کشمیر: ’ہم نے اسلام قبول کیا اور ہمیں اس کی سزا دی جارہی ہے‘

Image caption جیون سنگھ کا خاندان جو تقسیم ہند سے پہلے بارہ ایکٹر زمین کا مالک تھا اب وہ اس گھر میں رہتے ہیں

برصغیر کی تقسیم کو 70 برس بیت چکے ہیں لیکن پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں اب بھی کئی خاندان اپنی جائیداد کے مالکانہ حقوق کے لیے عدالتوں کے چکر لگا رہے ہیں لیکن ابھی تک ان کے مقدموں کا فیصلہ نہیں ہو پایا ہے۔

جیون سنگھ کا خاندان بھی آج تک اپنی جائیداد کے حصول کے لیے کوشاں ہے لیکن ابھی تک انھیں کامیابی نہیں ہو رہی ہے۔ تقسیم سے پہلے جیون سنگھ کےخاندان کے پاس آٹھ ایکڑ زمین تھی جس پر وہ ناشپاتی، سیب، گندم اور مکئی کاشت کرتے تھے۔ ان کی کئی دکانیں بھی تھیں۔

آج جیون سنگھ کے پوتے کسی اور کی زمین پر مزاعوں کے طور پر کام کرتے ہیں۔ وہ اس زمین جو ان کے دادا کی ملکیت کی تھی پر اپنا قبضہ حاصل کرنے کے لیے کئی عشروں سے عدالتوں کے چکر کاٹ رہے ہیں لیکن کوئی کامیابی ہوتی نظر نہیں آ رہی۔

تقسیم ہند کے وقت قریباً ایک کروڑ 20 لاکھ لوگوں نے ہجرت کی۔ ہندو اور سکھ جو پاکستان چھوڑ کر انڈیا چلے گئے تو ان کی جائیداد متروکہ وقف املاک بورڈ کے حوالے ہو گئیں۔

لیکن کشمیر میں ہر کوئی اپنا گھر چھوڑ کر نہیں گیا۔ کچھ لوگوں نے مہاجرین کے کیمپ میں پناہ لے لی جبکہ کچھ لوگ نے اسلام قبول کر لیا۔

اسی بارے میں مزید پڑھیں!

جب قبائلی جنگجوؤں نے کشمیر پر دھاوا بولا

کشمیر میں تبتی اور تبت میں کشمیری

’جہاں آنکھوں کے سامنے والدین مارے گئے‘

جنوبی ایشیا کے موجودہ نقشے کا ذمہ دار کون؟

وہ جنھوں نے ہجرت نہ کی اور 70 سال گزرنے کے بعد اس جائیداد کے مالکانہ حقوق تسلیم کرانے کےعدالتوں کا چکر کاٹ رہے ہیں لیکن ابھی تک وہ صرف ایک ایکٹر زمین کی ملکیت حاصل کر پائے ہیں۔

اس قانونی پیچیدگی کے پیچھے متروکہ جائیداد کا وقف بورڈ کا قانون بھی رکاوٹ بنا ہوا ہے جس کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اس جائیداد کو اس وقت تک سنھبال کر رکھے جب تک اقوام متحدہ کے تحت ہونے والے استصواب رائے میں یہ فیصلہ نہیں ہو جاتا کہ کشمیر پاکستان کا حصہ بنے گا یا انڈیا کا۔

جب قبائلی لشکر نے سنہ 1947 میں کشمیر کو انڈیا کے قبضے سے چھڑانے کے لیے کشمیرکا رخ کیا تو کشمیر کی غیر مسلم آبادی ان کے نشانے پر تھی۔

Image caption 1947 میں جب قبائلی لشکروں نے کشمیر کا رخ کیا تو غیر مسلم ان کے نشانے پر تھے

کئی ہندو اور سکھ مارے گئے اور جو بچ گئے وہ شہریوں کے تبادلے میں انڈیا بھیج دیے گئے۔ ان کی جائیدادیں متروکہ وقف املاک کے بورڈ کے حوالے کر دی گئیں۔

جب قبائلی لشکر نے 21 اکتوبر1947 میں حملہ کیا تو جیون سنگھ کے پاس وقت نہیں تھا کہ وہ اپنی بیوی اور تین بچوں کو مقامی گردوارے تک لے جا سکیں۔

جیون سنگھ کے 40 سالہ پوتے منیر شیخ بتاتے کہ ان کے دادا اپنی بیوی اور بچوں کو ایک مسلمان پڑوسی کے گھر میں چھوڑ کر سکھوں کے پاس چلے گئے تھے جو اپنے علاقے کے دفاع کے لیے منظم ہو رہےتھے۔ اس کے بعد کسی نے جیون سنگھ کو نہیں دیکھا۔

تین روز بعد جب قبائلی لشکر سری نگر پر حملہ کرنے کے لیے آگے بڑھ گیا تو جیون سنگھ کی بیوی بسنت کور حالات کا جائزہ لینے کے لیے پڑوسی کے گھر سے باہر نکلیں۔

جس طرح انھوں نے بعد میں اپنے خاندان کو بتایا کہ ان کا گھر بالکل تباہ ہو چکا تھا اور ہر طرف لاشیں بکھری ہوئی تھیں۔

جیون سنگھ کے پوتے منیر شیخ بتاتے ہیں کہ ان کی دادی بسنت کور نے اپنے شوہر کی تلاش کی بجائے اپنے بچوں کو محفوظ جگہ پر پہنچانے کی کوشش کی۔

اگلے کچھ دن 27 سالہ بسنت کور کے لیے انتہائی اہم تھے۔ بسنت کور نے اپنے بچوں کے ہمراہ 11 میل دور گاؤں پارسونچا کا رخ کیا جہاں ان کے خاندانی دوست مسلمان زمیندار کا گھر تھا۔

وہاں بسنت کور نے اسلام قبول کیا اور اپنے بچوں کی حفاظت کی خاطر ایک ادھیڑ عمر شخص سے ساتھ شادی کر لی۔

Image caption بسنت کور (مرکز) نے اپنے بچوں کو 1971 تک اپنے باپ جیون سنگھ کی جائیداد کے بارے میں کچھ نہیں بتایا

بسنت کور کا مسلمان نام مریم تھا، ان کا دوسرا شوہر سنہ 1954 میں وفات پا گیا۔ اب ان کے بیٹے اتنے بڑے ہو چکے تھے کہ وہ اب کاشتکاری کر سکیں۔ ایک زمیندار نے انھیں اپنی زمین ٹھیکے پر دے دی ۔ یہ ہی وہ جگہ ہے جہاں انھوں نے اپنا گھر بنایا اور آج تک وہیں رہائش پذیر ہیں۔

مریم (بسنت کور) نے اپنے بچوں کو اپنے باپ کی جائیداد کے بارے میں کچھ نہیں بتایا اور اس ڈر کے مارے کہ انھیں کوئی گرفتار کر لے گا کبھی انھیں مظفرآباد تک سفر کی بھی اجازت نہیں دی۔

لیکن سنہ 1971 میں ان کا پہلا پوتا پیدا ہوا تو بسنت کور (مریم) نے اپنے بڑے بیٹے فقیراللہ شیخ کو اپنے باپ جیون سنگھ کی جائیداد کا بتایا۔

منیر شیخ کہتے ہیں : ’دادی نے اپنے بیٹے کو بتایا کہ اب جب تمھیں وارث کی نعمت مل چکی ہے مجھے آپ کے خاندان کی جائیداد کے بارے میں بتانا چاہیے۔‘

بسنت کور سنہ 1997 میں وفات پا گئیں۔ ان کے بیٹے فقیراللہ شیخ جس نے اپنے خاندان کی جائیداد کو حاصل کرنے کے لیے قانونی چارہ جوئی شروع کی سنہ 2009 میں وفات پا گئے۔ اب اس قانونی جنگ کو آگے بڑھانے کی ذمہ داری منیر شیخ کے پاس ہے۔

لیکن جائیداد ہے کہ انھیں مل نہیں پا رہی۔

Image caption منیر شیخ کو عدالتی مقدمات سے کچھ حاصل نہیں ہوا

کشمیر کے سابق چیف جسٹس منظور گیلانی بتاتے ہیں کہ جیون سنگھ کی جائیداد کی ملکیت کے لیے 47 سال پہلے شروع ہونے والی قانونی جنگ کے بے نتیجہ ہونے کی وجہ وہ قانونی نظام ہے جو پاکستان کے زیرانتظام کشمیرمیں رائج ہے۔

یہ جائیدادیں کشمیر کے دونوں جانب متروکہ املاک وقف بورڈ کے انتظام میں چلی گئیں جن کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس وقت تک اس جائیداد کی حفاظت کریں جب تک اقوام متحدہ کے تحت استصواب رائے میں کشمیری یہ فیصلہ نہیں کر لیتے کہ انھیں پاکستان کے ساتھ رہنا ہے یا انڈیا کے ساتھ۔

انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں ایسی تمام جائیدادیں جو ایسے لوگوں کی ہیں جو کشمیر میں چھوڑ آئے وہ کسٹوڈین ڈیپارٹمنٹ کے پاس ہے جبکہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں متروکہ وقف املاک بورڈ کو یہ طاقت دے دی گئی کہ وہ اس جائیداد کے مالکانہ حقوق کو عارضی طور پر کشمیری مہاجر خاندان یا غریب مقامی افراد کو تقویض کیے جا سکتے ہیں۔

اس کا مطلب ہے کہ متروکہ جائیداد کے مالکانہ حقوق عارضی طور جس کو بھی مل جائیں وہ اس جائیداد کا اصل مالک بن جاتا ہے اور وہ اپنی مرضی سے اس کا استعمال کر سکتا ہے۔

اس سے دوسروں کے لیے مالکانہ حقوق کے دعوؤں کا راستہ کھل گیا، جن میں سے بہت سارے دعوے بظاہر بدعنوان اہلکاروں کی جعلی دستاویز کی بنیاد پر تھے۔

Image caption مظفرآباد میں قائم عدالت کسٹوڈین جائیداد متروکہ

جسٹس منظور گیلانی کہتے ہیں کہ ’اصولی طور پر، قانون کے مطابق جائیداد اس کے اصل مالک یا مالکہ کو واپس ملنی چاہیے اگر وہ واپس آکر اس پر دعویٰ کرتا یا کرتی ہے۔‘ وہ کہتے ہیں کہ ’لیکن اس میں پیچیدگیاں ہیں؛ جائیداد کئی ہاتھوں میں جا چکی ہوگی یا اس کی نوعیت تبدیل ہوچکی ہوسکتی ہے، ایسی واجب الادا رقم جو آپ دے نہیں سکتے یا دینا نہیں چاہتے اس کے علاوہ۔‘

جنھوں نے مذہب تبدیل کرتے ہوئے اسلام قبول کیا انھوں نے ناکافی رقوم اور معاشرتی مقام میں کمی کے باعث قانونی جھمیلوں میں خاص طور پر ناموافق حالات کا سامنا کیا۔

یہ حیران کن امر نہیں کہ اس وقت منیر شیخ اور ان کے خاندان کے پاس 45 سال تک قانونی لڑائیاں لڑنے کی سکت کم تھی۔

یہاں تک کہ وہ ایکڑ جو انھیں عدالتی فیصلے کے مطابق انھیں ملنا تھا ان کی پہنچ سے باہر تھا کیونکہ اس کا کچھ حصہ محکمہ جنگلات کے پاس تھا اور بقیہ ’مہاجرین‘ یا ’مقامی غریب‘ خاندانوں کو الاٹ کر دیا تھا، جن میں سے بیشتر بااثر مقامی افراد تھے جن کے پاس اپنی زمینیں بھی تھیں۔

منظور گیلانی کہتے ہیں ’عدالتی حکم اس وقت طاقتور ہے اگر آپ بااثر ہیں۔ اس کے بغیر حکم نامہ محض ایک کاغذ ہے جس پر یہ پرنٹ کیا ہوا ہے۔ ‘

Image caption مظفرآباد میں دریائے نیلم

منیر شیخ کی حالت زاہد شیخ اور ان کے خاندان جیسی ہے۔

مظفرآباد کے علاقے نالوچی میں 50 سالہ زاہد شیخ نے مجھے اپنی خاندانی جائیداد دکھائی۔ یہ دو گھروں پر مشتمل تھی جس کے درمیان میں ایک خاندانی قبرستان تھا۔

وہ کہتے ہیں کہ ’یہ جائیداد ایک بااثر وکیل کی بیوی کو الاٹ کر دی گئی ہے، جس نے خود کو مہاجر ظاہر کیا تھا، اور عدالت ہمیں یہ جگہ خالی کرنے کا حکم نامہ بھی جاری کر دیا ہے۔‘

جب قبائلیوں نے حملہ کیا تھا، ان کی دادی ٹھاکری ایک نوجوان بیوی تھیں (ان کے شوہر پرتشدد واقعات شروع ہونے سے قبل انتقال کر گئے تھے)، انھوں نے اپنے دو نوجوان بیٹوں اور بیٹی کو ساتھ لیا اور دریائے نیلم کے پل کے نیچے چھپ گئیں۔

وہ کئی دن تک وہیں رہے اور کسی موقع پر ان کی بیٹی کو حملہ آروں نے دیکھا لیا اور اس نے گرفتاری سے بچنے کے لیے دریا میں چھلانگ لگا دی۔ وہ دریا کے پانی میں بہتے ہوئے موت کے منہ میں چلی گئی۔

ٹھاکری اور ان کے بیٹوں کو ان کے خاندان کے ایک سابق ملازم نے بچایا جو ایک مسلمان تھا، اور انھیں ایک مقامی زمیندار اسلم خان نے مظفرآباد کی سرحد کے پاس گڑھی حبیب اللہ محصور شہروں کے ایک کیمپ میں بحاظت پہنچایا۔ وہاں وہ اپنے رشتے داروں کے ساتھ دوبارہ ملیں۔

ان کی معاشرتی حیثیت کو اس وقت تحفظ ملا جب زمیندار نے ان کی ایک بھتیجی سے شادی کر لی۔ اس وقت ٹھاکری نے انڈیا جانے کے بجائے اسلام قبول کر لیا اور تین سال بعد اسلم خان کے روابط کی بنیاد پر نالوچی میں اپنی جائیداد بھی حاصل کر لی۔

Image caption زاہد شیخ (دائیں) اور ان کے خاندان کو ان کے گھر سے بے دخلی کا سامنا ہے

زاہد شیخ نے بتایا: ’حملہ آوروں نے ہمارا گھر نذر آتش کر دیا تھا لیکن ہمارے احاطے کی ساتھ پہاڑی پر پتھروں کی مضبوط دیوار بنی ہوئی تھی، چنانچہ اسلم خان نے اس گھر کی دوبارہ تعمیر کے لیے مزدور اور سامان بھجوایا۔‘

وہ اس گھر میں مستقل طور پر سنہ 1959 میں منتقل ہوئے۔ زاہد کے والد کا انتقال سنہ 1973 میں ہوا جبکہ ٹھاکری سنہ 2000 تک زندہ رہیں۔

یہ واضح نہیں کہ ایسا کیسے ہوا لیکن سنہ 1990 میں اس گھر کو ’متروکہ جائیداد‘ قرار دے دیا گیا اور دوسروں کو الاٹ کر دیا گیا۔ خاندان کی جانب سے دائر کی جانے والی تمام اپیلیں مسترد ہوگئیں اور عدالت نے ان کے دونوں گھروں کو مسمار کرنے کا حکم دے دیا۔

اب خاندان کی امیدیں ایک حتمی اور آخری اپیل پر ہیں۔

گذشتہ ماہ پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کے وزیراعظم کو بھیجی گئی رحم کی درخواست میں اس خاندان نے استدا کی ہے کہ اگر انھیں ان کے گھر سے نکالا گیا ’تو ہمارے پاس کہیں جانے کی جگہ نہیں، اس سے بہتر ہے کہ ہمیں انڈیا بھیج دیا جائے، کیونکہ ہم نے اسلام قبول کیا اور ہمیں اس کی سزا دی جارہی ہے۔‘

اسی بارے میں