت ادا کرنا پڑسکتی ہے۔

اروند کیجریوال سیاست میں ایک نئی تازگی لے کر آئے تھے، انھوں نے ایک نئے انداز کی حکومت فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا۔۔۔ اور اب جس رفتار سے وہ معافی مانگ رہے ہیں اس سے لگتا ہے کہ وہ اپنے خلاف یہ مقدمات ختم کرانا چاہتے ہیں تاکہ حکمرانی پر توجہ دے سکیں، پارلیمان اور دلی کی اسمبلی، دونوں کے انتخابات اب زیادہ دور نہیں ہیں۔

یہ اچھا آئیڈیا ہے اور اس سے دوسرے لوگوں کو بھی یہ پیغام جاسکتا ہے کہ ذرا احتیاط سے کام لیں، نہیں لیتے تو ارون جیٹلی کے کیس پر ذرا نظر ڈال لیں، انھوں نے اروند کیجریوال سے دس کروڑ روپے کے ہرجانے کا مطالبہ کیا ہے۔

یہ امیر آدمی کبھی عام آدمی کے مسائل نہیں سمجھ پاتے۔ جیٹلی صاحب آپ تو وزیر خزانہ ہیں لیکن باقی کس نے دس کروڑ دیکھے ہیں؟ بہت سے عام آدمی یہ سوچ رہے ہوں گے کہ آپ ہتک عزت کے ہرجانے کے بہانے قومی بجٹ کا خسارہ پورا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں!

اور کیجریوال صاحب، آپ نے معافی تو مانگ لی، ہو سکتا ہے کہ اور لوگوں سے بھی مانگ لیں، لیکن اگلی بار جب آپ صحیح یا غلط کوئی الزام لگائیں گے تو بہت سے لوگوں کے ذہن میں یہ سوال تو آئے گا ہی کہ معافی نامہ بھی ساتھ ہی دے دیتے تو اچھا رہتا!

اسی بارے میں